آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 اکتوبر 2010 ,‭ 06:30 GMT 11:30 PST

ہلاکتوں کی ویڈیو، تفتیش کاحکم

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے فوجی وردی میں ملبوس افراد کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کی ویڈیو کی تحقیقات کے لیے ایک انکوئری بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے تاکہ یونیفارم میں ملبوس افراد کی شاخت کی جاسکے اور دیکھا جا سکے کہ آیا یہ ویڈیو اصل ہے یا جعلی۔

انٹرنیٹ پر نظر آنے والی اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ فوجی ودری میں ملبوس افراد جوانوں کے ایک گروپ کو ایک ایک کر کے جنگل سے گزار رہے ہیں۔

اس کے بعد روایتی لباس میں ملبوس چھ آدمیوں کے اس گروپ کو ایک قطار میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ ان افراد کی آنکھوں پر پٹی اور ہاتھ پیچھے کی جانب بندھے ہوئے ہیں۔بعد ازاں فوجی وردی میں ملبوس سات افراد ایک قطار بنا کر ہتھیار اٹھاتے ہیں۔ اس کے بعد گولیاں چلنے کی آواز آتی ہے اور سول کپڑوں والے چھ افراد زمین پر گر جاتے ہیں۔

تاہم ابھی تک اس ویڈیو کے اصل ہونے کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے اور یہ بھی نہیں معلوم کہ اسے کب اور کہاں بنایا گیا تھا۔

تحقیقاتی بورڈ ویڈیو میں موجود فوجی وردی میں ملبوس افراد کی شناخت اور اس میں پیش آنے والے واقعات کی حقیقت جاننے کی کوشش کرے گا۔

آئی ایس پی آر

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق تحقیقاتی بورڈ اس ویڈیو میں موجود فوجی وردی میں ملبوس افراد کی شناخت اور اس میں پیش آنے والے واقعات کی حقیقت جاننے کی کوشش کرے گا۔

بیان کے مطابق ایک میجر جنرل اس تین سے چار رکنی بورڈ کے سربراہ ہوں گے اور ان کی مدد کے لیے تین یا چار ایسے سینیئر افسران بھی اس بورڈ میں شامل ہوں گے جنہیں اس قسم کے معاملات کی تفتیش کا تجربہ ہے۔ بورڈ کے ارکان کے ناموں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بورڈ کو ضروری تکنیکی مہارت بھی مہیا کی جائے گی۔

حقوق انسانی اور ماورائے عدالت قتل کے بارے میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ہدایات کا حوالے دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ان کے حکم کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک پیشہ ور فوج سے اس قسم کے رویے کی توقع نہیں کی جاسکتی جو عام شہریوں کو دہشت گردی سے تحفظ فراہم کرنے میں مصروف ہے۔

ماضی میں کئی مواقعوں پر پاکستان فوج کو بدنام کرنے، افراتفری پھیلانے اور اپنی شناخت چھپانے کے لیے دہشت گردوں نے فوجی لبادہ استعمال کیا ہے۔ اس کی ایک مثال جی ایچ کیو پر حملہ بھی ہے۔

آئی ایس پی آر

ان افراد کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ اگر ثابت ہوا تو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ لڑائی کے قواعد مقدس ہیں۔

تاہم انہوں نے لوگوں کو پاکستان فوج کے سپاہیوں کے ملوث ہونے کے بارے میں کسی فیصلہ پر جلد پہنچنے سے باز رہنے کے لیے کہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں کئی مواقع پر پاکستان فوج کو بدنام کرنے، افراتفری پھیلانے اور اپنی شناخت چھپانے کے لیے دہشت گردوں نے فوجی لبادہ استعمال کیا ہے۔ اس کی ایک مثال جی ایچ کیو پر حملہ بھی ہے۔

جنرل کیانی نے تمام کمانڈروں کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسے واقعات کا سختی سے نوٹس لیں اور انہیں اس بابت فوج کی ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کہا ہے۔

مبصرین فوج کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات کو ایک غیرمعمولی قدم قرار دے رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی ایک ویڈیو میں پاکستانی فوجیوں کو مبینہ طور پر زیر حراست افراد کو زدکوب کرنے کی ویڈیو سامنے آئی تھی تاہم اس پر ایسی کسی تحقیقات کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان فوج نے گزشتہ سال وادی سوات میں طالبان کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا اور اس عرصے کے دوران انسانی حقوق کی تنظیمیں فوج پر ماورائے عدالت قتل کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔