’پاکستان کے بغیر مذاکرات ناکام ہوں گے‘

فائل فوٹو، وزیراعظم گیلانی
Image caption وزیراعظم گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کو شامل کیے بغیر افغانستان میں امن مذاکرات ناکام ہو جائیں گے

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کے حل میں پاکستان کو شامل کیے بغیر قیامِ امن ممکن نہیں ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے منگل کو چارسدہ میں سیلاب متاثرین میں امدادی کارڈز کی تقسیم کے بعد افغان حکومت کے طالبان کے ساتھ رابطوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’ہمارے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا کیونکہ ہم حل کا حصہ ہیں نہ کہ مسئلہ کا۔‘

خبر رساں اداروں اے پی اور اے ایف پی کے مطابق پاکستانی وزیراعظم نے کہا ’افعان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات ناکام ہو جائیں گے اگر پاکستان کو ان میں شامل نہیں کیا جاتا‘۔

افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان واحد عمر نے کہا ہے کہ ان کی حکومت طالبان کے ساتھ بات چیت کی کوششیں جاری رکھے گی۔

واضح رہے کہ پیر کو افغان صدر حامد کرزئی نے تصدیق کی تھی کہ حکومت طالبان کے ساتھ ’کچھ عرصے سے غیر سرکاری رابطے‘ میں ہے تا کہ ملک میں شورش ختم کی جا سکے۔

انہوں نے یہ بات سی این این کو ایک انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ رابطے ’کچھ وقت سے چل رہے ہیں‘۔

صدر کرزئی نے اس بات کا اعتراف اس وقت کیا ہے جب انہوں نے حال ہی میں امن کونسل تشکیل دی ہے جو طالبان کے ساتھ مذاکرات کرے گی۔

اس کے علاوہ افغان حکومت اور عسکریت پسندوں کے درمیان بات چیت کے حوالے سے متعدد رپورٹیں منظر عام پر آئی ہیں۔

سی این این کے لیری کنگ لائیو پروگرام میں حامد کرزئی نے کہا ’ہم طالبان کے ساتھ ہم وطن ہونے کے ناطے بات چیت کر رہے ہیں‘۔

’یہ مذاکرات باضابطہ طور پر نہیں ہو رہے بلکہ غیر سرکاری ذاتی رابطے کچھ عرصے سے ہو رہے ہیں۔‘

تاہم انہوں نے زور دیا کہ کابل میں القاعدہ جیسے گروپ کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے القاعدہ پر الزام عائد کیا کہ وہ افغانستان کے خلاف کام کر رہی ہے۔

اسی بارے میں