کرائے کے بجلی گھر، معاملہ عدالت میں

فائل فوٹو
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ فوری طور پر ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ممکن نہیں

پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو) کے حکام کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزارنومیں کرائے کے بجلی گھروں سے بجلی حاصل کرنے کے لیے اٹھارہ ارب روپے دیے گئے جبکہ گُزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران صرف 90 میگا واٹ بجلی سسٹم میں لائی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ فوری طور پر ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کو بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق از خودنوٹس کی سماعت کی۔

پیپکو کے فنانشل ایڈوائزر طارق رحیم نے عدالت کو بتایا کہ سنہ دوہزار نو میں اٹھارہ ارب روپے دیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ بجلی گھروں میں سے تین فی الوقت کام کررہے ہیں جن سے ایک سو پچاس میگاواٹ بجلی سسٹم میں آرہی ہے جکہ چار سو سے پانچ میگاواٹ بجلی سسٹم میں آجائے گی۔

آٹھ بجلی گھروں میں بجلی کی لاگت چودہ روپے فی یونٹ پڑ رہی ہے جس پر بینچ کا کہنا تھا کہ یہ بجلی بہت مہنگی ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے پوچھا کہ پانی سے پیدا ہونے والی بجلی پر کتنی لاگت آتی ہے جس پر پیپکو کے وکیل نے بتایا کہ اس پر ڈیڑھ سے دو روپے فی یونٹ خرچہ آتا ہے۔

وکیل راجہ انوار الحق نے عدالت کو بتایا کہ پیپکو حکام نے اُنہیں پیٹرول نہیں دیا جس کی وجہ سے یہ بجلی گھر گُزشتہ آگست سے بند پڑا ہے اس طرح اس وقت صرف دو بجلی گھر کام کرہے ہیں جن میں سے مجموعی طور پر 90 میگاواٹ بجلی سسٹم میں آرہی ہے۔

قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ قاف کے پارلیمانی لیڈر فیصل صالح حیات نے کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق کچھ ثبوت بھی عدالت میں پیش کیے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے جان بوجھ کر بجلی کا بحران پیدا کیا ہے تاکہ کرائے کے بجلی گھروں کو خریدا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ساڑھے پانچ کروڑ ڈالر رینٹل بجلی گھروں کو ایڈوانس کے طور پر ادا کردیے گئے جبکہ اس کی قیمت ڈھائی کروڑ ڈالر ہے۔

Image caption پاکستان میں کئی برسوں سے بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے

فیصل صالح حیات کا کہنا تھا کہ کرائے کے بجلی گھروں کی خریداری کے حوالے سے ایشائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ حکومت کی طرف سے اس منصوبے میں بدعنوانی کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے استفسار کیا کہ کم قیمت کے بجلی گھر کے لیے زیادہ رقم کیوں ادا کی گئی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر حکومت عارضی طور پر حاصل کیے گئے کرائے کے بجلی گھروں کی بجائے مستقل منصوبوں پر عمل درآمد کرتی تو اس کے دورس نتائج برآمد ہوتے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو اس سرمایہ کاری کے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔

عدالت نے پیپکو حکام سے گُزشتہ ایک سال کے دوران بجلی کی کمی کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے۔

اسی بارے میں