آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 اکتوبر 2010 ,‭ 11:52 GMT 16:52 PST

کراچی میں سوگ، زیادہ تر کاروباری مراکز بند

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان کے شہر کراچی میں ساحل سمندر پر واقع صوفی بزرگ عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں دو خودکش حملوں کے بعد شہر کے تمام مزاروں تین روز کے لیے بند جبکہ سوگ میں اکثر کاروباری مراکز بند ہیں۔

جمعرات کی شام کو ہونے والے ان حملوں میں دو حملہ آوروں سمیت دس افراد ہلاک اور پچپن سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔زخمیوں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ ایک خودکش حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے۔ حملہ آور کا تعلق قبائلی علاقے کے محسود قبیلے سے ہے۔

کلِک مزاروں اور گدی نشینوں پر حملے

کلِک مزار پر حملے کے بعد کی تصاویر

کلِک مزاروں کی سکیورٹی پر خدشات

جمعہ کو کراچی میں خودکش حملوں کے دوسرے روز شہر کا اکثر کاروبار سوگ میں بند ہے تاہم نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے کھلے ہوئے ہیں۔

جمعہ کو عبداللہ شاہ غازی کا مزار اور اس سے ملحقہ سڑک سنسان اور ویران رہی

شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی معمول سے کم ہے اور مختلف مذہبی جماعتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی، جمعیت علما پاکستان اور سنی رہبر کونسل کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے، سنی رہبر کونسل کے مظاہرین نے میمن مسجد کھاردر سے وزیراعلیٰ ہاوس کی جانب مارچ کی کوشش کی مگر انہیں شاہین کمپلیکس کے قریب پولیس نے روک لیا۔

بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی کراچی کے صدر نجی عالم نے مظاہرین سے ملاقات کی، ان رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ مزاروں میں زائرین کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور ان مزاروں سے منسلک مساجد میں بریلوی پیش امام مقرر کیے جائیں۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے قومی اسمبلی میں بتایا ہے کہ ایک خودکش حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ انٹیلیجنس ادارے مضبوط ہیں جس کی وجہ سے دھماکوں کے چوبیس گھنٹوں کے اندر حملہ آور کی شناحت ہو گئی ہے۔رحمان ملک کا کہنا تھا کہ حملہ آور کا تعلق قبائلی علاقے کے محسود قبیلے سے ہے۔

دوسری جانب عبداللہ شاہ غازی کا مزار اور اس سے ملحقہ سڑک سنسان اور ویران رہی، اور بڑی تعداد میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات رہے۔

مزار کے احاطے کے اندر ایک مسجد بھی واقعے ہے جہاں نماز جمعہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد شریک ہوتی ہے، مگر جمعہ کو مسجد میں عام لوگوں کا داخلہ بھی بند تھا۔

سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے کہا کہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کراچی میں واقع تمام مزاروں کو تین روز کے لیے زائرین کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

محکمۂ اوقاف کا کہنا ہے کہ شہر میں پچیس مزارت ہیں جن کو زائرین کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

حملے کے بعد سنی تحریک اور جعفریہ الائنس کی جانب سے تین روز سوگ کا اعلان کیا گیا جس کی متحدہ قومی موومنٹ نے بھی حمایت کی ہے۔

کلِک جمعرات کو پولیس کے مطابق دونوں دھماکے مزار کے داخلی دروازے پر ہوئے۔ صوبہ سندھ کے وزیرِ داخلہ ذوالفقار مرزا نے جائے وقوعہ پر موجود صحافیوں کو بتایا کہ دونوں دھماکے خودکش تھے اور حملہ آور مزار کے اندر داخل ہونا چاہتے تھے۔

دھماکے کے وقت مزار پر جمعرات کی وجہ سے زائرین کا معمول سے زیادہ رش تھا

کلِک دھماکے کے وقت مزار پر جمعرات کی وجہ سے زائرین کا معمول سے زیادہ رش تھا۔

دھماکوں کے بعد شہر کے اکثر کاروبار اور تجارتی مرکز بند ہوگئے تھے اور کئی پیٹرول پمپوں اور سی این جی سٹیشنوں کو بھی قنات لگا کر بند کردیا گیا تھا۔

ملیر، جہانگیر روڈ، گارڈن اور لانڈھی میں فائرنگ بھی ہوئی جس میں پانچ کے قریب افراد زخمی ہوگئے جبکہ مختلف علاقوں میں تین گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا۔

سندھ حکومت نے دھماکہ میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے پچاس پچاس ہزار روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

تحریکِ طالبان پاکستان کے ایک نائب ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی اردو کے دلاور خان وزیر کو فون پر بتایا ہے کہ یہ دھماکے تحریکِ طالبان کا کام ہیں اور وہ ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بریلوی مسلمان طالبان کے مخلاف ہیں اسی لیے انہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ماضی میں شدت پسندی کے واقعے کے پیش نظر عبداللہ شاہ غازی کے مزار دو بار بند کیا جا چکا ہے۔

کراچی سے نامہ نگار ثناء احمد کا کہنا ہے کہ عبداللہ شاہ کو صوبہ سندھ خاص طور پر کراچی میں عظیم صوفی بزرگ مانا جاتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق ساحل سمندر کے قریب ایک پہاڑی ٹیلے پر واقع عبداللہ شاہ کا مزار شہر کو سمندری طوفانوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔