شراب کی بوتلیں کتنی تھیں؟

Image caption تحقیقات کے دوران سات پولیس اہلکاروں کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں

اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کی طرف سے مبینہ طور پر قبضے میں لی گئیں ہزاروں شراب کی بوتلوں میں سے اکثریت کو شراب فروشوں کے ہاتھوں فروخت کرنے کے واقعہ کی تحقیقات ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی سربراہی میں دو رکنی کمیٹی کر رہی ہے۔

اس ضمن میں سات پولیس اہلکاروں کے بیانات قلمبند کر لیے گئے ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم میڈیا پر اس واقعہ سے متعلق آنے والی خبروں کے بعد دیا۔

چیف جسٹس نےاس ضمن میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا ہے جو دو ہفتوں کے اندر اس معاملے کی رپورٹ عدالت میں پیش کریں گے۔

میڈیا میں یہ خبریں آ رہی ہیں کہ تھانہ شالیمار کی حدود میں پولیس نے ایک شراب کا کنٹینر پکڑا تھا جس میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چھبیس ہزار سے زائد بوتلیں ظاہر کی گئی ہیں۔

اس حوالے سے ایک گمنام خط پولیس حکام اور میڈیا کے ارکان کو ملا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ شراب کی بوتلوں کی تعداد بیالیس ہزار سے زائد ہے جب کہ متعلقہ حکام نے ایف آئی ار میں صرف چھبیس ہزار دو سو ستتر بوتلیں ظاہر کی ہیں۔

گمنام خط میں کہا گیا ہے کہ بقیہ بوتلیں جن میں سے ساری بوتلیں انٹرنیشنل برانڈ کی تھیں شہر کے شراب فروشوں کو فروخت کردی ہیں۔

اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی آپریشن بنیامین کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں محکمانہ تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں ۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی اسلام آباد میر وعظ کی سربراہی میں پولیس کی دو رکنی کمیٹی نے اس واقعہ کی تحقیقات کے بعد ایک رپورٹ بھیجی ہے جس میں ان پولیس اہلکاروں کو بےگناہ قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شراب سے بھرے ہوئے کنٹینر سے متعلق ہونے والی پولیس کی کارروائی اور برآمد ہونے والی شراب کی بوتلوں کو سیل کردیا گیا ہے تا کہ اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کے دوران کوئی ماہر اگر ان بوتلوں میں پڑی ہوئی شراب کے نمونے لیبارٹری میں بھجوانا چاہے تو کوئی مشکل پیش نہ آئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان شراب کی بوتلوں میں کوئی ملاوٹ پائی گئی تو پولیس اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

میڈیا میں یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ چیف جسٹس کی طرف سے اس واقعے کا نوٹس لینے کے بعد پولیس اہلکار بوتلوں کی تعداد پوری کرنے کے لیے بین الاقوامی برانڈ کی شراب کی بوتلوں میں مبینہ طور پر مقامی طور پر تیار کی گئی شراب بھر رہے ہیں۔

مقامی تھانے کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس گروہ میں تیرہ سے زائد پولیس اہلکار ہیں جو مختلف ہوٹلوں اور کچی آبادیوں میں مقامی طور پر تیار ہونے والی شراب کی بوتلیں اکھٹی کر کے انہیں بیان الاقوامی برانڈ کی شراب کی بوتلوں میں بھر رہے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھرائی کا یہ عمل تھانے کی عمارت کی اوپر والی منزل میں پولیس اہلکاروں کے کمروں میں ہوتا ہے۔