پنجاب کیوں ڈوبا؟ پہلی قسط

پاکستان میں سیلاب فائل فوٹو

صوبہ پنجاب کے چند علاقوں میں انسانی مداخلت کی وجہ سے حالیہ سیلاب نے تباہی پھیلائی۔حقائق جاننے کے لیے نامہ نگار ظہیرالدین بابر نے بابر نے ان علاقوں کا سفر کیا۔

ملتان سے کوٹ ادو کی جانب سفر کرتے ہوئے نئی پختہ سڑک اچانک پانی کی گزرگاہ دکھائی دینے لگی۔ سبزی مائل رنگت کا پانی دھیرے دھیرے سڑک کو پار کرتے ہوئے بائیں طرف سمو رہا تھا اور ٹریفک کو احتیاط سے گزرنے پر مجبور کر رہا تھا۔

ریت کے ٹیلوں، اُن کے درمیان پانی کے تالابوں، تالابوں میں کئی فِٹ ڈوبی چندایک عمارتوں، گیلی اینٹوں کے ڈھیروں، کچے مکانوں کی باقیات اورخیموں پر مشتمل اس علاقے کا نام بصیرہ ہے جو مظفر گڑھ کی یونین کونسل ہے۔ پاکستان میں حالیہ سیلاب کی تباہی کے ساتھ پہلی مرتبہ میرا براہِ راست پالا پڑا تھا۔

چند ایک نوجوان سیلابی پانی کے تالابوں میں مچھلیاں پکڑتے نظر آئے۔ سورج غروب ہونے کے بعد سنانواں قصبے سے پہلے لوہے کے ایک اونچے اور عارضی پل سے گزر ہوا جو ہیڈ کالو کے مقام پر فوج نے ایک سیم نالے پر بنایا تھا۔ ساتھ ہی مظفر گڑھ کینال تھی۔ سیٹی سے ٹریفک کو کنٹرول کرتے ہوئے مسلح فوجی نے بتایا کہ پُل سیلاب کی نذر ہو چکا ہے۔

شام کے وقت بصیرہ اور سنانواں میں روشنیاں اور چہل پہل دیکھ کریہ یقین کرنا مشکل تھا کہ یہاں کے لوگ انسانی تاریخ کے بدترین سیلاب سے نمٹنے کے بعد اُس کے زخموں کو بھرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

گزرتے گزرتے سنانواں کے ٹیکسی ڈرائیور محمد طارق سے چند لمحوں کے لیے گفتگو ہوئی۔ اُن کا اصرار تھا کہ سنانواں سیلاب سے بچ سکتا تھا۔ ’یہاں سے پچیس کلو میٹر دُور دائرہ دین پناہ کے قریب دریا کا بند ٹوٹا تھا۔ وہ پانی نہروں اور سڑکوں کو توڑتا ہوا یہاں پہنچا۔ سنانواں بند بھی ٹوٹا۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے حامی محمد طارق کا ارادہ تھا کہ وہ اگلے الیکشن میں مسلم لیگ نون کو ووٹ دیں گے کیونکہ اُن کے علاقے کے سیلاب زدگان کی حوصلہ افزائی کے لیے وزیرِاعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے عید کی نماز سنانواں میں پڑھی تھی۔

اسلام آباد کے سٹوڈیو میں بیٹھ کر مجھے سیلاب کی خبریں ریڈیو پر پڑھتے اور ٹی وی پر اُس کی تباہی کے مناظر دیکھتے ہوئے دو ماہ ہونے کو تھے۔ سورج کی روشنی میں بصیرہ کی تباہی، سنانواں کے محمد طارق کے سیلاب کے بارے میں دلائل اور بدلے ہوئے عزائم، لاکھوں لوگوں کی زندگی بھر کی پسینے کی کمائی کوغرق کرنے کے بعد کوٹ ادو تک پھیلے ہوئے خاموش پانی کی بُو، وہ ذاتی تجربات تھے جو ریڈیو، ٹی وی یا اخبارات میں نہیں ملے۔

کوٹ ادو بائی پاس پرتونسہ بیراج کالونی کے قریب اندھیرے میں روشنیوں سے بھرپور سماں دور سے ہی دکھائی دینے لگا۔ ’ہم بجلی کے بِل ادا نہیں کریں گے‘ سپیکروں سے نکلتی ہوئی پہلی آواز میرے کانوں میں پڑی۔ یہاں سے مجھے صحافی غضنفر عباس کو ساتھ لینا تھا۔

بی بی سی اردو سروس کے لیے ہی غضنفر اس لوک ستھ کی فلمبندی میں مصروف تھے۔ لوک ستھ سرائیکی میں عوام کی عدالت کو کہتے ہیں۔ ریتلے میدان میں دائرے کی شکل میں بچھی دریوں پر تین سو کے لگ بھگ مرد، خواتین اور بچے بیٹھے ہوئے تھے۔ مقامی لوگوں کی ترقی کے لیے سرگرمِ عمل ہِرک ڈویلپمنٹ سینٹر نے سیلاب متاثرین کی یہ لوک ستھ بلائی تھی جو اس قرارداد پر ختم ہوئی کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے مشترکہ جدوجہد کی جائے گی۔

اس دوران مجھے بھی چند ایک شرکاء سے بات کرنے کا موقع ملا۔ اُن میں سے ایک شمر شیر تھے جن کی ریتلی زمین پر لوک ستھ منعقد ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اُن کے کھیتوں میں لگی ہوئی چاول کی فصل چار فٹ اونچی ریت کی تہہ میں دب چکی ہے۔ یہ ریت، سیلاب اپنے ساتھ لایا تھا اور اب شمر سمیت علاقے کے درجنوں کسانوں کی زمینیں کاشت کے قابل نہیں رہیں۔

’دریا تین کلو میٹر دور ہے لیکن ہمیں یہاں پچاس سال ہو گئے ہیں، کبھی سیلاب نہیں آیا تھا۔‘ کانپتے ہوئے لبوں کے ساتھ شمر سیلاب کی وجہ بتاتے چلے گئے ’بڑے بڑے لوگوں، سیاستدانوں نے ہمیں نقصان پہنچایا ہے۔ وہ لوگ گیٹ کھول دیتے اور پانڈ ایریا میں پانی چھوڑ دیتے تو ہمیں اس طرح نقصان نہ ہوتا۔‘ شمر کو میرے مائیک کے سامنے بولتے ہوئے دیکھ کر درجن بھر لوگ جمع ہو گئے۔

غلام اکبر نے پانڈ ایریا کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ’سیلاب کے دنوں میں وہاں پانی چھوڑا جاتا ہے۔ لیکن اُن ہزاروں ایکڑوں پر سیاستدانوں نے قبضہ کر کے فصلیں لگا رکھی ہیں اور شکار گاہیں بنائی ہوئی ہیں۔‘

ہر کوئی مجھے اپنی داستان سنانا چاہتا تھا۔ سیلاب کی وجہ سے گھر واپس آنے والے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں گریجویشن کے طالبعلم عارف حسین کو غصہ تھا کہ سیلاب کے دنوں میں لوگوں کو باہر نکالنے والے فوجی، وزیرِ اعلیٰ اور میڈیا کی آمد پر زیادہ متحرک نظر آتے تھے۔ ’محکمۂ آبپاشی کی نااہلی اور ہم نے سنا ہے کہ یہاں کے سیاستدانوں نے انہیں دعوتیں کھلا کر اور رشوت دے کر پانڈ ایریا کو بچوایا۔ جب مشرق سے بند ٹوٹا تو دریا نے رخ ہی ہماری طرف کر لیا۔‘

تقریباً ستر سالہ فیض بیگم سیاستدانوں کے نام لینے سے نہ ہچکچائیں۔ ’ہنجرا آیا تھا ہم سے ووٹ لینے۔ ہم نے بے نظیر کی قبر کو ووٹ ڈالا تھا۔ اب ہم ووٹ اُسے دیں گے جو تعاون کرے گا۔‘

ایک بِگھے پر لگی فصلیں کھونے والے سات بیٹوں کی ضعیف العمر ماں فیض بیگم نے اونچی آواز میں اپنا فیصلہ سنایا۔ ان کی ساتھی کلثوم مائی نے تیکھے لہجے میں کہا ’اگر ہماری مدد نہ ہوئی تو ہم اپنا ووٹ ویسے ہی بہا دیں گے جیسے پانی نے ہمارا سب کچھ بہایا ہے۔ نہیں ڈالیں گے کسی کو۔‘

اُس وقت تک مجھے نہیں علم تھا کہ پانڈ ایریا کیا ہے؟ کس چیز کے گیٹ نیچے رکھے گئے جس کی بناء پر کوٹ ادو کی لوک ستھ میں شامل سیلاب متاثرین میں غصہ تھا۔ ہنجرے کون ہیں اور کن کن سیاستدانوں یا محکموں نے مصیبت میں اپنے مفادات کو بچایا؟ صوبہ پنجاب میں زندگی کی بحالی کی کوششوں میں مصروف سیلاب زدگان کے زخم کتنے گہرے ہیں؟ کونسے بند ٹوٹے اور کونسے سے توڑ دیئے گئے؟ دریائے سندھ سے اُبلتا ہوا سیلاب کیسے انسانی مداخلت کی وجہ سے فطرتی اصول بھول گیا؟ کن علاقوں میں اِس آفت کے نقصان کو کم سے کم کیا جا سکتا تھا؟ میرا پنجاب کیوں ڈوبا؟

انہی سوالوں کے جواب کے لیے میں نے کوٹ ادو سے میانوالی کا رخ کیا جہاں سے مجھے اپنے سفر کا آغاز کرنا تھا۔

اسی بارے میں