’سیاسی جماعتوں کا محتاط ردعمل‘

پرویز مشرف
Image caption پرویز مشرف نے جمعہ کو اپنی نئی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے قیام اعلان کیا ہے

پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے لندن میں اپنی سیاسی جماعت کے قیام کے باضابطہ اعلان پر ان کے سابقہ حلیفوں اور حریف جماعتوں نے محتاط ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں ان کے دست راست سمجھے جانے والے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پہلے بھی کئی لوگوں نے پارٹیاں بنائی ہیں، وہ پاکستان کے شہری ہیں اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی جماعت بنا کر بہتر خدمت کرسکتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔

لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر پرویز مشرف نے ماضی کی ان سے قربت کی بناء پر انہیں اپنی جماعت میں شامل ہونے کی دعوت دی تو ان کا فیصلہ کیا ہوگا۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وہ عوامی مسلم لیگ کے قائد ہیں اور اسی میں رہنا چاہیں گے لیکن ان کی خواہش ہے کہ تمام مسلم لیگیں متحد ہوں اور ایک بہتر لیڈرشپ سامنے آئے تا کہ وہ ملک کی خدمت کرسکے۔

’میں نے پیر صاحب پگارا سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں لیکن مسلم لیگ کے اتحاد میں سب سے بڑی رکاوٹ نواز شریف ہیں۔ اگر وہ عقل کے ناخن لیں اور یہ سمجھیں کہ ملک کے سیاسی اور معاشی بحرانوں کی وجہ صرف اور صرف ان کی ضد ہے ورنہ اگر مسلم لیگیں متحد ہوتیں تو آج حالات بہتر ہوتے اور جو سیاسی خلاء پیدا ہو رہا ہے۔‘

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت بنانا یا کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونا ہر شہری کا حق ہے اس حد تک تو جنرل مشرف کا سیاسی جماعت بنانا ٹھیک ہے اور سیاسی کارکنوں کو انہیں نووارد ہونے کے باوجود خوش آمدید ہی کہنا چاہیے۔

کوئی نیا پاکستانی اگر کوئی سیاسی جماعت بناتا ہے اور لوگوں کی خدمت کے جذبے سے میدان عمل میں آ رہا ہے تو اسے خوش آمدید کہنا چاہیے لیکن ظاہر ہے کہ یہ ایک بہت مشکل کام ہے۔

’ان کی جو صلاحیتیں ہیں وہ ایک ایڈمنسٹریٹر کے طور پر تو ٹیسٹ ہوئی ہیں جس کے دوران انہوں نے اپنے دور اقتدار میں کچھ اچھے کام بھی کیے ہیں اور کچھ غلطیاں بھی کیں تو ظاہر ہے ان ساری باتوں کو سامنے رکھنا ہوگا کیونکہ یہ بالکل ایک نیا محاذ ہے جس میں انہیں ماضی کی طرح انتظامی اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ پھر ان کی سیاسی تربیت بھی نہیں ہوئی اور نہ وہ بنیادی طور پر سیاستدان ہیں لیکن کسی بھی وقت سیاست میں آنے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔‘

پیر پگارا کی مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما امتیاز شیخ نے کہا کہ’ہم جنرل مشرف کو سیاسی میدان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ وہ پاکستان کی سیاست میں بغیر وردی کے داخل ہو رہے ہیں اور یہاں آ کر دیکھیں جس طرح کے چیلنجز کا انہیں سامنا ہوگا۔‘

جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں مختلف مسلم لیگوں کو ملا کر مسلم لیگ قائد اعظم قائم کی تھی جس میں بعد میں پیپلز پارٹی کے منحرف ارکان اسمبلی بھی شامل ہوگئے تھے۔ اس وقت نوزائیدہ مسلم لیگ قاف کو کنگز پارٹی کا خطاب ملا تھا۔

حال ہی میں مسلم لیگ قاف کے قائدین نے مسلم لیگ فنکشنل کے قائد پیر پگاڑا کے ساتھ ملاقات کے بعد دونوں جماعتوں کے اتحاد کا اعلان کرتے اسے آل پاکستان مسلم لیگ کا نام دیا تھا جس پر جنرل مشرف کا سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔

امتیاز شیخ نے اس بارے میں وضاحت کرتے کہا کہ مشرف صاحب نے اس معاملے پر مجھ سے بات کی تھی اور ان کا پیغام میں نے پیر صاحب پگارا کو پہنچایا تھا جس پر پیر پگارا نے بھی یہ وضاحت کی تھی کہ ہم نے ابھی کسی نام کا اعلان نہیں کیا اور اب بھی ہماری جماعت مسلم لیگ فنکشنل ہے تو ابھی انہوں نے اپنی پارٹی جس نام سے رجسٹر کرنے کی درخواست دی ہوئی ہے وہ انہی کا نام ہے۔ ہم اس پر اپنا دعویٰ نہیں کر رہے ہیں۔‘

مسلم لیگ نون کے ترجمان صدیق الفاروق نے جنرل مشرف پر کڑی تنقید کرتے کہا کہ وہ ساڑھے آٹھ سالوں تک ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنے رہے اور ان کی زبان اور قلم آئین بھی اور قانون بھی تھا اس عرصے میں انہوں نے جس طرح پاکستان کو بدنام کیا اس کے بعد وہ سیاسی میدان میں آ کر کیا تیر ماریں گے۔

’ہم تو اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے یہ تو بازیچہ اطفال والی بات ہے۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات فوزیہ وہاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک جمہوری جماعت ہے اور وہ چاہتی ہے کہ ملک میں جمہوری ادارے مضبوط ہوں اور جمہوری قدریں فروغ پائیں تو ان اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم ہر ایک کو خوش آمدید کہیں گے چاہے وہ مشرف ہو یا ضیاء الحق ہو ہمیں ان سے کوئی مسئلہ نہیں۔

انہوں نے جنرل مشرف کے اس بیان کو مسترد کردیا کہ موجودہ حکومت عوام کا اعتماد کھوچکی ہے۔ ان کے بقول صوبہ پنجاب میں ہونے والے حالیہ ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی فتح سے صاف ظاہر ہے کہ لوگ آج بھی پیپلز پارٹی پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں۔

جنرل مشرف کی جانب سے فوج کو ملک کے اختیارات سنبھالنے کی تجویز پر فوزیہ وہاب نے کہا کہ وہ یہ بات پہلے بھی کہہ چکے ہیں اور اپنے دور اقتدار میں بھی انہوں نے یہ تجویز دی تھی کہ اقتدار میں فوج کا مسقتل کردار ہونا چاہیے لیکن اس وقت بھی سیاستدانوں نے اس بات کو مسترد کر دیا تھا۔ اب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی ان کی اس تجویز پر غور کرے۔

اسی بارے میں