’غلطیوں پر عوام سے معذرت خواہ ہوں‘

فائل فوٹو، مشرف
Image caption پرویز مشرف نے 2008 میں صدرِ پاکستان کے عہدے سے استعفٰی دیا تھا

پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے جمعہ کے روز اپنی نئی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے قیام کے موقع پر پاکستانی قوم سے اپنی سیاسی غلطیوں کی معافی مانگی ہے۔

مشرف کی جماعت، عوام کی رائے

لندن میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگار جاوید سومرو کے مطابق جنرل مشرف نے ان غلطیوں کی وضاحت نہیں کی جو بقول ان کے ان سے دوران اقتدار سرزد ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق وہ وقت آنے پر میڈیا کے سامنے ان غلطیوں کی وضاحت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کلین سلیٹ سے کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے نو برس کے اقتدار میں پاکستان میں بے پناہ ترقی ہوئی لیکن بعد کی حکومت نے ملک میں حالات انتہائی خراب کر دیے ہیں اور لوگ غربت، بھوک اور بےروزگاری میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ وہ سیاست میں اس لیے آئے ہیں کیونکہ پاکستان میں ایسی کوئی قیادت نہیں ہے جو ملک کو صحیح راہ پر گامزن کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں کوئی سیاسی متبادل نظر نہیں آتا اور یہی سیاست میں آنے کی وجہ ہے‘۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ ان کے نو سالہ دور میں ملک نے جو ترقی کی تھی اس کے اثرات ختم ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی جماعت بھوک، غربت اور ناخواندگی کے خلاف جہاد کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’شاہین ہمارا نشان اور سب سے پہلے پاکستان ہمارا نعرہ ہے‘۔

پرویز مشرف نے کہا کہ ان کی سیاست اور منشور کی بنیاد تین دستاویزات پر ہوگی جن میں پہلے نمبر پر قرآن وسنت، دوسرا بانی پاکستان محمد علی جناح کی گیارہ اگست کی تقریر اور تیسرا لیاقت علی خان کی قرارداد مقاصد ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی سیاست عوام کے حقوق اور معیشت کی بہتری کے لیے ہوگی اور ملک میں مزید صوبے بنانے کے سوال پر عوام کی خواہشات کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

پرویز مشرف نے یہ بھی واضح کیا کہ دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ان کے جنگ جاری رہے گی اور ملک کے خلاف کسی بھی جانب سے اٹھنے والی آواز کو کچل دیا جائے گا۔

اپنی سیاسی جماعت کے قیام کے موقع پر جنرل مشرف نے پاکستان کی حکومت یا کسی سیاسی شخصیت پر کوئی جارحانہ تنقید نہیں۔اس بارے میں مبصرین نے خیال ظاہر کیا کہ وہ دوسری سیاسی جماعتوں کی ساتھ کسی مرحلے پر اتحاد کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھنا چاہتے ہیں۔

جنرل مشرف کے لیے اپنی جماعت کے قیام کے اعلان کا دن انتہائی اہم تھا لیکن اس اہم دن پر ان کے ہمراہ ان کے بعض قریبی دوستوں اور سو ڈیڑھ سو کارکنوں کے علاوہ کوئی جانی پہچانی یا ممتاز سیاسی شخصیت نہیں تھی۔

اس سے قبل انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت غیر فعال ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کمزور ہو رہی ہے، اور ایسے وقت میں پاکستانی چاہتے کہ فوج ملکی مسائل کو درست کرے۔

پرویز مشرف نے خبردار کیا کہ ’ملک میں جمہوریت مغرب کی طرح نہیں بلکہ ملکی ضروریات کے مطابق ہونی چاہیے۔‘

خیال رہے کہ جنرل (ر) مشرف نے سنہ 1999 میں وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور وہ سنہ 2008 تک پاکستان کے سربراہ رہے۔اگست 2008 میں صدارت سے استعفٰی دینے کے بعد گزشتہ دو سال سے وہ لندن میں مقیم ہیں۔

اسی بارے میں