زلزلہ برسی پر شٹرڈاؤن

فائل فوٹو، کشمیر میں زلزلہ دو ہزار پانچ
Image caption دو ہزار پانچ کے زلزلے میں جہاں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھی وہیں بڑی تعداد میں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچا تھا

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں زلزے کی پانچویں برسی کے موقع پر تعمیر نو کے منصوبوں کے شروع ہونے میں تاخیر کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔

کشمیر میں سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور صحافیوں پر مشتمل تنظیم تحریک تعمیر نو فورم کے تحت شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے جبکہ تحریک میں شامل زلزلہ متاثرین منصوبوں میں تاخیر کے خلاف اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں۔

’مظفرآباد کی تعمیرنو پر اختلافات‘

اکتوبر سنہ دو ہزار پانچ کا زلزلہ

کشمیر میں یہ اتحاد مقامی سطح پر حال ہی میں قائم کیا گیا ہے۔اس کا مقصد تعمیر نو کے کاموں میں تیزی لانے کے لیے حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالنا ہے۔

اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کے لیے متاثرہ شہروں مظفرآباد، باغ اور راولاکوٹ سے درجنوں گاڑیوں کے قافلے میں اسلام آباد پہنچے ہیں۔

اس مظاہرے کے ایک منتظم راجہ وسیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم پاکستان کے عوامی نمائندوں کو آگاہ کریں کہ متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کا کام نہیں ہو رہا ہے اور وہ اس کی تحقیقات کریں کہ متاثرین کے نام پر آنے والے اربوں ڈالر کہاں گئے۔‘

دریں اثنا مظفرآباد شہر میں بھی احتجاج کے طور پر تمام دوکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک معمول سے بہت کم ہے۔

زلزلے سے متعلق پاکستان کے تعمیر نو اور بحالی کے ادارے کے حکام کے مطابق ان تینوں شہروں کی تعمیر نو پر کل پینتیس کروڑ ڈالر کی رقم خرچ کی جائے گی جس میں سے چین کی حکومت پاکستان کو تیس کروڑ ڈالر آسان شرائط پر قرض فراہم کر رہی ہے جب کہ پانچ کروڑ تیس لاکھ ڈالر حکومت پاکستان فراہم کرے گی۔

اس رقم سے ان تینوں شہروں میں چین کی دو کمپنیوں نے کل دو سو اٹھارہ منصوبے تعمیر کرنے ہیں۔ تاہم پانچ سالوں کے دوران کوئی بھی منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا ہے۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متعلق تعمیر نو و بحالی کے ریاستی ادارے یعنی ’سیرا‘ کے ڈائریکٹر مانیٹرنگ جمیل احمد خان نے کہا کہ تینوں شہروں میں چھ منصوبوں پر کام شروع کیا گیا جن میں بیشتر پر کام ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔

دلچسپت بات یہ ہے کہ گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کو پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے مظفرآباد میں ایک شاپنگ کمپلیکس اور ایک سڑک کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔ تاہم ایک سال گزرنے کے باجود ان دونوں منصوبوں پر کام ابتدائی مرحلے میں ہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ شاپنگ کمپلیکس کا ابھی تک صرف پانچ سے چھ فیصد کام ہوا ہے جبکہ سڑک پر بھی کام ابتدائی مرحلے میں ہے اور حالیہ سیلاب کی وجہ سے اس کو نقصان بھی پہنچا ہے۔

زلزلے سے متعلق تعمیر نو و بحالی کے ریاستی ادارے یعنی سیرا کے حکام مانتے ہیں کہ تینوں متاثرہ شہروں مظفرآباد، باغ اور راولاکوٹ میں اب تک صرف چھ منصوبوں پر شروع کیا جاسکا جن میں سے بیشتر پر کام ابتدائی مرحلے میں ہے۔

سیرا کے ڈائریکڑ مانٹیرنگ جمیل احمد خان مانتے ہیں کہ منصوبوں میں کام شروع کرنے میں تاخیر ہوئی لیکن ان کا کہنا ہے کہ چین کی کمپنیوں کے ساتھ ریٹس طے کرنے، منصوبے بندی کرنا، ڈیزائننگ میں وقت صرف ہوا۔

انھوں نے کہا کہ ’چھ منصوبوں پر پہلے کام شروع ہے جبکہ اتنی تعداد میں منصوبوں پر آج سنگ بنیاد رکھا گیا اور مزید پینتیس منصوبوں کی ڈیزاننگ آخری مرحلے میں ہے اور ان تمام منصوبوں پر اگلے تین سے چار ماہ میں کام شروع کیا جائے گا۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ سن دو ہزار بارہ تک تینوں متاثرہ شہروں میں تمام منصوبے مکمل ہوجائیں گے۔

حکام کا موقف اپنی جگہ لیکن متاثرین انکے دعوؤں پر اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد سے مظفرآباد سے اسلام آباد تک حکمران اور سرکاری عہدیدار واعدے تو کرتے رہے لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا ہے۔

اسی بارے میں