حفاظتی بند میں شگاف، تحقیقات شروع

فائل فوٹو،
Image caption بند میں شگاف سے لوگوں کو بہت بڑے پیمانے پر معاشی نقصان کو برداشت کرنا پڑا ہے

حکومت سندھ کے قائم کردہ ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل دو رکنی کمیشن نے اتوار کو ضلع کشمور میں واقع حفاظتی پشتے توڑی بند کے معائنے کے ساتھ ہی اپنے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

حکومت نے کمیشن ان الزامات کی روشنی میں قائم کیا جن میں کہا گیا تھا کہ علاقے کی بااثر افراد نے اپنے مرضی سے زبردستی توڑی بند میں شگاف ڈالے تھے تاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں کو محفوظ رکھ سکیں۔

توڑی بند میں شگاف کے نتیجے میں ضلع کشمور، ضلع جیکب آباد کے علاوہ بلوچستان کے اضلاع ڈیرہ اللہ الہ یار خان اور جعفر آ باد مکمل طور پر زیر آب آ گئے تھے۔

جس کی نتیجے میں لوگوں کو بہت بڑے پیمانے پر معاشی نقصان کو برداشت کرنا پڑا ہے۔

توڑی بند کمیشن کے اراکین ریٹائرڈ جسٹس زاہد قربان علوی اور ریٹائرڈ جسٹس غلام نبی سومرو نے توڑی بند کے کئی مقامات کا دورہ کرنے کے بعد محکمہ آبپاشی کے حکام سے صورتحال پر بریفنگ حاصل کی ۔ اطلاعات کے مطابق کمیشن کو گڈو بیراج کے چیف انجینئر ظفر اللہ مہر نے بتایا کہ حفاظتی پشتے میں خود بخود شگاف پڑ گیا تھا اور اسے دانستہ نہیں توڑا گیا تھا۔ نامہ نگار علی حسن کا کہنا ہے کہ کمیشن کے روبرو پیش ہونے کے لیے علاقے کے متاثرہ لوگوں نے اس وقت مظاہرہ کیا جب پولس انہیں سرکٹ ہاؤس سے دور رکھنا چاہتی تھی ۔

کمیشن کی اراکین کو جب صورتحال کا معلوم ہوا تو انہوں نے دو افراد کو بلا کر اعلان کیا کہ وہ جمعہ کو ضلعی رابط افسر کے دفتر میں دوبارہ آئیں گے اور متا ثرہ لوگوں سے ملاقات کر کے ان کے تحریری بیانات قلمبند کریں گے۔

اسی بارے میں