آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 اکتوبر 2010 ,‭ 11:53 GMT 16:53 PST

طورخم پر نیٹو سپلائی روٹ کھولنے کا اعلان

پاکستان نے طورغم سے گزشتہ دس روز سے بند نیٹو سپلائی روٹ فوری طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

طورخم سے نیٹو سپلائی روٹ کھولنے کا اعلان پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک اعلان میں کیا گیا۔

پاکستان نے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں گزشتہ ہفتے نیٹو افواج کے حملے کے بعد سے افغانستان میں تعینات نیٹو افوج کو تیل اور دیگر سامان کی سپلائی کے مرکزی راستے کو بند کر دیا تھا۔ کرم ایجنسی میں نیٹو افواج کے حملے کے بعد سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں نیٹو افواج کو تیل فراہم کرنے والے ٹینکروں پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا تھا اورگزشتہ دس دنوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں ڈیڑھ سو سے زیادہ ٹینکروں کو جلا دیا گیا تھا۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

دوسری طرف نیٹو افواج کے لیے تیل اور دیگر سامان لے جانے والے ٹینکروں اور کنٹینروں پر پابندی اٹھائے جانے کے اعلان کے باوجود اب بھی بڑی تعداد میں گاڑیاں کھڑی ہیں۔ مقامی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ باضابطہ احکامات موصول ہونے کے بعد اس پر عمل درآمد سوموار تک ہی ہو سکے گا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سمیت ملک کے مختلف مقامات پر اس وقت نیٹو افواج کو تیل اور دیگر سامان فراہم کرنے والے ٹینکر اور کنٹینر موجود ہیں۔ پاک افغان سرحد کے قریب لنڈی کوتل میں کوئی دو سو کے لگ بھگ ٹینکر اور کنٹینر کھڑے ہیں۔

لنڈی کوتل کے علاقے جمرود سے ایک مقامی شہری سعداللہ آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے اگرچہ اعلان کر دیا ہوگا لیکن اب بھی علاقے میں یہ کنٹینر اور ٹینکر موجود ہیں اور ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے کہ اعلان کے بعد یہ گاڑیاں افغانستان کی جانب روانہ ہو گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سرحدی علاقے میں سنیچر اور اتوار کے روز چھٹی ہوتی ہے اس لیے اگر یہاں باضابطہ احکامات موصول ہو بھی جائیں پھر بھی اس پر عملدرآمد سوموار کے روز ہی ہو سکے گا۔

سعداللہ آفریدی کے مطابق سرحد کے قریب علاقوں میں دکانیں اور دیگر سرگرمیاں بھی سہہ پہر کے بعد بند ہوجاتی ہیں اور لوگ اپنے اپنے علاقوں کو چلے جاتے ہیں کیونکہ سکیورٹی کےحالات کی وجہ سے یہاں پر شام کے بعد کوئی نہیں رہتا۔

نیٹو افواج کے لیے تیل اور دیگر سامان فراہم کرنے والے ان ٹینکروں اور کنٹینروں پر حکومت پاکستان نے پابندی عائد کر دی تھی اور یہ پابندی کوئی دس روز تک رہی جس سے ان گاڑیوں کے ڈرائیوروں نے بتایا کہ اس میں کچھ ایسی خوراکی اشیاء ہو سکتی ہیں جن کے خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

مقامی صحافی ولی خان شنواری نے بتایا ہے کہ ان ڈرائیوروں کے مطابق ان کنٹینروں میں فوجیوں کی وردیاں، مشینری، الیکٹرانک اور فوجی سامان کے علاوہ خوراک کی اشیاء بھی ہوتی ہیں جن میں سے بعض جیسے گوشت، پھل اور سبزیوں کے خراب ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ اتنے روز میں ان کنٹینروں میں ٹھنڈک فراہم کرنے والے جنریٹروں میں تیل ختم ہوگیا تھا اور درجہ حرارت بڑھنے سے یہ خراب ہو سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ یہاں ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں بھی شائع ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ کنٹینروں اور ٹینکروں کی وجہ سے سڑکوں کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے اس لیے پاکستان حکومت نیٹو حکام سے اس بارے میں کوئی ساٹھ ارب روپے معاوضہ طلب کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے تاکہ سڑکوں کا نظام بہتر کیا جا سکے۔ اس بارے میں اب تک حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔