کامن ویلتھ گیمز، پاکستانی امیدیں

Image caption حکومتی سطح پر ویٹ لفٹنگ پر کبھی بھی توجہ نہیں دی: شجاع الدین ملک

کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان سات کھیلوں میں حصہ لے رہا ہے لیکن تمغے کی امید صرف ویٹ لفٹنگ میں کی جا رہی ہے کیونکہ باقی کھیلوں سے وابستہ کھلاڑیوں اور آفیشلز نے پہلے ہی ہاتھ اٹھا لیے ہیں کہ ہم سے کسی غیرمعمولی کارکردگی کی توقع نہ رکھی جائے۔

دلی میں ٹینس کھلاڑی اعصام الحق سب کی توجہ کا مرکز ہونگے جنہوں نے حال ہی میں یوایس اوپن کے مکسڈ اور مینز ڈبلز فائنلز کھیل کر ایک نیا باب رقم کیا ہے تاہم وہ بھی گلے شکوے اور کسی دعوے کے بغیر حقیقت پسندانہ انداز اختیار کرتے ہوئے دلی گئے ہیں۔

اعصام الحق نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں اس بات پر مایوسی ظاہر کی کہ پاکستان نے ٹینس ایونٹ میں چار کے بجائے صرف دو کھلاڑیوں کی انٹری بھیجی ہے حالانکہ چار کھلاڑیوں کو بھارت بھیجنے پر بہت زیادہ اخراجات نہیں آتے۔

اعصام الحق نے کہا کہ عقیل خان پچھلے تین ماہ سے کوئی میچ نہیں کھیلے جس کے سبب ان کی عالمی رینکنگ نہیں ہے اسی وجہ سے پاکستان کو سیڈنگ نہیں ملی ہے جس کی وجہ سے پہلے ہی راؤنڈ میں اس کا مقابلہ آسٹریلیا سے ہوگا لیکن ان کی کوشش ہوگی کہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرسکیں اور ملک کے لیےتمغہ جیت سکیں۔

اعصام الحق نے کہا کہ پچھلے بارہ سال سے وہ اور عقیل خان ہی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں لیکن سسٹم نہ ہونے کےسبب نئے کھلاڑی سامنے نہیں آ سکے ہیں جس کی ایک بڑی مثال کامن ویلتھ گیمز کے تیاری کیمپ کی ہے جس میں ان کے اور عقیل خان کے علاوہ کوئی تیسرا کھلاڑی موجود نہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کیمپ ہی میں نوجوان کھلاڑی ہوتے تو وہ ان کھلاڑیوں کو کچھ سکھا سکتے تھے اور انہیں بھی پریکٹس ملتی۔

اعصام الحق نے کہا کہ پاکستان ٹینس فیڈریشن کو چاہیے کہ ان کی حالیہ کارکردگی کو وہ کیش کرائے اور حکومت اور نجی سیکٹر سے اس کھیل کے لیے سہولتیں حاصل کرے تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوسکے اور انہیں ٹریننگ اور مقابلوں میں شرکت کے لیے باہر بھیجا کیونکہ یہاں ہمیشہ فنڈز کی کمی کا ہی سننے میں آتا ہے۔

چار سال قبل میلبرن میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز طلائی تمغہ جیتنے والے ویٹ لفٹر شجاع الدین ملک سے کھیلوں کے ارباب اختیار نے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں کیے اور شجاع الدین ملک نے دلبرداشتہ ہوکر ایک سال کے لیے ویٹ لفٹنگ چھوڑ دی لیکن اب وہ بھارتی سرزمین پر گولڈ میڈل جیتنے کی دیرینہ خواہش کے ساتھ دلی گئے ہیں۔

شجاع الدین ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنہ انیس سو پچانوے میں بھارت میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز( سابقہ سیف گیمز) میں انہوں نے گولڈ میڈل جیتا تھا اور وہ پوری کوشش کرینگے کہ اس بار بھی چورانوے کلوگرام کیٹگری میں نئے ریکارڈ کے ساتھ گولڈ میڈل جیتیں۔

شجاع الدین ملک کو افسوس ہے کہ حکومتی سطح پر ویٹ لفٹنگ پر کبھی بھی توجہ نہیں دی گئی البتہ وہ پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔

پاکستانی ہاکی ٹیم اپنے ڈچ کوچ کے اس بیان کے ساتھ دلی گئی ہے کہ گولڈ میڈل کی توقع نہ رکھی جائے۔

پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان اور منیجر اصلاح الدین کہتے ہیں کہ یہ پہلا کوچ ہے جو مقابلے میں شرکت سے پہلے ہی ہمت ہار بیٹھا ہے شاید اس لیے کہ ہالینڈ اور بیلجیئم کے خلاف پاکستانی ٹیم کو بڑے مارجن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے باوجود اصلاح الدین کہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم گولڈ میڈل جیت سکتی ہے کیونکہ اس کا اصل مقابلہ صرف آسٹریلیا سے ہے اور پاکستانی ٹیم میں بھی تجربہ کار کھلاڑی موجود ہیں جنہیں کم ازکم اس ایونٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں