سندھ کیوں ڈوبا؟ ساتویں قسط

پاکستان میں آنے والےتاریخی سیلاب میں صوبہ سندھ کے ایک بڑے علاقے کے متاثر ہونے کی کئی وجوہات پیش کی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ اسے ایک قدرتی آفت سمجھتے ہیں تو کچھ اس تباہی کا ذمہ دار پاکستان آرمی کو ٹھہراتے ہیں۔ صوبہ پنجاب کی حکومت اور سندھی وڈیروں پر بھی اکثر اس تباہی کی ذمہ داری کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ ان الزامات میں کتنی حقیقت ہے یہ جاننے کے لیے نامہ نگار اعجاز مہر نے کشمور سے کیٹی بندر تک دریائے سندھ کے دونوں جانب سفر کیا ہے۔ یہ اس سفر نامے کی ساتویں قسط ہے۔

اتوار انیس ستمبر

آج معمول کے برخلاف کچھ دیر سے اٹھے اور تیار ہوکر سیہون سے ہوتے ہوئے’آمری جودڑو‘ دیکھنے کا ارادہ کیا کیونکہ وہ بھی مقامی میڈیا کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب سے کافی متاثر ہوا ہے۔ آمری کے آثارِ قدیمہ بھی قبل مسیح کے ہیں اور یہ بھی سندھ کی ثقافت کی علامت مانے جاتے ہیں لیکن انڈس ہائی وے منچھر جھیل سے نکلنے والے پانی کی وجہ سے زیرِ آب ہے اور بتایا گیا کہ وہاں دادو سے نہیں جایا جا سکتا۔

ہم نے حیدرآباد کا پروگرام بنایا اور چل پڑے۔ دادو شہر سے نکلے اور دریائے سندھ پر دادو مورو پل سے گزرے تو وہاں وہ جگہ دن کی روشنی میں دیکھنے کو ملی جہاں پل کو ملانے والی بیس فٹ اونچی سڑک کو دریا ئے سندھ کا پانی بہا کر لے گیا تھا۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پل کا انجنیئرنگ فالٹ یہ ہے کہ جتنا دریا کا پیٹ ہے اتنا پل نہیں بنایا گیا بلکہ پل کو چھوٹا کرکے دونوں جانب اونچی سڑک بنا کر پانی کا راستہ تنگ کیا گیا۔ وہاں سے مورو آئے اور نیشنل ہائی وے سے حیدرآباد چل پڑے۔ ہائی وے کے ساتھ سکرنڈ اور قاضی احمد سے گزرے تو پتہ چلا کہ دریائے سندھ کے کچے کا علاقہ مکمل ڈوب چکا ہے اور صدر آصف علی زرداری کا آبائی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں بھی محکمہ آبپاشی اور مقامی لوگوں نے حفاظتی بندوں پر کڑی نگرانی رکھی اور بعض بند اونچے بھی کیے اور کوئی بند ٹوٹا نہیں۔

ہرطرف ہرے بھرے کھیت لہلاتے نظر آئے اور مجھے زیرِ آب علاقوں میں ڈوبے کھیت بھی یاد آتے رہے۔ جہاں کسان کی چھ ماہ کی روزی روٹی اِن کھیتوں سے وابستہ ہوتی ہے اور وہ اب بے یارو مدد گار ہیں۔ گاڑی دوڑتی ہوئی ہالہ پہنچی تو پتہ چلا کہ یہاں بھی بھانوٹ بند کو بہت خطرہ تھا لیکن وفاقی وزیرِتجارت مخدوم امین فہیم نے یہاں دن رات قیام کر کے اپنے حلقے کے ووٹرز اور اپنی روحانی جماعت سروری کے مریدوں سے مل کر اس بند کی حفاظت کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مقامی لوگوں نے بتایا ’مخدوم سائیں‘ نے بڑی ہمت کی اور وہ ووٹوں کے وقت بھی اتنا وقت اپنے علاقے میں نظر نہیں آتے جتنا وقت انہوں نے یہاں صرف کیا۔

بھانوٹ کا بند بعض مقامات پر تو نیشنل ہائی وے کے بالکل ساتھ ساتھ چلتا ہے اور اگر یہاں سے بند ٹوٹتا تو سندھ کے صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مزار سمیت بہت سارے دیہات زیرِ آب آتے، سینکڑوں ایکڑ کھڑی فصلیں تباہ ہوتیں اور پاکستان کا رابطہ نیشنل ہائی وے کے ڈوبنے کی وجہ سے کئی روز تک کٹ جاتا۔

حیدرآباد کے اس قریبی علاقے میں آم کے بہت باغات ہیں اور گلاب کے پھولوں کی کاشت سے لے کر سورج مکھی، کپاس، گنا اور کیلے کی فصل بھی یہاں کاشت ہوتی ہے۔ نیشنل ہائی وے کے دونوں جانب جگہ جگہ پٹرول پمپ، سی این جی اور ہوٹل بھی کافی تعداد میں بن چکے ہیں۔ زیادہ تر ہوٹل اور پٹرول پمپ مقامی لوگوں کے ہیں لیکن پٹے پر اِن ہوٹلوں کو پٹھان اور خاص کر افغانی چلاتے ہیں۔ کشمور سے کراچی تک ان ہوٹلز کے نام بھی لکی مروت، وزیرستان، بنوں، کوہاٹ، مردان اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں اور قبیلوں کے ناموں سے منسوب ہیں۔ جس کی بڑی وجہ متعلقہ علاقوں کے ٹرک ڈرائیورز کی توجہ حاصل کرنا بتایا گیا کیونکہ اُن کے زیادہ تر گاہک وہی ہوتے ہیں۔

شام کو حیدرآباد پہنچے دوستوں سے حال احوال معلوم کیا اور سندھی لٹریچر پر سیلاب کے اثر کے بارے میں بات ہوئی۔ کئی روز سے سندھی اخبارات میں سیلاب سے متعلق شاعری پڑھتا رہا ہوں اور ایسے لگتا ہے کہ سیلاب نے سندھی شاعروں کو ایک نیا موضوع دے دیا ہے۔ دوستوں سے ملاقات میں بتایا گیا کہ دریائے سندھ سے مقامی لوگوں کو عقیدت کی حد تک محبت ہے۔ پندرہ سو سے دو ہزار قبل مسیح کے زمانے میں جب وید لکھے گئے تھے اُن میں بھی سندھو دریا کا ذکر ہے اور دریائے سندھ جسے مہران، انڈس، سندھو بادشاہ، سندھودریا، خواجہ خضر، جھولے لال، ماتا/ماں، پالنہار سمیت ہندو ہوں یا مسلمان انہیں مختلف ناموں اور حوالوں سے یاد کرتے ہیں۔

نوجوان دانشور سید سردار علی شاہ کے بقول دریائے سندھ سندھی ثقافت کا انمول اور اٹوٹ حصہ بن چکا ہے۔ اُن کے بقول تبت جہاں سے دریائے سندھ نکلتا ہے اُسے سقمم یا شیر کا منہ کہتے ہیں۔ شاہ عبدالطیف کے رسالے میں تین سُر یا چیپٹر دریائے سندھ کے متعلق ہیں۔ سوہنی ماہیوال کے چیپٹر میں شاہ عبدالطیف نے ایک جگہ کہا ہے کہ تو کیئں بوڑی سہنی بیلی منھنجی بانھ۔۔ دریا توتے دانھں ڈیندس ڈینھں قیام جے‘ یعنی اے دریا تو نے میری سوہنی کو کیسے ڈبویا میں تم سے قیامت کے دن شکایت کروں گا۔

سردار شاہ نے بتایا کہ الیگزینڈر دی گریٹ نے دریائے سندھ کو انڈس کا نام دیا اور لفظ انڈیا بھی انڈس سے نکلا ہے اور عربوں نے اُسے اباسین یعنی دریاؤں کا باپ کا نام دیا، آرینز نے اُسے سپت سندھو کہا ہے۔ اُن کے بقول خواجہ خضر اور اڈیرو لال دو دریا کے پیر ہیں، جنہیں ہندو اور مسلمان دونوں مانتے ہیں اور خواجہ خضر کو ہندو جِند ولی بھی کہتے ہیں۔ یہاں جل پوجا ہوتی رہی ہے اور ہندو اور مسلمانوں کے چھوٹے بچے میٹھی روٹیاں پکا کر دریا میں ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم سے ناراض نہ ہونا، ہمیں ڈبونا نہیں بس اسی طرح ہی بہتے رہنا۔ سندھ کے علاوہ سرائیکی پٹی میں بھی دریائے سندھ سےمقامی لوگوں کو عقیدت ہے اور اشو لال نے تو دریا کو ماں باپ کہا ہے۔ ’دریا اور دریا تو ساڈا پیو ماں اساں تیڈے پونگے‘۔ سرائیکی شعرا نے تو سندھ دریا کو دیوتا بھی کہا ہے۔

دوستوں میں طے پایا کہ کل حیدرآباد میں کچھ ایسے شعرا سے ملیں گے جنہوں نے حال ہی میں دریا اور سیلاب کے بارے میں شعر کہے ہیں۔ ذمہ داری ایک دوست جو صحافی اور ادیب بھی ہیں، اسحاق سمیجو نے اٹھائی کہ وہ کچھ دوستوں کو اکٹھا کریں گے۔

اسی بارے میں