پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبیلوں کے ایک سو اڑتالیس ارکان معطل

الیکشن کمیشن آف پاکستان نےآمدن کے گوشوارے جمع نہ کروانے پر ایک سو اڑتالیس ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی اور سینٹ کے ارکان کی رکنیت معطل کر دی ہے۔

جن ارکان کی رکنیت معطل کی گئی ہے اُن میں چار وفاقی وزراء اور جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) کے سربراہ اور کشمیر کے بارے میں پارلیمنٹ کی مشترکہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن بھی شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن سے جاری ہونے والی فہرست کے مطابق چار وفاقی وزراء میں وزیرِ تعلیم سردار آصف احمد علی،محنت و افرادی قوت کے وفاقی وزیر سید خورشید شاہ، اطلاعات کے وزیر مملکت صمصام بخاری اور سیاحت کے وفاقی وزیر مولانا عطاالرحمن شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان افضل خان کا کہنا ہے کہ ان ارکانِ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کی معطلی عوامی نمائندگی ایکٹ کے ذریعے کی گئی ہے۔

جن ارکان پارلیمنٹ اورچاروں صوبوں کی اسمبلیوں کی رکنیت معطل کی گئی ہے اُن میں قومی اسمبلی کے پینتیس ، سینیٹ کے چار، پنجاب اسمبلی کے اکہتر، سندھ اسمبلی کے سولہ، بلوچستان اسمبلی کے بارہ اور صوبہ خیبر پختون خوا کی اسمبلی کے دس ارکان شامل ہیں۔

اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ گیارہ سو سے زائد ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کو کہا گیا تھا کہ وہ تیس ستمبر تک اپنی جائیداد کے گوشوارے الیکشن کمیشن کو جمع کروائیں۔ پندرہ اکتوبرکو الیکشن کمیشن نے اس ضمن میں نوٹیفکیشن جاری کرنا تھا جو تین روز کی تاخیر سے جاری کیا گیا ہے۔

آئئنی ماہرین کا کہنا ہے کہ جن ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کی رکنیت معطل کی گئی ہے اُن کی رکنیت اُس وقت تک بحال نہیں ہوسکتی جب تک وہ اپنے گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کرواتے۔ اس دوران وہ اسمبلی کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کرسکتے۔

جن ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت معطل کی گئی ہے اُن میں سےزیادہ تعداد حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔ جبکہ پنجاب اسمبلی کی جن ارکان کی رکنیت معطل کی گئی ہے اُن میں سے اکثریت کا تعلق صوبے کی حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نون ہے۔

آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ جن وزراء کی بنیادی رکنیت معطل کی گئی ہے وہ وزارت کے عہدے پر بھی اُس وقت تک دوبارہ فائز نہیں ہوسکتے جب تک وہ اپنے گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع نہ کروائیں اور الیکشن کمیشن اُن کی قومی یا صوبائی اسمبلی کی رکنیت بحال نہ کردے۔

واضح رہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے ایک خط الیکشن کمیشن کو لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چار سو اٹھائیس ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسبلی کے ارکان نے اپنی میٹرک اور ایف اے کی سندیں جمع نہیں کروائیں جس کی وجہ سے اُن کی بی اے کی سند کی تصدیق نہیں ہوسکتی۔

اس کے علاوہ اٹھاون ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کی ڈگریوں کو جعلی قرار دیا ہے یا یہ تعلیمی اسناد اُن یونیورسٹیوں سے حاصل کی گئی ہیں جن کا الحاق ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اُن غیر ملکی یونیورسٹیوں سے حاصل کی گئی ہیں جو اپنے ملکوں میں بھی رجسٹرڈ نہیں ہیں۔

اسی بارے میں