نیٹو کے ٹینکروں پر مشکوک حملے

جلتے ہوئے ٹینکر

پاکستان میں آئل ٹینکر مالکان نیٹو کو رسد فراہم کرنے والے قافلوں پر حملوں میں سے بعض کو مشکوک قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹھیکیداروں نے خود ان ٹینکروں میں بم لگائے ہیں۔ صوبہ سرحد کے ضلع نوشہرہ کی پولیس بھی ایسے دو واقعات کی تصدیق کرتی ہے۔

ایک ٹینکر مالک دوست محمد نے جن کا تعلق ضلع نوشہرہ سے ہے بتایا کہ پچھلے دنوں نوشہرہ کے علاقے پبی میں ایک ٹھیکیدار کا منشی ٹینکر کے نیچے بم رکھتے ہوئے پکڑا گیا، اس دوران ایک کار سے فائرنگ بھی کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ منشی نے پولیس کو بتایا کہ ٹھیکیدار کا حکم ہے کہ ٹینکر کے نیچے بم رکھو کیونکہ وہ تیل بیچ چکے ہیں۔ دوست محمد کے مطابق ٹھیکیدار پچاس ہزار لیٹر تیل بیچ دیتے ہیں صرف دو تین ہزار لیٹر چھوڑ کر اس میں بم یا آگ لگا دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکیدار کا ہر طرف سے ہی فائدہ ہے، اگر پرانی گاڑی جل جائے تو نیٹو کی جانب سے نئی گاڑی کی رقم فراہم کی جاتی ہے اور جو تیل جل جاتا ہے اس کی بھی پوری ادا ئیگی ہوتی ہے۔

دوسری جانب نیٹو کو تیل فراہم کرنے والے ایک کانٹریکٹر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا نیٹو کی جانب سے رسد کی انشورنس کی جاتی ہے اور پریمیم کی ادائیگی کی ذمہ داری بھی نیٹو پر عائد ہوتی ہے، یہ انشورنس مقامی کمپنیاں کرتی ہیں اور بعد میں ٹرانسپورٹر ٹینکر مالکان کو ان کے حقیقی نقصان کی ادائیگی کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صرف پاکستان کی حدود میں نقصان کی صورت میں انشورنس ملتی ہے۔

نوشہرہ کے ضلعی پولیس افسر نثار تنولی نے تصدیق کی ہے کہ ان کے علاقے میں ایسے دو واقعات ہوئے ہیں جن میں آئل ٹینکروں کو دیسی ساخت کے دھماکہ خیز مادے سے اڑانے کی کوشش کی گئی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ واقعات پبی اور اکوڑہ خٹک کے قریب واقع وتک کے علاقوں میں پیش آئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے وہاں ایک دو روز ٹینکر کھڑا رکھا گیا، اس کے بعد گھروں میں جو دھماکہ خیز مادہ بنایا جاتا ہے اسے استعمال کیا، بعد میں انہیں ایف آئی آر کی کاپی حاصل کرنے کی جلدی ہوتی تھی، تفتیش سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ، دوسرے روز انشورنس کمپنی والے آجاتے تھے۔

ضلعی پولیس افسر نثار تنولی نے بتایا کہ تفتیش میں حقیقت سامنے آنے کےبعد کچھ ڈرائیور اور کلینر گرفتار کیے گئے ہیں۔ کچھ ملزم ان کے ضلع کے نہیں جنہیں اشتھاری قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں جن میں جہازوں کے لیے استعمال ہونے والے تیل کو انہوں نے بیچ دیا بعد میں کہا کہ تیل بہہ گیا یا اس میں آگ لگ گئی۔

دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ تسنیم احمد قریشی نے ٹینکر مالکان کے الزامات کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایسی کوئی اطلاعات نہیں ہیں کہ نیٹو کے ٹھیکیدار خود ہی گاڑیوں کو آگ لگواتے ہیں یا بم لگاتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس بارے میں کبھی کسی نے کوئی شکایت بھی نہیں کی۔

اسی بارے میں