کراچی: سپاہ صحابہ کے مولانا ہلاک

فائل فوٹو
Image caption کراچی میں کئی برسوں سے ٹارگٹ کیلنگ کا سلسلہ جاری ہے

کراچی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے کالعدم سپاہ صحابہ کے سابق رہنما مولانا محمد امین کے قتل کا مقدمہ نامعوم ملزمان کے خلاف درج کر لیاگیا ہے۔

سائیٹ پولیس کا کہنا ہے کہ مولانا محمد امین پرگزشتہ شب اس وقت نورس چورنگی پر حملہ کیا گیا جبکہ وہ ہائی ایکس گاڑی میں مدرسہ جار رہے تھے، اس حملے میں وہ موقعے پر ہی ہلاک ہوگئے، ڈاکٹروں کے مطابق انہیں پانچ گولیاں لگیں، حکام کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے۔

واقعے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کی گئی اور سائیٹ ایریا میں کچھ کاروبار بند ہوگیا۔

مولانا محمد امین کا تعلق پنجاب کے شہر ساہیوال سے تھے، آجکل وہ مدرسہ بنوریہ العالمیہ سے منسلک تھے، جہاں وہ بطور شیخ الحدیث فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

جامعہ بنوریہ العالمیہ کے مہتم مفتی نعیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا محمد امین گزشتہ سترہ برس سے ان کے مدرسے سے منسلک تھے اور انہوں نے کبھی کسی خطرے یا تشویش کی بات نہیں کی۔

انہوں نے بتایا کہ مولانا امین پندرہ سال قبل سپاہ صحابہ سے علیحدگی اختیار کرچکے تھے اب ان کا ان سے عملی کوئی تعلق نہیں تھا۔

مقتول گارڈن میں واقع مسجد نور کے پیش امام تھے، جہاں ماہ رمضان میں دو مذہبی فرقوں کے درمیان تنازعے کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

مفتی نعیم کے مطابق مولا نا امین کو جمعرات کو نماز ظہر کے بعد جامعہ بنوریہ العالمیہ میں دفن کیا جائیگا۔

اسی بارے میں