’انتظامی معاملہ ایک تنازعےمیں تبدیل‘

فائل فوٹو، وکلاء کا احتجاج
Image caption چیف جسٹس ہائی کورٹ کے کمرہ عدالت کے باہر ہونے والی ہنگامہ کے بعد جج کی تبدیلی کا ایک انتظامی معاملہ بظاہر ایک بڑے تنازعےمیں تبدیل ہوگیا

’وکلا تحریک کے دورن اڑھائی برس میں ایسا موقع بھی آیا جب مایوسی نے گھیر لیا اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ جو جدوجہد کررہے ہیں اس سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا نہیں لیکن کبھی بھی دل میں یہ گمان نہیں آیا کہ اپنے مطالبہ کو منوانے کے لیے عدالت پر حملہ کردیا جائے۔‘

یہ الفاظ نوجوان وکیل عمر بن اکبر کے ہیں جو ججوں کی بحالی کی تحریک میں سرگرم رہے اور اسی پاداش میں انہیں جیل سے بھی کاٹنی پڑی۔

نوجوان وکیل کی یہ بات اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ وکلا تحریک حصہ رہنے والے وکیلوں نے مبینہ طور پر لاہور کی ماتحت عدلیہ کے ایک جج کے تبادلہ کے مطالبہ پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت پر انتظار کرنے کے بجائے چیف جسٹس ہائی کورٹ کے کمرہ عدالت پر حملہ کیوں کیا۔

ہنگامہ آرائی کے واقعہ کے بعد ضلعی بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سمیت ایک سو قریب وکلا کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ کے کمرہ عدالت کے باہر ہونے والی ہنگامہ کے بعد جج کی تبدیلی کا ایک انتظامی معاملہ بظاہر ایک تنازعےمیں تبدیل ہوگیا۔

ڈسٹرکٹ و سیشن جج لاہور زوار احمد شیخ اس سال جنوری سے لاہور میں تعینات ہیں لیکن جولائی میں ضلعی بار ایسوسی ایشن کی طرف سے ان کے مبینہ نامناسب رویہ کو جواز بنا کر ان کے تبادلے کا مطالبہ ایک غور طلب سوال ہے ۔

زوار احمد شیخ اپنی موجودہ تعیناتی سے پہلے لاہور میں ہی ایڈیشنل سیشن جج اور انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج کے طور پر فرائص دے چکے ہیں اور معمول میں ان کا تبادلہ کیا گیا تھا۔

ہائی کورٹ میں ہنگامے اور مقدمے کے اندراج کے بعد وکیل عہدیداروں کی گرفتاری کے حق اور مخالفت میں بیانات نے اس معاملے کو سیاسی رنگ دے دیا۔وکلا تحریک کے رہنماؤں نے حملے کی مذمت کی جبکہ دوسری جانب وکلا پر مقدمہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس وقت صورت حال زیادہ خراب ہوگئی جب لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے ارکان نے بار کے عہدیداروں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس کے ایوان عدل یعنی لاہور بار ایسوسی ایشن میں داخل ہوگئی ۔پولیس نے بلاتفریق مرد اور خواتین وکلا کو اپنے تشدد کا نشانہ بنایا اورچالیس کے قریب وکیلوں کو گرفتار کر لیا گیا ۔

پولیس تشدد کے بعد بار اور بینچ میں تعلق کشیدہ کا شکار ہوگئے اور ایک نوجوان وکیل جواد اشرف کا کہنا ہے کہ سیشن جج کی تبدیلی کا مطالبہ بار کے تمام اراکین کا نہیں تھا لیکن پولیس تشدد نے اس معاملے کو تمام وکلا کے گھر کا مسئلہ بنا دیا۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ خواجہ محمد شریف نے ان تمام وکیلوں کو رہا کرنے کا حکم دیا جن کو پولیس نے تشدد کے بعدگرفتار کیا تھا۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ نے بار عہدیداروں سمیت ان تمام وکلا کو بھی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جن کو کمرہ عدالت پر حملہ کرنے پرگرفتار کیا گیاجبکہ چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری نے وکلا پر تشدد کے واقعہ کا ازخود نوٹس لے لیا۔ بعض وکلا کی رائے ہے کہ بار اور بینچ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک مثبت قدم تھا۔

تاہم لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں وکلا تحریک کے سرکردہ رہنماؤں حامد خان، اعتزاز احسن، اطہر من اللہ اور قاض انور کے لاہور بار ایسوسی ایشن میں داخلے پر اس لیے پابندی لگا دی گئی کیونکہ انہوں نے ہائی کورٹ ہنگامہ آرائی کے واقعہ کی مذمت کی ۔

ماضی میں سابق وفاقی وزیر شیر افگن نیازی پرتشدد کے واقعہ پر اس وقت کے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے بار کی صدارت سے علیحدہ ہونے کا اعلان کر دیا تھا لیکن لاہور بار ایسوسی ایشن بھی ان بار ایسوسی ایشنوں میں شامل تھی جہنوں نے اعتزاز احسن سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی تھی لیکن اب اعتزاز احسن کی نکتہ چینی پر ان کے اور دیگر وکلا رہنماؤں کے بارمیں داخلے پر پابندی خود ایک سوال ہے ۔

اسی بارے میں