’بیرونِ ملک، پہاڑوں پر نہیں جائیں گے‘

آصف علی زرداری: فائل فوٹو
Image caption پارلیمنٹ کو خود کا دفاع کرنا آتا ہے

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مخالفین کا مقابلہ سیاسی میدان میں کیا جائیگا، وہ مخالفت میں جیل جائیں گے مگر پہاڑوں پر یا بیرون ملک نہیں۔

کراچی میں الیکٹرانک میڈیا سے منسلک صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمشید دستی کی میڈیا نے مخالفت کی مگر ان کی جماعت نے انہیں دوبارہ ٹکٹ دیا اور وہ کامیاب ہوئے، اس طرح مخالفین کو سیاسی جواب دیا گیا۔

سوئس مقدمات بحال کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں زیر سماعت درخواست کے امکانی فیصلے پر انہوں نے تبصرے سے انکار کیا۔

صدر زرداری نے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ کو با اختیار کر دیا ہے اور اب یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ خود کو کمزور ثابت کرتی ہے یا مضبوط۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو خود کا دفاع کرنا آتا ہے۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی سیاست میں آمد پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں سیاست میں آنے اور سیاست کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے مشرف کے لیے یہ شعر پڑہ کر سنایا: ’انہی پتھروں پہ چل کے اگر آ سکو تو آؤ ، میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے۔‘

نیٹو ہیلی کاپٹروں کی جانب سے پاکستان کی حدود کے اندر بمباری کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے سخت موقف کے باعث ہی نیٹو اور امریکہ نے معافی مانگی ہے، ’باقی حادثے ہوتے رہتے ہیں۔‘

صحافیوں کی جانب سے ٹی وی چینلز کے مالکان پر سہولیات کی عدم فراہمی اور کم اجرت کی شکایت پر صدر زرداری کا کہنا تھا کہ ’میڈیا نجی شعبہ ہے، جسے حکومت ریگیولیٹ نہیں کرسکتی۔ اداروں کو یونین سازی کا حق ہے اور دیگر قانونی راستے کھلے ہیں، صحافی ان سے رجوع کریں، صرف حکومت اسپون فیڈنگ نہیں کرسکتی۔‘

صدر زرداری نے صحافیوں کو یقین دہانی کرائی کہ انہیں بھی بینظیر ہیلتھ کارڈ کا اجرا کیا جائیگا۔

جب صدر پاکستان سے کہا گیا کہ وہ ان سیاسی اداکاروں کی نشاندہی کریں جن کی وہ ہمیشہ بات کرتے ہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ یہ اداکار کسی سے ڈھکے چھپے نہیں البتہ ان کے پیچھے ہدایت کار کی انہیں بھی تلاش ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں جمہوریت پسند ہوں اس لیے مجھے کسی میڈل یا بین الاقوامی حمایت کی ضرورت نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں