کالاباغ ڈیم اہم: پنجاب اسمبلی

پنجاب اسمبلی

پنجاب اسمبلی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کالا ڈیم کی فوری تعمیر کے لیے چاروں صوبوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرے کیونکہ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ناصرف قابل عمل ہے بلکہ ملک مفاد میں بھی ہے۔

یہ مطالبہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حق میں پیش کی جانے والی ایک قرار داد کو متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے کیا گیا۔

قرارداد پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری ظہیر احمد خان نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ ماہرین نے کالا باغ ڈیم کو قابل عمل اور ملک کے لیے مفید قرار دیا ہے۔

سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں کالا باغ ڈیم بنانے کا عندیہ دیا گیا تھا لیکن سن دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے کالا باغ ڈیم نہ بنانے کا اعلان کیا۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ جس ڈیم کی تعمیر کے خلاف ملک کی تین صوبائی اسمبلیوں نے قرار دادیں منظور کی ہوں اس ڈیم کو کس طرح تعمیر کیا جاسکتا ہے۔

وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ کالا باغ ڈیم اسی صورت میں بن سکتا ہے اگر چاروں صوبے اس کی تعمیر پر تیار ہوجائیں ۔

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے تجویز پیش کی کہ کالا باغ ڈیم بنانے کے لیے چاروں صوبوں کے درمیان اتفاق پیدا کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے اور اس کمیٹی کے سربراہ قائد حزب مخالف چودھری ظہیر ہوں جبکہ کمیٹی کے دیگر ارکان میں سینیئر صوبائی وزیر راجہ ریاض اور صوبائی خزانہ تنویر اشرف کائرہ شامل ہوں۔

وزیر قانون کے بقول یہ کمیٹی تین صوبوں کا دورہ کرے اور کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے بارے اعتراضات اور تحفظات کو دور کرے۔تاہم سپیکر پنجاب رانا اقبال احمد خان نے صوبائی وزیر قانون کی طرف سے کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز کو رد کر دیا۔

قائد حزف اختلاف چودھری ظہیر الدین نے کہا کہ وہ دیگر تین صوبوں سے التجا کرتےہیں کہ وہ کالا باع ڈیم کی تعمیر کے لیے راضی ہوجائیں کیونکہ اس منصوبہ سے ملک میں ترقی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو اس وقت بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے جبکہ آبی ذخائر نہ ہونے کی وجہ پانی سمندرمیں چلا جاتا ہے۔

پنجاب اسمبلی کے ارکین نے ایک اور قرار داد کے ذریعے امریکی عدالت کی طرف سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو دی جانے والی سزا کی مذمت کی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کی چھیاسی برس قید کی سزا کو ختم کروانے اور ان کی باعزت وطن واپسی کے اقدمات اٹھائے۔

اجلاس میں وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے بھارت کے زیر انتظام کمشیر میں ہونے والے بھارتی فوج کی پرتشدد کارروائی کی پروز مذمت کی اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیروں کی اخلاقی اور سفارتی امداد کرے۔

اجلاس میں ایک قرار داد میں ذریعے اس بات پر تشویش کا اظہار کیاگیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ سے تعاون کرنے پر پاکستان کو چالیس ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے لیکن امریکہ نے اس تعاون کے بدلے پاکستان کو سویلین نیوکلیئر پاور سے محروم رکھا ہے جبکہ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدے کو پابندی کی زد میں لایا جا رہا ہے۔

اجلاس شروع ہونے پر مسلم لیگ نون کی خواتین اراکین نے پنجاب اسمبلی کی عمارت کے باہر سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف احتجاج کیا اور ان کی تصاویر پر جوتے مارے اور پھر ان تصاویر کو جلا دیا۔

اسی بارے میں