آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 اکتوبر 2010 ,‭ 08:22 GMT 13:22 PST

ڈرون حملے: یورپی شدت پسندوں کے خلاف

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پیر کے روز ہوئے ڈرون حملے میں چار جرمن شدت پسندوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں یورپی باشندوں کی موجودگی اور ان کے عزائم کے بارے میں مختلف سوالات اور خدشات جنم لے رہے ہیں۔

یہ چار عرب نژاد جرمن شہری شمالی وزیرستان کے ایک مکان پر ہوئے ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے۔

شدت پسندانہ خیالات اور ان کو عملی شکل دینے کی خواہش رکھنے والے یورپی شہروں کی منزل صرف پاکستان یا افغانستان نہیں ہے بلکہ ان کی بڑی تعداد صومالیہ، سوڈان اور چیچنیا جیسے علاقوں کا بھی رخ کرتی ہے جہاں انہیں بہتر مواقع دستیاب ہیں۔

رپورٹ، جارج واشنگٹن یونیورسٹی

بتایا جاتا ہے کہ یہ ڈرون حملہ اس خفیہ آپریشن کی کڑی ہے جس کا آغاز جون میں بنوں سے ایک جرمن شدت پسند کی گرفتاری سے شروع ہوا۔ اس جرمن باشندے سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر افغانستان سے مزید یورپی باشندوں کی گرفتاری عمل میں آئی۔

افغانستان کی بگرام ائیربیس پر ان افراد نے تفتیش کاروں کو ان یورپی نژاد عرب، ترک، افغان اور پاکستانی باشندوں کے بارے میں بتایا جو مبینہ طور پر بعض یورپی شہروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

انہی افراد سے تفتیش کے بعد ہی یورپ کے بعض شہروں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا اور انہی کی نشاندہی پر شمالی وزیرستان میں پیر کے روز جاسوس طیاروں سے حملہ کیا گیا۔

ڈرون حملہ

ستمبر میں شمالی وزیرستان پر ڈرون حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا

جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں قائم ہوم لینڈ پالیسی انسٹی ٹیوٹ نے غیر ملکی شدت پسندوں کے موضوع پر شائع کی گئی ایک تازہ تحقیق میں جرمنی کی خفیہ ایجنسی کے حوالے بتایا ہے کہ سیکنڑوں جرمن شہری افغانستان اور پاکستان میں شدت پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

یہ ترک نژاد جرمن شہری اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور اسلامک جہاد یونین کے جھنڈے تلے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں سرکاری افواج کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جرمنی میں ایسی اطلاعات کو بھی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے کہ جرمن نژاد باشندوں نے طالبان میں علیحدہ شخصیت برقرار رکھنے کے لیے اپنا گروپ بھی قائم کر رکھا ہے۔

خطے میں کام کرنے والے صحافی سمیع یوسف زئی کے مطابق جرمنی اور دیگر یورپی نژاد افراد کا تعلق بنیادی طور القاعدہ ہی سے ہوتا ہے کہ اسی تنظیم کے نظریات سے متاثر ہو کر یہ لوگ عموماً شدت پسندی کی راہ منتخب کرتے ہیں۔

یہ یورپی باشندے عموماً مقامی افراد حتیٰ کہ مقامی شدت پسندوں کے ساتھ بھی گھل مل کر نہیں رہتے یوں ان کی علیحدہ شحصیت ایک گروہ کے طور پر برقرار رہتی ہے۔

سمیع یوسف زئی

’یہ لوگ پاکستانی یا افغان علاقوں میں پہنچنے کے بعد تنظیمی لحاظ سے مختلف گروپوں کے ساتھ تعلق بنا لیتے ہیں ان میں طالبان کے علاوہ بعض دیگر گروپ مثلاً اسلامک موومنٹ آف ازبکستان شامل ہے‘۔

سمیع یوسف زئی نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں موجود یورپی باشندوں میں زیادہ ترک نژاد ہیں جن کے اجداد جرمنی ہالینڈ اور فرانس میں آباد ہوئے۔ ان کے مطابق ’یہ یورپی باشندے عموماً مقامی افراد حتیٰ کہ مقامی شدت پسندوں کے ساتھ بھی گھل مل کر نہیں رہتے یوں ان کی علیحدہ شحصیت ایک گروہ کے طور پر برقرار رہتی ہے‘۔

رپورٹ کے مطابق جرمنی کی وفاقی پولیس نے کم از کم ستر جرمن شہریوں کی نشاندہی کی ہے جو شدت پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی غرض سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود ہیں۔ جرمن وفاقی پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ دو برس میں چھبیس جرمن باشندوں کو اسی غرض سے پاکستان جانے سے روکا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندانہ خیالات اور ان کو عملی شکل دینے کی خواہش رکھنے والے یورپی شہروں کی منزل صرف پاکستان یا افغانستان نہیں ہے بلکہ ان کی بڑی تعداد صومالیہ، سوڈان اور چیچنیا جیسے علاقوں کا بھی رخ کرتی ہے جہاں انہیں بہتر مواقع دستیاب ہیں۔ تاہم رپورٹ میں یورپی تفتیش کاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ رسائی کے حوالے سے پاکستان کے قبائلی علاقے شدت پسندوں کے لیے آسان ترین منزل ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔