قومی اسمبلی میں نیٹو حملے کی شدید مذمت

Image caption پاکستان میں اتحادی افواج کی طرف سے سرحدی خلاف ورزیوں اور ڈرون حملوں کی شدید مخالفت ہے

امریکہ اور اتحادی افواج کے ہیلی کاپٹرز کی جانب سے پاکستان میں گھس کر چیک پوسٹ پر حملہ کرنے کے خلاف جمعرات کو قومی اسمبلی میں بحث ہوئی جس میں اسمبلی اراکین نے امریکہ پر سخت تنقید کی۔

نیٹو ٹینکرز پر حملہ: تصاویر

اراکین نے کہا کہ یہ حملہ پاکستان کی خود مختاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔ بعض اراکین نے حکومت اور فوج کی جانب سے اس حملے پر امریکہ اور نیٹو سے سخت احتجاج اور نیٹو کی سپلائی معطل کرنے کے اقدامات کو سراہا۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ بحث کے دوران تین سو بیالیس اراکین کے ایوان میں حاضری کورم سے بھی کم تھی اور بیشتر سرکردہ رہنما اور وزراء حاضر نہیں تھے۔ جس سے اتنے اہم موضوع پر مختلف سیاسی جماعتوں کی عدم دلچسپی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی تحریک التویٰ پر بحث میں آج صرف چار راکین نے حصہ لیا۔ حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی رکن عمرانہ سعید نے کہا کہ نیٹو کے حملوں میں فرنٹیئر کور کے تین اہلکاروں سمیت پینتیس شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

حکومت کی اتحادی جماعت نے کہا کہ امریکہ اپنی ریاست ٹیکساس سے ملحقہ میکسیکو میں سمگلروں کے خلاف تو ڈرون حملے نہیں کرتا لیکن پاکستان میں آئے روز بنا پائلٹ کے طیاروں سے میزائل داغتا رہتا ہے۔

حزب مخالف کی جماعت مسلم لیگ (ق) کے سردار بہادر خان سیہڑ نے کہا کہ نیٹو کی جانب سے پاکستان میں گھس کر حملے کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بعد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو اور امریکہ کو پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرنا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب جب امریکہ اور نیٹو نے پاکستان سے معافی مانگی ہے تو پاکستان کو نیٹو کی سپلائی بحال کردینی چاہیے کیونکہ آج کل کی دنیا میں کوئی بھی ملک زیادہ دیر تک کٹ کر نہیں رہ سکتا۔

حزب مخالف کے رکن بہادر خان نے تو حکومت اور فوج دونوں کے نیٹو اور امریکہ سے احتجاج کی تعریف کی۔

خضدار سے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کی حمایت سے آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے رکن ایڈووکیٹ محمد عثمان نے کہا کہ نیٹو کے حملے پاکستان میں جاری ساٹھ سالہ غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

ان کے بقول اگر پاکستان پڑوسی ممالک میں مداخلت نہ کرتا تو مشرقی اور مغربی سرحدیں محفوظ رہتیں۔ انہوں نے نیٹو حملوں پر کم اور اندرونی معاملات پر زیادہ توجہ مرکوز کیے رکھی۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پرویز مشرف کو خوش کرنے کے لیے بلوچ سیاسی رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں کرنے والے سابق کور کمانڈر اور مسلم لیگ (ن) کے رکن عبدالقادر بلوچ سے بلوچستان کے بارے میں مشاورت نہ کیا کریں۔

پاکستان میں گھس کر نیٹو اور امریکی افواج کے حملوں کے متعلق تحریک التویٰ پر قومی اسمبلی میں بحث جمعہ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

اسی بارے میں