ایم کیو ایم کا لینڈ ریفارمز بِل

Image caption مجوزہ بل میں جاگیردارانے نظام اور وسیع وعریض زرعی رقبے رکھنے والوں کے خلاف قانون بنانے کے بارے میں بھی کہا گیا ہے

متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں لینڈ ریفارمز کا ترمیمی بل کا مسودہ جمع کروادیا ہے۔ یہ بل قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار اور دیگر ارکان اسبلی نے جمع کرایا۔

اس بل میں اراضی کی حد ملکیت سے متعلق سنہ 1959 ،1972 اور 1977 لینڈ ریفارمز میں ترمیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس بل کے مطابق نہری اور بارانی علاقوں میں اراضی کی ایک حد مقرر کی جائے گی۔ اس بل کے مطابق بارانی علاقوں میں ززین کی زیادہ سے زیادہ حد 54 ایکٹر جبکہ نہری اراضی کی زیادہ سے زیادہ حد 36 ایکٹر اراضی مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس مجوزہ بل میں جاگیردارانے نظام اور وسیع وعریض زرعی رقبے رکھنے والوں کے خلاف قانون بنانے کے بارے میں بھی کہا گیا ہے۔

اس بل میں صوبائی سطح پر ایک کمیشن بنانے کی بھی تجویز دی گئی ہے جس کے چیئرمین ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج صاحبان ہوں گے جبکہ اس کیمشن کے دیگر ارکان میں صوبائی محتسب اور بورڈ اف ریونیو کےسینیر رکن بھی شامل ہوگا۔ بل میں کہا گیا ہے کہ بل قانون ہونے کی صورت میں کمیشن کے ارکان اس پر عملدرآمد کریں گے اس کمیشن کے کسی بھی فیصلے کے خلاف تیس روز کے اندر اندر متعلقہ ہائی کورٹس درخواست دی جاسکتی ہے۔ اس مجوزہ بل میں کہا گیا ہے کہ جاگیردار اپنی اپنی زرعی اراضی کے بارے میں ایک بیان حلفی کمیشن کو بھی دیں گے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اس بل میں کہا گیا اس بل کے قانون بننے کے بعد اُن ہاریوں میں زمین تقسیم کی جائے گی اور یہ خاندان میاں بیوی اور نابالغ بچوں کے علاوہ غیر شادی شدہ لڑکیوں پر مشتمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد دیہی علاقوں میں نہ صرف 63 فیصد آبادی کو روز گار ملے گا بلکہ اس سے اُن کا معیار زندگی بھی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کا مقصد امیر اور غریب کے درمیان فرق کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کے قانون بننے کی صورت میں ملک میں سبز انقلاب آئے گا۔

قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر کا کہنا تھا کہ ملک میں حالیہ سیلاب میں جس طرح جاگیرداروں نے اپنی زمین بچانے کے لیے جس طرح پانی کا رخ غریب ہاریوں کی زمینوں کی طرف موڑا اُسے کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ گُزشتہ بیس سال سے لینڈ ریفارمز کا بل کیبنٹ ڈویژن میں پڑا ہوا ہے اور چند ترامیم کی وجہ سے اس بل کو ایوان میں پیش نہیں کیا جاسکا جبکہ اس عرصے کے دوران کئی حکومتیں چلی گئیں۔

اسی بارے میں