سندھ کیوں ڈوبا؟ چھٹی قسط

پاکستان بحریہ

پاکستان میں آنے والے تاریخی سیلاب میں صوبہ سندھ کے ایک بڑے علاقے کے متاثر ہونے کی کئی وجوہات پیش کی جا تی ہیں۔ کچھ لوگ اسے ایک قدرتی آفت مانتے ہیں تو کچھ اس تباہی کا زمہ دار پاکستان آرمی ٹھراتے ہیں۔ صوبہ پنجاب کی حکومت اور سندھی وڈیروں پر بھی اکثر اس تباہی کے زمہ دار ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ ان الزامات میں کتنی حقیقت ہے یہ جاننے کے لیے نامہ نگار اعجاز مہر نے کشمور سے کیٹی بندر تک دریائے سندھ کے دونوں جانب سفر کیا ہے۔ یہ اس سفر نامے کی چھٹی قسط ہے۔

سنیچراٹھارہ ستمبر

آج صبح اٹھے حال احوال معلوم کیا تو پتہ چلا کہ دادو کے پورے ضلع سے پیپلز پارٹی کے امیدوار ہی کامیاب ہوئے ہیں لیکن سیلاب کے بعد سے وہ ایک دوسرے پر تنقید کرتے پائے گئے ہیں۔ لوگوں کے مطابق ان کا انداز فکر اس دوران یہ رہا ہے کہ کسی طرح ان کا حلقہ بچ جائے باقی کوئی علاقہ ڈوبتا ہے تو ڈوبے۔

سندھ کیوں ڈوبا؟ پانچویں قسط

شہداد کوٹ ضلعے میں وارھ شہر کے مغرب میں واقع حمل جھیل سے پانی ’مین نارا ویلی ڈرین‘ یا ایم این وی ڈرین کے ذریعے منچھر جھیل میں آتا ہے جہاں سے اس پانی کو دریائے سندھ میں چھوڑا جاتا ہے۔ حمل اور منچھر جھیلیں اور ان کے درمیاں ایم این وی ڈرین انگریز سرکار کے دور میں بنیں تھیں۔ حمل جھیل پچیس کلومیٹر لمبی اور دس کلومیٹر چوڑی ہے۔ یہاں بلوچستان کے پہاڑوں اور ندی نالوں کا پانی جمع ہوتا ہے لیکن حالیہ سیلاب میں دریائے سندھ پر کشمور کے مقام پرٹوڑی بند ٹوٹنے کی وجہ سے آجک ل یہاں پانی گنجائش سے کہیں زیادہ جمع ہے۔

جب حمل جھیل میں پانی گنجائش سے بڑھ گیا تو جھیل کے ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہوا۔ ایسے میں شہداد کوٹ ضلعے کے با اثر لوگوں نے جھیل کے تمام دروازے کھول کر پانی دادو کی طرف چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس معاملے پر دادو ضلعے کے با اثر لوگ کہتے رہے کہ جتنا پانی ایم این وی ڈرین کے ذریعے آ سکتا ہے وہی آئے اور یہ کہ جھیل کے تمام دروازے نہ کھولے جائیں۔ لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر اس مشورے پر عمل کیا جاتا تو حمل جھیل کے پشتے ٹوٹ سکتے تھے جس سے شہداد کوٹ اور دیگر شہر بھی سیلاب کی نظر ہوجاتے۔

حمل جھیل سے منچھر جھیل تک ایم این وی ڈرین کی لمبائی تقریبا ایک سو آٹھ کلومیٹر بنتی ہے۔ شمال سے جنوب کی طرف بہنے والی اس ڈرین کا بایاں کنارا خاصہ مضبوط جبکہ دایاں کنارہ نسبتًا کمزور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانی کی مقدار زیادہ ہونے کی صورت میں وہ دائیں کنارے سے بہتا ہوا فلڈ پروٹیکشن یعنی ایف پی بند تک پھیل جاتا ہے۔

Image caption صوبہ سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی نظام کے ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان سے بھی امدادی کاروائیوں اثر پڑا ہے۔

ایم این وی اور ایف پی بند کے درمیان ابتداء میں تو فاصلہ کم ہے لیکن بعد میں یہ فاصلہ بتدریج کہیں ایک کلومیٹر تو کہیں بارہ کلومیٹر تک پھیل جاتا ہے۔ ایف پی بند منچھر جھیل سے آ کر ملتا ہے۔ ہوا یہ کہ جب حمل جھیل سے پانی زیادہ چھوڑا گیا تو ایم این وی ڈرین کے بائیں کنارے ضلع دادو کے شہر میہڑ، خیرپور ناتھن شاہ اور دادو شہر کو خطرہ لاحق ہوا اور دائیں کنارے پر واقع جوہی شہر کے ڈوبنے کا بھی خدشہ پیدا ہوا۔ میہڑ شہر تو بچ گیا لیکن میہڑ تحصیل کے بہت سے دیہات اور بعد میں خیر پور ناتھن شاہ شہر بھی ڈوب گئے۔ حالانکہ خیر پور ناتھن شاہ کو بچانے کے لیے سپریو بند اور اس کے بعد خدا واہ یا کینال بھی ہے۔

مقامی لوگوں کے بقول یہاں کے منتخب نمائندے ایم این وی ڈرین کی نگرانی اور بچاؤ کے لیے اس انداز میں نہیں آئے جس طرح دادو شہر کے عام لوگ وہاں پہنچے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر جوہی برانچ پر کالی موری کے قریب لگایا جانے والا شگاف اگر دس روز پہلے لگایا جاتا تو خیرپور ناتھن شاہ شہر نہ ڈوبتا۔ لیکن جوہی والوں کا موقف ہے کہ ان کے علاقے میں بھی انسان بستے ہیں اور جب پانی حد سے بڑھا تو پھر شگاف لگانا درست قدم تھا لیکن انتہائی حد تک پانی پہنچنے سے پہلے خیرپور ناتھن شاہ کو بچانے کی خاطر جوہی کو ڈبودینا درست نہ ہوتا۔

خیرپور ناتھن شاہ اور میہڑ کے کئی لوگ جہاں اپنے رکن قومی اسمبلی طلعت مہیسر اور اراکین سندھ اسمبلی عمران لغاری اور فیاض بٹ پر سخت ناراض لگے تو وہاں دادو کے رکن قومی اسمبلی رفیق جمالی اور صوبائی وزیر پیر مظہرالحق اور رکن سندھ اسمبلی سید غلام شاہ پر بھی اس الزام کے ساتھ کافی غصے میں نظر آئے کہ ان کے شہر کو ڈبونے میں ان حضرات کا کردار ہے۔ لیکن دادو اور جوہی شہر کے لوگوں کی نطر میں جمالی اور پیر ہیرو ہیں کیونکہ انہوں نے دونوں شہروں کے اطراف حفاظتی بند تعمیر کرانے اور ایم این وی کا پشتہ مضبوط کرنے کے لیے رات دن کام کیا۔

جوہی برانچ کالی موری کے پاس ایم این وی ڈرین کے اوپر سے گزرتی ہے۔ انگریز سرکار نے کالی موری کے پاس ایم این وی کے اوپر سٹیل کی پلیٹوں سے نہر گزاری تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ جب کالی پڑگئی تو اس کا نام کالی موری پڑا۔ لیکن بعد میں حکومت پاکستان نے کالی موری کے قریب سے ایم این وی ڈرین کے اوپر پل بنا کر جوہی برانچ کے گزرنے کا انتظام کیا۔

وہاں پہنچے تو بڑی تعداد میں خواتین اور بچے امداد کے منتظر پائے۔ ساتھ میں بحری فوج کا ایک کیمپ تھا جہاں ہوور کرافٹ اور موٹر بوٹس بھی موجود تھیں۔ وہاں موجود نیوی اہلکاروں نے بتایا کہ وہ خیرپور ناتھن شاہ کے علاقے سے اٹھائیس ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچا چکے ہیں۔

نیوی حکام سے متاثرہ خواتین اور بچے جب امداد لینے کے لیے آتے تو بندوق بردار فوجی انہیں بھگا دیتے۔ فوجی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس امدادی سامان بہت کم ہے جو وہ صرف پھنسے ہوئے لوگوں کو دیتے ہیں۔ اور یہ کہ محفوظ مقام پر پہنچنے والوں کو امداد پہچانا ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ آس پاس تاحد نگاہ پانی ہی پانی نظر آیا جس میں درجنوں دیہات ڈوبے ہوئے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے سمندر کراچی سے سرک کر یہاں پہنچ گیا ہو۔

کالی موری سے واپس دادو آئے اور پھر وہاں سے چھنڈن موری سے ہوتے ہوئے ایم این وی ڈرین کے کنارے پہنچے اور یہاں آسٹریلیا کی ایک تیل اور گیس کمپنی ’بی ایچ پی‘ کی فیلڈ دیکھی۔ یہ فیلڈ ایم این وی کے کنارے کے ساتھ ہی ہے اور جتنے دن بھی یہاں پانی کا دباؤ رہا ’بی ایچ پی‘ کی انتظامیہ نے یہاں ریت کی بوریاں ڈالیں اور مشینری منگوا کر اس کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ میں نے سوچا کہ کاش ایسے وسائل خیرپور ناتھن شاہ شہر کے باسیوں کو بھی میسر ہوتے تو شاید وہ بھی بچ جاتے۔

Image caption صوبہ سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد بے گھر ہوئی ہے۔

اپنے پیچھے مٹی اور دھول اڑاتی گاڑی کے ساتھ ساتھ میرے ذہن کے سکرین پر خیرپور ناتھن شاہ کے مصیبت کے مارے لوگوں کے حالات کی فلم بھی چلتی رہی۔ خیرپور ناتھن شاہ میں میرے کئی دوستوں رہتے ہیں اس کے علاوہ میرے لیے اس شہر کی ایک اور شناخت، شاعر وفا ناتھن شاہی بھی ہیں۔ وفا ناتھن شاہی کے خاندان والے پاکستان بننے کے وقت ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے تھے۔ بعد میں جب اردو بولنے والوں کے لیے ’کراچی چلو‘ مہم شروع ہوئی تو وہ اس میں شامل نہ ہوئے۔

وفا ناتھن شاہی کا مجھے ایک شعر یاد آیا جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے ’ روندتے کیوں ہو گھاس تو نہیں ہوں۔ نرم سہی بے سانس تو نہیں ہوں۔۔۔ غلطی مجھ سے ہوجاتی ہے آدم ہوں اللہ تو نہیں ہوں‘ ان کے اس شعر کو کئی لوگ استاد بخاری کا شعر سمجھتے رہے ہیں۔ میری سوچ کا سلسلہ اچانک گاڑی رکنے پر ٹوٹا۔ پتہ چلا کہ یہ رادھانی موری ہے اور یہاں سے جیپ آگے نہیں جاسکتی کیونکہ منچھر جھیل کا بند ٹوٹنے کی وجہ سے پانی چار کلومیٹر کے وسیع علاقے پر پھیلتے ہوئے انڈس لنک کے پشتے سے آ لگا ہے۔

ایم این وی کے پشتے کے دونوں جانب پانی ہے اور تیز ہوا کی وجہ سے یہ سیلابی پانی سمندر کی لہروں کی طرح پشتے سے ٹکرارہا ہے جس سے پشتے میں کٹاؤ پڑنا بھی شروع ہوگیا ہے۔ یہاں سے آگے سفر کے لیے موٹر سائیکل کا انتظام کیا اور منچھر جھیل تک پہنچے جہاں سے جھیل میں ایم این وی کا پانی داخل ہوتا ہے۔ وہاں ایک پل تھا جسے اب پانی بہا لے گیا ہے۔ ایم این وی کے پشتے پر اگر منچھر جھیل کی جانب منہ کرکے کھڑے ہوں تو دائیں طرف سے ایف پی بند بھی وہاں آکر ملتا ہے۔ جبکہ بائیں طرف سیہون منچھر یا ایس ایم بند ہے۔ پانی کا بہاؤ اب بھی اتنا تیز ہے کہ دیکھ کر ڈر محسوس ہوا۔ سیہون منچھر بند تین سے زیادہ جگہوں سے ٹوٹ چکا ہے جس کی وجہ سے جھیل کا پانی ہر جانب پھیلا نظر آتا ہے۔

یہاں واپڈا کے ایگزیکٹو انجنیئر غلام النبی مکرانی اور دیگر مقامی لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ منچھر جھیل کو ٹوٹنے سے بچایا جاسکتا تھا۔ اور وہ ایسے کہ اگر دریائے سندھ کی طرف سے اس میں ایک ہفتے قبل شگاف لگادیا جاتا تو پانی سیہون تحصیل کے بعض دیہاتوں کو ڈبوتے ہوئے دریا میں چلا جاتا۔ لیکن سابق وزیر اعلیٰ عبداللہ شاہ کے صاحبزادے سید مراد علی شاہ بضد تھے کہ منچھر جھیل کی سطح اگر ایک سو تیس آر ایل تک بھی چلی گئی تو جھیل نہیں ٹوٹے گی۔ حالانکہ انیس سو پچانوے میں ایک سو بیس آر ایل کی سطح پر پانی پہنچنے پر جھیل کا پشتہ ٹوٹ گیا تھا۔

دادو کے لوگوں کی نظر میں مراد علی شاہ کی اس حکمت عملی کا مقصد اپنے علاقے کو بچانا تھا۔ لوگوں کے مطابق مراد علی شاہ کا خیال تھا کہ جیسے ہی منچھر جھیل میں پانی کی سطح بلند ہوگی تو ایم این وی کا پشتہ دادو کے علاقے میں کہیں نہ کہیں سے ٹوٹے گا اور یوں ان کا علاقہ ڈوبنے سے بچ جائے گا۔ لیکن بلآخر منچھر جھیل کو انڈس ہائی وے کی سمت سے شگاف لگانا پڑا۔

منچھر جھیل سے اڑل واہ یا کینال کے ذریعے پانی دریائے سندھ میں پانی کی سطح کم ہو نے کی صورت میں ڈالا جاتا ہے اور منچھر جھیل میں اڑل ہیڈ کے ذریعے دریائے سندھ سے پانی منچھر جھیل میں منتقل بھی کیا جاتا ہے۔

منچھر جھیل کا شمار ایشیا کی بڑی جھیلوں میں ہوتا ہے جہاں ہر سال مختلف اقسام کے ہزاروں پرندے آتے ہیں۔ جب جھیل میں پانی کی سطح کم ہوتی ہے تو یہاں لوگ بڑی تعداد میں مچھلی اور پرندوں کا شکار کھیلتےنظر آتے ہیں۔ ماہرین کے خیال میں جھیل کا بند ٹوٹنے سے اس کا زیادہ تر پانی بہہ جائے گا جس کی وجہ سے منچھر جھیل سے وابسطہ بیس ہزار سے زیادہ مچھیروں کا روزگار بھی متاثر ہوگا۔ منچھر جھیل کی تباہی دیکھنے کے بعد واپس ہم نے دادو کا رخ کیا۔ شام گئے دادو پہنچے اور کل صبح کچھ لوگوں کا انٹرویو کرنا ہے جس کے بعد حیدرآباد روانہ ہونا ہے۔

اسی بارے میں