مردان آپریشن: چار شدت پسند ہلاک

فائل فوٹو
Image caption گلی باغ اور غونڈئی کے علاقے میں شدت پسندوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں چار شدت پسند مارے گئے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع مردان میں حکام کے مطابق شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن میں چار شدت پسند ہلاک جبکہ اسّی مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی صبح ضلع مردان کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف دو دنوں سے جاری آپریشن کو مکمل کر کے کارروائی کا سلسلہ قریبی پہاڑی علاقوں تک پھیلا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلی باغ اور غونڈئی کے علاقے میں شدت پسندوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں چار شدت پسند مارے گئے ہیں۔

فوجی اہلکار نے بتایا کہ گزشتہ دو دنوں سے جاری سرچ آپریشن کے دوران اسی مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اہلکار کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں ابھی تک کسی اہم شخصیت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کے خلاف اس کارروائی میں فوج، ایف سی اور پولیس مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں جن کو گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل ہے۔ انہوں نےکہا کہ شدت پسندوں کے خلاف بھاری اسلحہ استعمال کیاجا رہا ہے۔

واضح رہے کہ دو دنوں سے تین اضلاع مردان، صوابی اور بونیر کے مختلف علاقوں میں فوج اور پولیس نے سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فاروق خان کی ہلاکت کے بعد شدت پسندوں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر فاروق کے قتل کے علاوہ مردان اور متصل علاقوں میں عبادت گاہوں پر حملوں میں ملوث بعض شدت پسند تنظیموں کے جنگجو ان علاقوں میں چُھپے ہوئے تھے جس کی وجہ سے ان کے خلاف ایک بڑے سرچ آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے

اسی بارے میں