صوبہ خیبر پختونخوا: مذہبی سکالر قتل

ڈاکڑ محمد فاروق فائل فوٹو
Image caption صوبائی حکومت نے انہیں سوات یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شمالی ضلع مردان میں سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر اورمذہبی سکالر ڈاکٹر محمد فاروق کو نامعلوم مُسلح افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا ہے۔

مردان پولیس کے سربراہ واقف خان نے بی بی سی کو بتایا ’سنیچر کی دوپہر ایک بجے کے قریب ملاکنڈ روڈ پرگرلز کالج کے سامنے سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور مذہبی سکالر ڈاکٹر محمد فاروق کو نامعلوم مُسلح افراد نے اُس وقت فائرنگ کرکے ہلاک کردیا جب وہ اپنے کلینک میں کھانا کھا رہے تھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ فائرنگ سے اُن کا ایک محافظ بھی زخمی ہوا جسےمردان کے سول ہسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے تاہم ابھی تک کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

پولیس سربراہ کے مطابق ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حملہ آور پیدل تھے یا کسی گاڑی میں یہاں پہنچے تھے۔البتہ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہے اور مختلف مقامات پر مشکوک لوگوں کی تلاشی بھی لی جارہی ہے۔

نامہ نگار دلاور خان وزیر کے مطابق ڈاکٹر محمد فاروق کا تعلق صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع مردان سے بتایا جاتا ہے اور صوبائی حکومت نے انہیں سوات یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا تھا۔اس سے پہلے وہ اسلامی یونیورسٹی سوات کے وائس چانسلر تھے جو فوجی آپریشن سے پہلے طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کا مرکز تھا اور امام ڈھیرئی کے نام سے مشہور تھا۔

ڈاکٹر محمد فاروق جماعتِ اسلامی میں ایک سرگرم رہنماء بھی رہے لیکن بعد میں انہوں نے جماعتِ اسلامی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

ڈاکٹر محمد فاروق نے خیبر میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی تھی اور وہ پشتو چینل اے وی ٹی خیبر پر اسلامی تعلیمات کے پروگرام بھی کیا کرتے تھے۔

اسی بارے میں