دنیا میں کتنا غم؟

فائل فوٹو
Image caption حالیہ سیلاب میں خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوئیں

دنیا میں کتنا غم ہے میرا غم کتنا کم ہے۔ایسا نہیں کہ یہ مصرع مجھے کبھی پہلے یاد نہ آیا ہو بلکہ زندگی میں کئی لوگ ایسے ملے جن کی دکھ بھری داستان نے مجھے اس مصرعے کے معنی خوب سمجھائے لیکن ملتان کے سیلاب زدہ علاقے نواب پور میں غربت کی ماری خواتین کی باتوں نے مجھے ایک بار پھر یاد کرا دیا کہ دنیا میں غم بھی بہت ہیں اور غربت کی تو کوئی انتہا ہی نہیں۔

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے ساتھ ان کے ایک پروگرام سورج مہم کے افتتاح کے لیے لاہور سے ملتان کا سفر کیا اور زندگی میں پہلی بار ہیلی کاپٹر میں بیٹھنے کا تجربہ بھی ہوا۔

ہیلی کاپٹر نے مجھے بچپن میں کہانیوں میں پڑھے ہوئے اڑن کھٹولے کی یاد دلائی اور سوچا کہ جدید دنیا میں پایا جانے والا یہ ہیلی کاپٹر شاید اڑن کھٹولے کو ذہن میں رکھ کر بنایا گیا ہو گا لیکن یہ اندازہ نہ تھا کہ جدید دور کی یہ مشین مجھے پتھر کے دور میں لے جائے گی۔

جس جگہ سورج مہم منصوبے کے افتتاح کے لیے قناتیں لگائی گئیں تھیں وہاں ارد گرد دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ یہاں کے باسیوں کو جدید دور کی بنیادی سہولتوں میں سے کچھ بھی میسر نہیں۔عورتوں کی عمریں اتنی نہیں تھیں لیکن بہت سے بچے پیدا کرنے اور کم خوراکی نے ان کے چہروں پر ان گنت جھریاں ڈال دیں تھیں۔

گورنر پنجاب کے ساتھ جو قافلہ تھا اس میں واحد خاتون میں تھی ۔پنڈال بھی اس علاقے کے ان ضرورت مند مردوں سے بھرا تھا جن میں کئی شاید یہ سوچ کر آئے تھے کہ لاہور سے آنے والے ارباب اختیار ان کی جھولیاں بھر کر جائیں گے۔

اسی پنڈال کے کنارے ایک خالی چارپائی پر میں ابھی بیٹھی ہی تھی کہ چند لمحوں میں میرے سامنے بہت سی عورتیں آ کر زمین پر بیٹھ گئیں۔

وہ میرے ہاتھ میں اپنے اپنے شناختی کارڈ تھما رہیں تھیں شاید اس لیے کہ انہیں بھی اندازہ تھا کہ شناختی کارڈ کے بغیر کوئی امداد نہیں ملتی، چاہے کوئی شخص کتنا بھی ضرورت مند کیوں نہ ہو۔

خواتین میرے پاس جمع ہو گئیں کیونکہ مردوں سے بھرے پنڈال میں سکیورٹی اہلکاروں میں گھرے ہوئے گورنر پنجاب تک تو وہ نہیں پہنچ سکتیں تھیں

وہ سب مجھے اپنے مسئلے بتا رہیں تھیں۔ سًکینہ کی دس بیٹیاں تھیں شوہر مر چکا تھا اور سیلاب نے کچا کوٹھا بھی گرا دیا وہ مجھ سے امداد کی طالب تھی۔

منصب مائی کے بچے معذور تھے اور کمانے والا کوئی نہ تھا، کہہ رہی تھی کہ میرا گھر بنوا دو۔

بصرا مائی کے بچے چھوٹے چھوٹے تھے، خاوند مر چکا تھا، انھوں نے خود کھیتی باڑی کر کے فصل اگائی جو تمام سیلاب میں بہہ گئی، کہہ رہی تھیں میری محنت کے نقصان کا کچھ تو ازالہ کرو۔

یعنی سب کی ایک ہی داستان بے پناہ غربت غربت اور بس غربت اور اس پر سیلابی پانی کی ستم ظریفی۔

ادھر سورج مہم کے افتتاح کے موقعے پر گورنر پنجاب کی تقریر ختم ہوئی، میں چارپائی سے ان خواتین کو مدد دینے کا وعدہ کیے بغیر اٹھ کھڑی ہوئی ، ان کی طرف دیکھنے سے بھی گریزاں تھی کیونکہ اُن کی آس پوری نہ ہونے پر ان کے چہروں پر آنے والی مایوسی کا سامنا کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی۔

اسی بارے میں