نیب چیئرمین کی تقرری کا تنازعہ

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے پارلیمنٹ سے پاس ہونے کے بعد قومی احتساب بیورو سمیت تمام اہم سرکاری عہدوں پر تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے۔

آئینی ماہر حامد خان کا کہنا ہے کہ اس ترمیم سے پہلے بھی اگرچہ صدر کے پاس ان تعیناتیوں کا اختیار تھا لیکن اس کے باوجود وہ وزیر اعظم کی مشاورت یعنی ایڈوائس کے پابند ہوتے تھے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج سید دیدار حسین شاہ کو بطور نیب کا چیئرمین کام کرنے سے پہلے ہی متنازعہ بنادیا گیا ہے۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کا یہ بیان کہ چیئرمین نیب کی تقرری صدر کا صوبدیدی اختیار ہے، دراصل حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور اپنی جان چھڑانے کے مترادف ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس قسم کی تعیناتی کا مقصد این آر او سے متعلق عدالتی حکم پر عمل درآمد کو روکنا ہے اور حکومت کے اس اقدام سے اداروں کے درمیان تناؤ کی سی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے چند روز قبل مری میں ایک تقریب کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سید دیدار حسین شاہ کو بطور چیئرمین نیب صدر نے مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حزب اختلاف نے مزکورہ شخص کو نیب کا چیئرمین مقرر کرنے سے پہلے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا جس پر انہوں نے ایک اختلافی نوٹ صدر کو بھجوا دیا تھا۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے پاس ہونے کے بعد وزیر اعظم قائد حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت کے پابند ہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی نے بھی اس بات کا برملا اظہار کیا ہے کہ نیب کے چیئرمین کی تقرری کے لیے ان کے ساتھ مشاورت نہیں گئی بلکہ انہیں صرف اس سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت چیئرمین نیب کی تقرری کو عدالت میں چیلنج کرے گی۔

حامد خان کا کہنا ہے کہ دیدار حسین شاہ کا بطور چیئرمین نیب تقرر حکومت کی بدنیتی ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین جب سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے تو ان کے دور میں جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین شاہ کے خلاف بہت سی شکایات آئی تھیں جن میں سے متعدد کی چھان بین بھی کروائی گئی ہے۔

ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ اگرچہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد تقرری کے تمام اختیارات چیف ایگزیکٹیو یعنی وزیر اعظم کے پاس ہیں لیکن نیب آرڈیننس کا آئین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آرڈیننس کی شق 6 کے تحت چیئرمین نیب کی تقرری کا اختیار صدر کے پاس ہے لیکن وہ وزیر اعظم کے مشورے کے پابند ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رولز آف بزنس میں یہ تمام اختیارات بالآخر وزیر اعظم کے پاس ہی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم سے ہٹ کر بھی یہ اختیار وزیر اعظم کے پاس ہی ہوں گے۔

ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ قانون میں ایسی کوئی بات درج نہیں کی گئی کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی کے لیے قائد حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا میثاق جمہوریت میں یہ ضرور لکھا ہوا ہے کہ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کا تقرر حزب اختلاف کی مشاورت سے کیا جائے گا لیکن یہ صرف دو جماعتوں کے درمیان معاہدہ ہے۔

سابق وزیر قانون کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کا عہدہ کوئی آئینی عہدہ نہیں ہے تاہم اس کی معیاد تین سال کی ہوتی ہے اور اس معیاد کو اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے سنیئر وکیل اکرم شیخ کا کہنا ہے کہ دیدار حسین شاہ کو جب سندھ ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا تو اس وقت بھی وہ پیپلز پارٹی کے سرگرم رکن تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب سابق ملٹری ڈکٹیر پرویز مشرف نے سنہ دوہزار ننانوے میں اقتدار پر قبضہ کیا تو اس وقت سپریم کورٹ کے چھ جج صاحبان نے حلف نہیں اُٹھایا تھا جس کے بعد دیدار حسین شاہ کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کردیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب اگر کسی غیر جانبدار شخص کو لگایا جاتا تو پھر حکومت کو قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی این آر او کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کروانا پڑتا جو حکومت نہیں چاہتی۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کا کہنا ہے چیئرمین نیب کی تقرری کا اختیار صدر کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم میں یہ لکھا ہوا ہے کہ اس ضمن میں وزیر اعظم قائد حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ ایسے آدمی کو چیئرمین نیب مقرر کیا جائے گی جو غیر متنازعہ ہو اور جس کی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستگی نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ اخبارات میں یہ آیا ہے کہ دیدار حسین شاہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر دو مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن رہے ہیں تو اس کے بعد حکومت کو انہیں چیئرمین نیب مقرر کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ آیا اس اقدام سے عوام کا احتساب پر اعتماد بحال ہوگا کہ نہیں۔

اسی بارے میں