ڈرون حملوں میں تیزی کیوں

ڈرون حملہ
Image caption اب تک جتنے بھی اہم شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں وہ ڈرون حملوں ہی کے ذریعے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حالیہ دنوں امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں اضافے پر ماہرین کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری بظاہر امریکہ نے اب خود سنبھال لی ہے۔

گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں رواں سال امریکی ڈرون حملوں میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ جاسوسی کے لیے کئی ڈرون دن رات فضاء میں موجود ہوتے ہیں۔

مبصرین کے خیال میں وزیرستان میں ڈرون حملوں میں اضافے کی ایک وجہ امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات ہیں جن سے پہلے امریکی انتظامیہ عوام کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں القاعدہ کے کسی اہم رہنما کی ہلاکت کی خبر سنانا چاہتی ہے۔

دوسرا یہ کہ پاکستانی فورسز نے شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان اور افغان طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کی ہے اس لیے امریکہ نے خود وہاں ان گروپوں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔

فاٹا ریسرچ سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر اشرف علی کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے خلاف کارروائی میں جتنے بھی اہم لوگ ہلاک ہوئے ہیں وہ ڈرون حملوں ہی میں ہلاک ہوئے ہیں۔

ان میں نیک محمد وزیر، حاجی عمر، بیت اللہ محسود، طاہر یلدیش، ابواللبی، ابو یازید، عبدلجبار، ابو عبدالرحمن اور زمرے جیسی اھم شخصیت شامل ہیں۔

ڈاکٹر اشرف علی کا کہنا ہے کہ امریکہ کو یہ معلوم ہوگیا ہے کہ شدت پسندوں کو جیتنا نقصان ڈرون حملوں سے پہنچ سکتا ہے وہ دوسرے طریقوں سے نہیں پہنچایا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ خود پاکستانی سرزمین پر زمینی کارروائی تو نہیں کرسکتا لیکن ڈرون حملوں کے ذریعے امریکہ اپنے لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کامیابی سے جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے لوگ صدر اوباما سے یہ پوچھتے ہیں کہ امریکہ نے آٹھ نو سال میں افغانستان میں کتنا مالی و جانی نقصان اُٹھایا ہے۔

ڈاکٹر اشرف علی کے مطابق امریکہ نے اب تک افغانستان میں تین سو اڑتیس ارب ڈالر خرچ کیے ہیں اور اخراجات ابھی جاری ہیں۔

’ ڈرون حملوں میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا جائے‘۔

افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر رُستم شاہ مہمند نے کہا کہ امریکہ کے لیے میدان صاف ہے اور پاکستان کی حکومت کی طرف سے مکمل تعاون ہے۔

ان کے مطابق پاکستان سے ڈرون اڑتے ہیں اور حملے کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر اور جلال الدین حقانی کے خلاف فوجی آپریشن کی بات نہیں مانی کیونکہ حافظ گل بہادر گروپ کے جنگجو پاکستانی فورسز پر حملہ آور نہیں ہوتے تو پاکستان نے ان کے خلاف کاروائی بھی نہیں کی اس لیے امریکہ نے یہ اپنے ذمے لے لیا ہے۔

رستم شاہ مہمند کا کہنا تھا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ قبائلی علاقوں میں جتنے بھی لوگ امریکہ کے خلاف ہیں وہ جنوبی و شمالی وزیرستان میں اکھٹے ہو رہے ہیں۔

ان کے مطابق اورکزئی ایجنسی کو صاف کیا گیا ہے جب کہ مہمند، باجوڑ اور کرم ایجنسی میں کارروائی جاری ہے۔ اس لیے صرف جنوبی و شمالی وزیرستان وہ علاقے بچے ہیں جہاں شدت پسندوں کو پناہ مل سکتی ہے۔ امریکہ کی توجہ بھی اب جنوبی و شمالی وزیرستان پر ہی ہے۔

بعض مبصرین کے مطابق مستقبل میں بھی ان حملوں کا رکنا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ پاکستان نے ان حملوں کے خلاف خاموشی اختیار کر کے ایک طرح سے اپنی رضامندی ظاہر کی ہے۔