سندھ میں حالیہ بارشوں کے بعد ڈینگی بخار

Image caption ڈینگی کے لیے نہ تو کوئی دوا ہے نہ کوئی علاج۔ بچاؤ کا واحد طریقہ یہ ہے کہ مچھروں کے کاٹنے سے بچا جائے

سندھ کےشہرکراچی اورحیدر آباد میں حالیہ بارشوں کے بعد سےڈینگی بخار کی شکایات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

سندھ کے صوبائی محکمہ صحت کے ڈینگی بخار کی نگرنی کے سیل کے انچارج ڈاکٹر شکیل ملک کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال کراچی اور حیدرآباد میں ڈینگی بخار کے کیسز میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔

ڈاکٹر شکیل ملک کے مطابق اس سال جنوری سے اب تک ڈینگی کے لگ بھگ دو ہزار کیسز سامنے آئے ہیں۔

تاہم وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اعداد و شمار سو فیصد نہیں کیونکہ یہ مستعدی سے نہیں بلکہ جامد انداز میں حاصل کیے جاتے ہیں اور یہ زیادہ تر سرکاری ہسپتالوں ہی کے ہیں۔ نجی ہسپتالوں سے اعداد و شمار بہت کم لیے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر شکیل کا کہنا ہے کہ ڈینگی کی روک تھام کے لیے حکومت تنہا کچھ نہیں کر سکتی۔

’ہم نے اشتہارات کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا کہ وہ اس سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ لوگ جب تک خود احتیاط نہیں کریں گے تب تک حکومت کچھ نہیں کرسکتی ہے۔‘

کراچی کی شہری حکومت کے زیرِانتظام عباسی شہید ہسپتال میں پروفیسر آف مڈیسن ڈاکٹر سلیم اللہ نے بتایا کہ اس سال ڈینگی کا پہلا کیس جولائی میں سامنے آیا جب کہ گزشتہ سال ڈینگی کا پہلا کیس ستمبر میں سامنے آیا تھا۔ گزشتہ چار ہفتوں کے دوران ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور روزآنہ پچاس سے زائد مریض آ رہے ہیں۔

کراچی میں وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام جناح ہسپتال کی ڈاکٹرسیمی جمالی کا کہنا ہے کہ جناح ہسپتال میں بھی ہر روز ڈینگی کے کئی مریض آ رہے ہیں۔

سیمی جمالی کے مطابق بیرونی مریضوں کے بارے میں کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا۔ ہسپتال میں صرف ان مریضوں کو داخل کیا جا تا ہے جن کا خون رس رہا ہوتا ہے مگر ایسا کم ہوتا ہے، زیادہ ترمریض ڈینگی وائرس کا شکار ہوتے ہیں۔

’اگر کسی کو ڈینگی ہو بھی تو اس کا پتہ ٹیسٹ میں چھٹے ساتویں روز ہی چلتا ہے۔ اس سے پہلے اگر کوئی ٹیسٹ کرواتا بھی ہے تو ڈینگی وائرس کا ٹیسٹ مثبت نہیں آتا۔‘

ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ شہری علاقوں میں یہ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور شہری حکومت کو چاہیے کہ فوراَ َ مچھر مار سپرے کا انتظام کرے۔

’ ڈینگی کے مرض کے لیے نہ تو کوئی دوا ہے نہ کوئی علاج۔ اس سے بچاؤ کا واحد طریقہ یہ ہے کہ مچھروں کے کاٹنے سے بچا جائے۔‘

ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق کیونکہ شہر میں پانی کی کمی ہے جس کی وجہ سے لوگ اکثر پانی ذخیرہ کر کے رکھتے ہیں جس میں ڈینگی مچھر کی افزائش ہوتی ہے۔ ڈینگی وائرس والا مچھر دوسرے مچھروں کے برعکس صاف پانی میں پیدا ہوتا ہے۔