ڈرون حملے، شمالی وزیرستان میں مظاہرے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پہلی بار امریکی جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں جن میں کالج کے طُلباء کے علاوہ سینکڑوں شہریوں نے بھی شرکت کی ہے۔

میرانشاہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعرات کو شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں کالج کے طُلباء اور عام شہریوں نے مشترکہ طور پر امریکی جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

ڈرون کی جنگ

مقامی انتظامیہ نے مظاہروں کی تصدیق کی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ یہ مظاہرے کس کے کہنے پر کیے گئے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر نے بتایا کہ ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ شمالی وزیرستان کے مختلف تحصیلوں میرانشاہ دتہ خیل، میرعلی، سپین وام اور رزمک میں بازار مکمل طور پر بند تھے اور کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مظاہرہ دتہ خیل کے مقام پر ہوا جس میں پانچ سو سے زیادہ لوگوں نے حصہ لیا۔ اہلکار کے مطابق مظاہرے کی قیادت مولانا شیر علی کررہے تھے۔

مقامی لوگوں کے مطابق میرانشاہ میں کالج کے طُلباء کا ایک مظاہرہ ہوا جس میں عام شہریوں نے بھی شرکت کی۔مظاہرے کے دوران طُلباء نے بینرز بھی اُٹھا رکھے تھے جس پر امریکہ مُردہ باد اور ڈرون حملے بند کریں کے نعرے درج تھے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ میرانشاہ بازار میں احتجاجی مظاہرے کے وقت ایک چوک میں کچھ تصویریں آویزاں کی گئی تھیں جو ڈرون حملوں میں ہلاک ہوئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق تصویروں میں زیادہ تر بچے شامل تھے۔

شمالی وزیرستان کے شہریوں کا موقف ہے کہ جب سے ڈرون حملوں میں تیزی آئی ہے اور مقامی طالبان کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے تب سے عام شہریوں کے ہلاکت میں اضافہ ہوا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مقامی طالبان تو تقریباً ہر قیبلے میں موجود ہیں اور حملوں میں عام شہری بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال شمالی وزیرستان میں چونسٹھ ڈرون حملے ہوچکے ہیں۔اور جنوبی وزیرستان میں چھ ڈرون حملے ہوئے ہیں۔

سرکاری اہلکاروں کے مطابق ستمبر کے مہینے میں شمالی وزیرستان میں بیس ڈرون اور جنوبی وزیرستان میں تین حملے ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں