’نیٹو معافی مانگے ورنہ دیگر آپشنز موجود ہیں‘

Image caption قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے: گیلانی

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے نیٹو سے پاکستانی حدود میں کارروائی پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ ’سرحد پار سے حملے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے، وہ معافی مانگیں یا اس کا ازالہ کریں ورنہ پاکستان دوسرے آپشن استعمال کر سکتا ہے‘۔

وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے قادر بلوچ کے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے ایوان کو بتایا کہ ان کی گزشتہ روز امریکی سنیٹر جان کیری سے بات ہوئی ہے اور ان پر واضح کر دیا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان تعاون کر رہا ہے اور اگر ان کے پاس کوئی معلومات ہے تو پاکستان سے شیئر کریں۔

دوسری جانب برسلز میں پاکستانی سفارتخانے کے ترجمان نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی نے نیٹو کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل سے ملاقات کرکے نیٹو/ ایساف کے ہیلی کاپٹرز کی جانب سے پاکستان کی سرحدی خلاف ورزیوں پر سخت احتجاج نوٹ کروایا ہے۔

بیان کے مطابق جلیل عباس جیلانی نے تحریری احتجاج میں اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان اور نیٹو میں تعاون کے جذبہ کی نفی ہوتی ہے۔ ’اس طرح کے واقعات سے سخت غلط فہمیاں پیدا ہوں گی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہوگی اور نیٹو اس معاملے کی مکمل تحقیقات کروائے۔‘

بیان کے مطابق نیٹو کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل نے اس واقعہ کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا اور کہا کہ نیٹو پاکستان کو ایک اہم پارٹنر سمجھتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو یقین دہانی کروائی کہ نیٹو اس واقعہ کا تفصیل سے جائزہ لے گا تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات دوہرائے نہ جاسکیں۔

اس سے قبل پاکستانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس قسم کی سرحدی خلاف ورزی اور حملے ناقابلِ قبول ہیں اور پاکستان ایسی صورت میں جوابی کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔

ادھر افغانستان میں تعینات نیٹو افواج نے اعترف کیا ہے کہ ان کے ہیلی کاپٹرز افغان سرحد سے متصل پاکستانی علاقے میں کارروائی میں شامل تھے۔ جمعرات کو قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں کی جانے والی ان کارروائیوں میں پاکستانی حکام کے مطابق فرنٹیئر کور کے تین اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

نیٹو کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک شدت پسند گروپ کی جانب سے کارروائی کے بعد ’طیارے کے عملے کے جائزے کے مطابق چند افراد جو کچھ دیر پہلے ہی پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے تو ان کی طرف سے چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی‘۔

نیٹو بیان کے مطابق’طیارہ اپنے دفاع کے لیے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا اور متعدد مسلح افراد کو ہلاک کر دیا‘۔

اس سے پہلے نیٹو کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان اور افغان سرحد کے نزدیک پکتیا صوبے کے ڈنڈ پتن ضلع میں مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف ایک کارروائی کی گئی تھی۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اس دوران نیٹو ہیلی کاپٹر پاکستانی حدود میں داخل نہیں ہوئے۔

خیال رہے کہ جمعرات کی صبح پہلے اپر کرم ایجنسی کے علاقے منداتہ کنڈاؤ م اور پھر مٹہ سنگر کے مقام پر نیٹو ہیلی کاپٹرز نے کارروائی کی تھی۔ پہلی کارروائی میں نیٹو فورسز کے دو گن شپ ہیلی کاپٹرز شریک تھے جنہوں نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فرنٹیئر کور کی ایک چیک پوسٹ پر شیلنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

دوسرے حملے میں بھی ایف سی کی ایک چیک پوسٹ پر ہیلی کاپٹر سے میزائل فائر کیے گئے تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اسی بارے میں