کمرۂ عدالت کا منظر

سپریم کورٹ
Image caption جب سماعت ایک بجے ختم ہونے کے بجائے ڈھائی بجے تک چلتی رہی تو جناح کیپ پہنے دفتری اونگھتے اور جمائیاں لیتے نظر آئے۔

قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) کو کالعدم قرار دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومت کی نظر ثانی کی درخواست پر بدھ کو سماعت شروع ہوئی تو عدالت کالے کوٹ والوں کے ساتھ کھچا کھچ بھری ہوی تھی اور سکیورٹی کے انتظامات بھی غیر معمولی لگے۔

لطیف کھوسہ نے گزشتہ شب وزیراعظم کے مشیر کے عہدے سے مستعفی ہو کر حکومتی وکالت کا اعلان کیا تھا اور آج وہ پیپلز لائرز فورم کے ساتھیوں کے ہمراہ سپریم کورٹ پہنچے اور وہاں پہلے سے براہ راست کوریج کے لیے موجود ٹی وی کیمروں کو کسی فاتح کی طرح ہاتھ ہلاتے اور مسکراتے آگے بڑھ گئے۔

ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر ایک میڈیا گروپ نے آج کی سماعت کو ایسے پیش کیا جیسے حکومت گر جائے گی۔ اور تو اور اس گروپ نے خبروں کے علاوہ اشتہار بھی شائع کیا جس کا عنوان تھا ’حاکم انصاف کے کٹہرے میں! ‘۔

اشتہار کے ذریعے اعلان کیا گیا تھا کہ یہ گروپ تمام دن اپنے چینل پر لمحہ بہ لمحہ کوریج کے ساتھ ساتھ عوام کو اپنے ماہرین کے تبصروں اور تجزیوں سے بھی آگاہ کرے گا۔ لیکن ٹھنڈے دل سے صورتحال دیکھیں تو آج نظر ثانی کی درخواست کی سماعت شروع ہونی تھی اور زیادہ تر امکان یہی تھا کہ لطیف کھوسہ عدالت سے کیس کا مطالعہ کرنے کے لیے مہلت مانگیں گے۔

اس مخصوص گروپ کے بعد دوسرے ذرائع ابلاغ نے بھی ان کی تقلید کرتے ہوئے ایسا سماں باندھا کہ بس آج حکمرانوں کا یوم حساب آن پہنچا ہے اور عدالت کوئی بہت بڑا حکم جاری کرنے والی ہے۔

لیکن جب سماعت شروع ہوئی تو ہوا وہی کہ لطیف کھوسہ نے نہایت احترام کے ساتھ مہلت مانگی اور سترہ رکنی فل کورٹ نے انہیں نومبر کے پہلے ہفتے تک کی مہلت دے دی۔

ایک موقع پر نیب کے وکیل انور تارڑ پر سترہ رکنی بینچ کے ججوں نے سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ اگر دیکھا جائے تو ججوں کی بوچھاڑ بلا وجہ بھی نہیں تھی۔ کیونکہ وکیل صاحب کیس کی تیاری کر کے نہیں آئے تھے اور حالت یہ تھی کہ ایک موقع پر انہوں نے نیب قانون کی پرانی کتاب سے ایک شق پڑھی۔ جس پر جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے انہیں کہا کہ نئی ترمیم والی کتاب لائیں اور اگر وہ ایسا نہ کرسکیں تو پرانی کتاب مجھے بھیجیں میں اپ ڈیٹ کردوں گا ویسے بھی میں آپ کا پرانا خادم ہوں۔ جس پر وکیل صاحب نے بیچ میں کچھ کہنا چاہا تو جسٹس رمدے نے کہا ’سن لیا کرو تب ہی تو تمہیں سمجھ نہیں آتی‘۔

عام طور پر جج صاحبان وکیلوں کو آپ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں لیکن انور تارڑ کو کچھ موقعوں پر رمدے صاحب کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس بھی تم کر کے مخاطب کرتے رہے۔

جب سماعت ایک بجے ختم ہونے کے بجائے ڈھائی بجے تک چلتی رہی تو جناح کیپ پہنے دفتری اونگھتے اور جمائیاں لیتے نظر آئے۔

عدالتی کمرے میں جہاں پیپلز لائرز فورم کے وکیل نظر آئے وہاں انٹیلی جنس کے بعض اہلکار اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی کافی تعداد میں بیٹھے رہے۔ صدر زرداری کے قریبی ساتھی ایڈووکیٹ ابوبکر زرداری، سابق بیوروکریٹ روئیداد خان، برگیڈیئر (ر) امتیاز اور عدنان خواجہ بھی نمایاں لوگوں میں نظر آئے۔

برگیڈیئر (ر) امتیاز عرف برگیڈیئر بلا جب آئی ایس آئی میں تھے تو ان پر کامریڈ نظیر عباسی کو دوران حراست تشدد کر کے قتل کرنے اور الذوالفقار کی آڑ میں سیاسی کارکنوں کی دھلائی کے الزامات لگے تھے۔ انہیں انیس سو نواسی میں بینظیر بھٹو کی حکومت گرانے کے لیے ’ آپریشن مڈ نائٹ جیکال ‘ کا ماسٹر مائنڈ بھی سمجھا جاتا ہے جس کے تحفے میں انہیں میاں نواز شریف نے انٹیلی جنس بیورو کا سربراہ بنایا تھا۔

لیکن آج کل وہ اپنے بیٹے سمیت صدر آصف علی زرداری کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ وہ بھی عدالت میں اپنے ہی ایک مقدمے کی سماعت کے لیے بیٹھے نظر آئے۔

عدنان خواجہ جو انٹرمیڈیٹ پاس ہیں وہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے جیل کے ساتھی کہلاتے ہیں۔ حال ہی میں انہیں وزیراعظم نے پاکستان کی منافع بخش تیل اور گیس کی کارپوریشن ‘او جی ڈی سی ایل’ کا مئنیجنگ ڈائریکٹر لگایا اور عدالتی مداخلت پر انہیں ہٹایا گیا۔

عدنان خواجہ کی تقرری پر سیکریٹری اسٹیبلشمینٹ اسماعیل قریشی نے کہا کہ انہوں نے قواعد کے برعکس وزیراعظم کے زبانی حکم پر ان کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ جس پر جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ یہ قواعد کے خلاف ہے۔

’جب میں سیکریٹری قانون تھا تو مجھے ایک بڑے وکیل کو تھوڑی سی رقم دینے کا حکم ملا اور میں نے وہ ماننے سے انکار کردیا تھا۔ آپ سرجن کی جگہ کیسے عام آدمی کو بھرتی کرسکتے ہیں‘۔ بعض دیگر ججوں نے بھی اسماعیل قریشی کی باز پُرس کی اور انہیں آئندہ حکومت کے غلط احکامات نہ ماننے کی ہدایت کی۔

ایک موقع پر چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ سے کہا کہ ’ کمال اظفر کو وکالت کے بجائے وزیراعظم کا مشیر بنایا گیا اور آپ کو مشیر سے وکیل بنا کر حکومت نے آپ کی تنزلی کی ہے‘۔

بہرحال سپریم کورٹ جہاں چند برس قبل تک عام طور پر کم ہی صحافی رخ کرتے تھے آج کل میڈیا کی پارلیمان سے زیادہ دلچسپی عدالتی معاملات میں نظر آتی ہے اور میلے کا سماں ہوتا ہے۔

جہاں بہت سارے وکیل آج کل صرف اس لیے بھی آتے ہیں کہ کہیں ان کی شکل کسی ٹی وی چینل پر نظر آجائے۔ عدالتی کارروائی خبروں کے بھوکے ٹی وی چینلز کا کچھ دیر پیٹ بھرنے میں بھی کافی کردار ادا کرتی ہے۔