ڈاکٹر فاروق قتل، طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی

ڈاکڑ محمد فاروق فائل فوٹو
Image caption صوبائی حکومت نے انہیں سوات یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے طالبان نے سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر اورمذہبی سکالر ڈاکٹر محمد فاروق کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

سنیچر کے روز ڈاکٹر محمد فاروق کو مردان میں نامعلوم مُسلح افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔

پشاور سے ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ سوات کے طالبان کے ترجمان عمر حسن اعرابی نے ڈاکٹر محمد فاروق کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

عمر حسن نے فون پر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عمر فاروق طالبان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے تھے اور طالبان مخالف کتابیں بھی لکھی تھیں۔

’وہ طالبان کے خلاف پروپیگینڈا کر رہے تھے اور وہ ایک جدید اسلام پھیلا رہے تھے۔‘

یاد رہے کہ سنیچر کی دوپہر ایک بجے کے قریب ملاکنڈ روڈ پرگرلز کالج کے سامنے سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور مذہبی سکالر ڈاکٹر محمد فاروق کو نامعلوم مُسلح افراد نے اُس وقت فائرنگ کرکے ہلاک کردیا جب وہ اپنے کلینک میں کھانا کھا رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ فائرنگ سے اُن کا ایک محافظ بھی زخمی ہوئے جنہیں مردان کے سول ہسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔

ڈاکٹر محمد فاروق کا تعلق صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع مردان سے تھا۔ سوات یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر ہونے سے قبل وہ اسلامی یونیورسٹی سوات کے وائس چانسلر تھے جو فوجی آپریشن سے پہلے طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کا مرکز تھا اور امام ڈھیرئی کے نام سے مشہور تھا۔

ڈاکٹر محمد فاروق جماعتِ اسلامی میں ایک سرگرم رہنماء بھی رہے لیکن بعد میں انہوں نے جماعتِ اسلامی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

ڈاکٹر محمد فاروق نے خیبر میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی تھی اور وہ پشتو چینل اے وی ٹی خیبر پر اسلامی تعلیمات کے پروگرام بھی کیا کرتے تھے۔

دوسری جانب سوات طالبان نے سوات کے علاقے شکردرہ میں ایک کارروائی کے دوران چار ایف سی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں