’معیشت خراب نہیں ہوئی، اسے لُوٹا گیا‘

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ ملکی معیشت خراب نہیں ہوئی بلکہ اس کو لوٹا گیا ہے اور قرضہ معاف کروانے کی روایت بااثر افراد نے ڈالی ہے۔

سپریم کورٹ نے ہر بینک سے دس بڑے نادہندگان کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

بدھ کے روز مختلف بینکوں اور مالیاتی اداروں سے معاف کروائے گئے قرضوں کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو افراد قرضہ لے کر اُسے بیرون ممالک لے کر گئے ہیں وہ کم از کم اس کی اصل رقم کی سرکاری خزانے میں جمع کروادیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر سٹیٹ بینک تعاون کرے تو وہ پارلیمنٹ سے کہیں گے کہ وہ قرضوں کی معافی کے حوالے سے قانون سازی کرے۔

سٹیٹ بینک کے وکیل اقبال حیدر کا کہنا تھا کہ ان قرضوں کی واپسی کے لیے نادہندہ افراد کو متعدد بار خطوط لکھے گئے ہیں لیکن ان پر بہت کم لوگوں نے عمل درآمد کیا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک نے کبھی بھی قواعد و ضوابط پر عمل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی غریب آدمی پچیس ہزار روپے کا قرض لے لے تو بینک کے اہلکار اُس کے گھر کا چکر لگاتے ہوئے نہیں تھکتے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کے سامنے ایسی مثالیں شاید نہ ہونے کے برابر ہیں جس میں غریبوں کے قرضے معاف کیے گئے جبکہ دوسری طرف ایسے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے جنہوں نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے کروڑوں روپے کے قرضے معاف کروائے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سٹیٹ بینک ان افراد سےقرضوں کی واپسی میں سنجیدہ نہیں ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ بھی اسی معاشرے میں رہتے ہیں اُنہیں معلوم ہے جب بھی کہیں اوپر سے فون آتا ہے تو تمام قوانین ایک طرف کردیے جاتے ہیں۔

سٹیٹ بینک کے وکیل کا کہنا تھا کہ تمام قرضے سیاسی طور پر معاف نہیں کروائے گئے بلکہ معاف کیے گئے قرضوں کی دیگر وجوہات بھی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ڈیفالٹ شروع سے ہی ہو رہا ہے بلکہ متعدد سیاست دانوں کے ذمے بھی قرضوں کی رقم واجب الاادا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اُن افراد کی فہرست بھی عدالت میں پیش کی جائے جنہوں نے مختلف بینکوں سے قرضے تو معاف کروائے لیکن اس کے باوجود اُن کی اربوں روپوں کی جائیدادیں ہیں۔

چیف جسٹس نے سٹیٹ بینک کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُن افراد کی فہرست بھی عدالت میں پیش کی جائے جن سے بینک کے خیال میں قرضوں کی واپسی مشکل ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر سٹیٹ بینک تعاون کرے تو عدالت سنہ اُنیس سو تہتر سے لے کر قرضوں کی واپسی کے لیے سترہ رکنی بینچ تشکیل دے سکتی ہے اور عدالت کا فیصلہ حتمی ہوگا۔

عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت بیس اکتوبر تک ملتوی کردی۔

اسی بارے میں