’غربت کی سطح سے نیچے آنے کا خدشہ‘

Image caption مالیاتی خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کے ایجنڈے کے لیے موجودہ صورتحال سازگار نہیں ہے: شاہد حفیظ کاردار

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر نے کہا ہے کہ حالیہ سیلاب کے باعث پاکستان کے اٹھہتر اضلاع میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی جس کے نتیجے میں فصلوں، مال مویشی، سڑکوں، انفراسٹرکچر، سرکاری اور نجی عمارتیں متاثر ہونے کی صورت میں وسیع نقصانات ہوئے ہیں۔

سٹیٹ بینک کے زیر اہتمام ’سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ اور ان کے مالیاتی شعبے پر اثرات ‘ کے موضوع پر کراچی میں منعقدہ گول میز مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی بینک کے گورنر شاہد حفیظ کاردار نے کہا کہ مزید برآں سیلاب کے باعث تقریباً دو کروڑ افراد بےگھر ہوئے اور سیلاب متاثرین کے لیے صحت اور حفظان صحت کے سنگین مسائل پیداہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبہ کا جی ڈی پی میں میں حصہ اکیس فیصد ہے اور یہ پینتالیس شعبوں میں روزگار فراہم کرتا ہے، جو سیلاب سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے، وفاقی وزارت خوراک و زراعت اور سپارکو کی جانب سے بڑی فصلوں کو براہ راست نقصانات کا اندازہ دو سو اکیاسی ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مینوفیکچرنگ سیکٹر جو زرعی پیداوار پر انحصار کرتا ہے، بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ شاہد کاردار کے مطابق مالیاتی خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کے ایجنڈے کے لیے موجودہ صورتحال سازگار نہیں ہے کیونکہ سیلاب زدہ آبادی کی نمایاں تعداد غربت کی سطح سے نیچے آنے پر مجبور ہوسکتی ہے، جو پہلے ہی مالیاتی خدمات تک رسائی سے محروم ہیں، انہیں اپنے اثاثوں کی بنیاد کی از سر نو تعمیر کے لیے بچتوں یا انشورنس جیسی قانونی مالیاتی خدمات تک محدود رسائی میسر ہوگی۔

گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ آگے آئیں اور سیلاب زدہ علاقوں کی تعمیر نو میں اپنا اہم کردار ادا کریں کیونکہ سٹیٹ بینک اور حکومت یہ کام اکیلے نہیں کرسکیں گے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زراعت، مائیکرو فنانس اور چھوٹے کاروبار کے شعبوں کو آمدنی کے حصول کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے لیے بینکاری صنعت کے خصوصی تعاون کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں