ڈاکٹر فاروق قتل، سرچ آپریشن شروع

ڈاکڑ محمد فاروق فائل فوٹو
Image caption دس دن قبل ڈاکٹر فاروق خان کو مسلح افراد نے مردان میں ان کے ایک ساتھی سمیت گولیاں مار کر قتل کردیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ کے تین اضلاع مردان، صوابی اور بونیر کے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں فوج اور پولیس نے سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فاروق خان کی ہلاکت اور عبادت گاہوں پر حملوں میں ملوث بعض شدت پسند تنظیموں کے خلاف ایک بڑے سرچ آپریشن کا اغاز کردیا ہے جس میں ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں۔

ایک اعلی فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی صبح فوج اور پولیس نے مشترکہ طور پرمردان کے علاقے کاٹلنگ اور اس سے ملحقہ بونیر اور صوابی کے پہاڑی علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کیا ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بڑی تعداد میں حصہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ سے شدت پسند تنظمیں اور جرائم پیشہ افراد نے ان پہاڑی علاقوں میں ڈیرے جمائے ہوئے ہیں جہاں سے وہ منصوبہ بندی کرکے مخلتف علاقوں میں دہشت گردی کی کاروائیوں کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ ان میں بعض افراد سوات یورنیوسٹی کے وائس چانسلر اور مزہبی سکالر ڈاکٹر فاروق خان کے قتل اور دیگر سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث رہے ہیں۔

ان کے مطابق آپریشن میں ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں۔ اہلکار نے مزید بتایا کہ یہ آپریشن اس وقت جاری رہے جب تک پورے علاقے کو شدت پسندوں اور جرائم پیشہ افراد سے صاف نہیں کی جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک کی کاروائی میں سات مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے بعض پہاڑی مقامات پر ہیلی کاپٹروں سے فوج جوانوں کو اتارا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں اس آپریشن کی پہلے سے کوئی اطلاع نہیں تھی بلکہ یہ آج صبح اچانک شروع کیا گیا اور اس دوران سارے علاقے میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ تھا جبکہ تمام اہم سڑکیں بھی بند کردی گئی تھی۔

خیال رہے کہ مردان میں پچھلے چند ماہ سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ دس دن قبل سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور مذہبی سکالر ڈاکٹر فاروق خان کو مسلح افراد نے مردان میں ان کے ایک ساتھی سمیت گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔

اس قتل کی ذمہ داری سوات طالبان کے ترجمان نے قبول کرلی تھی۔ اس سے قبل مردان میں احمدیوں کی عبادت گاہ اور ایک گرجا گھر پر ہونے والے حملوں میں بھی متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سوات میں انسداد دہشت گردی عدالت کے ایک جج کے بھائی کو اغواء کیا گیا تھا جس کی لاش بعد میں مردان کے ایک علاقے قاسمی سے ملی تھی۔

اسی بارے میں