شہباز شریف کی لانگ مارچ کی دھمکی

Image caption شہباز شریف نے نیب چیئرمین کی تقرری کے خلاف لانگ مارچ کی دھمکی دی ہے

مسلم لیگ نون کے رہنما اور صوبہ پنجاب کے وزیراعلی شہباز شریف نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کے عہدے پر جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین کی تقرری کے فیصلے کے خلاف لانگ مارچ کی دھمکی دی ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما اور وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی لانگ مارچ کیا گیا تو ماضی کی طرح اس بار بھی لانگ مارچ کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

پنجاب کے ضلع خوشاب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیْ پنجاب شہباز شریف نے جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین کی چیئرمین نیب کے عہدے پر تقرری پر کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ پیپلز پارٹی کے سابق رکن اسمبلی کو چیئرمین مقرر کرنا انصاف کے منہ پر طانچمہ ہے۔

شہباز شریف نے صدر آصف علی زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہوش کے ناخن لیں۔ جسٹس دیدار حسین کی تقرری جیسے فیصلے کیے جائیں گے تو مسلم لیگ نون اس طرح کے فیصلے کے خلاف لانگ مارچ کرے گی جس کی قیادت مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف اور وہ خود کریں گے۔

ادھر لاہور میں پریس کانفرنس میں وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب کی تقرری قانون کے مطابق ہے۔

بابر اعوان نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ نواز شریف نے خود جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین کو نجات دہندہ قرار دیا تھا اور اب جب ان کو چیئرمین نیب مقرر کیا گیا ہے تو مسلم لیگ نون کی طرف سے تنقید کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین کی تقرری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی آئینی درخواست پر سماعت سوموار یعنی گیارہ اکتوبر کو ہوگی۔ یہ درخواست بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے دائر کی ہے جس میں جسٹس دیدار حسین کی تقرری کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

اسی بارے میں