آخری وقت اشاعت:  پير 11 اکتوبر 2010 ,‭ 08:47 GMT 13:47 PST

این آر او، مزید مہلت کی درخواست مسترد

فائل فوٹو

عدالت نے معلقہ وکیل کمال اظفر کی بطور مشیر مقرری کی بنیاد پر تاخیر کی درخواست نہیں مانی

سپریم کورٹ نے وفاق کی جانب سے این آر او نظرثانی کیس کی سماعت میں مزید مہلت کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ این آر او فیصلے سے متعلق نظرثانی درخواست کی سماعت میں مزید مہلت دی جائے۔

وفاق نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ اس مقدمے کے وفاق کے وکیل کمال اظفر کو حکومت کا مشیر مقرر کیا گیا ہے اور قانون کے تحت حکومتی مشیر کسی مقدے کی پیروی نہیں کر سکتا ہے اس لیے نیا وکیل مقرر کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

کلِک سپریم کورٹ، این آر او مقدے کی سماعت ملتوی

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پیر کو اسلام آباد میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے وفاق کی اس درخواست کی سماعت کی

چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت این آر او کسی سے متعلق پہلے بھی تاخیری حربے استعمال کر چکی ہے۔

اگر کمال اظفر تیرہ سے پندرہ اکتوبر تک حکومت کے ساتھ نہیں رہیں گے تو فرق نہیں پڑے گا اس لیے حکومت ان کو مشیر کرنے کا نوٹیفکشن واپس لے

چیف جسٹس

انھوں نے کہا کہ حکومتی وکیل کمال اظفر بائیس سمتبر سے دس اکتوبر تک چھٹیوں پر تھے اور اسی دوران چھ اکتوبر کو حکومت کی جانب سے انہیں مشیر مقرر کرنے کا نوٹیفکشن جاری کیا گیا اور اتوار کو انہیں ہنگامی طور پر قومی آفات کے ادارے این ڈی این اے کا مشیر مقرر کر دیا اور یہ عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ اس تقرری کے حوالے سے کمال اظفر کی رضامندی حاصل کی گئی تھی کہ نہیں۔ بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے کا کہنا تھا کہ ایسی کونسی آفت آن پڑی تھی کہ چھٹی والے دن یعنی اتوار کو کمال اظفر کی بطور مشیر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

ریمارکس:

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ حکومت عدالتوں کے ساتھ مذاق کیوں کر رہی ہے اور عدالتوں کو نیچا دکھایا جا رہا ہے جو اچھی بات نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کمال اظفر تیرہ سے پندرہ اکتوبر تک حکومت کے ساتھ نہیں رہیں گے تو فرق نہیں پڑے گا اس لیے حکومت ان کو مشیر کرنے کا نوٹیفکشن واپس لے۔

عدالت تیرہ اکتوبر کو ہی این آر او کے فیصلے سے متعلق وفاق کی طرف سے دائر کی جانے والی نظرِثانی کی درخواست کی سماعت کرے گی اور اُسی روز این آر او کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت بھی ہوگی۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُنہی کے کہنے پر این آر او سے متعلق نظرثانی کی درخواست اور اسی آرڈیننس پر عمل درآمد سے متعلق دائر درخواستوں کو یکجا کر کے ان درخواستوں کی سماعت تیرہ اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر رہی تھی اور اس پر اب مزید تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت این آر او سے متعلق دائر کی جانے والی نظرثانی کی درخواست کو سقم کی وجہ سے واپس بھی کرسکتی تھی۔

جسٹس خلیل الرحمنٰ رمدے کا کہنا تھا کہ فیڈریش جو کچھ کر رہی ہے وہ عام آدمی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ان درخواستوں کی سماعت میں تاخیر کے حوالے سے پہلے ہی حیلے بہانے ہوتے رہیں ہیں اور عام آدمی یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔

اس حکومتی درخواست کی سماعت کے دوران کمال اظفر کی بطور وزیر اعظم کے مشیر کی تقرری کا نوٹیفکیشن بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔

ڈاکٹر مبشر حسن کے وکیل سلمان راجہ نے عدالت کو بتایا کہ حکومت ان درخواستوں کی سماعت کو ملتوی کروانے کے لیے تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔

عدالت تیرہ اکتوبر کو ہی این آر او کے فیصلے سے متعلق وفاق کی طرف سے دائر کی جانے والی نظرِثانی کی درخواست کی سماعت کرے گی اور اُسی روز این آر او کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت بھی ہوگی۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔