’ اجتماعی زیادتی کے ملزمان کی شناخت‘

زینب بھیو
Image caption جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والوں نے خاموش رہنے کی دھمکی دی، بعد میں ایک کار میں ڈال کر گھر کے باہر پھینک کر چلے گئے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کھپرو میں آٹھویں جماعت کی طالبہ زینب بھیو نے اجتماعی زیادتی کے چاروں ملزمان کی شناخت کر لی ہے۔

دوسری طرف کھپرو میں اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد مبینہ طور پر سرکاری اور نجی سکولوں میں طالبات کی حاضری میں نمایاں کمی آئی ہے۔

دانش، جہانزیب، وسیم اور سہیل کو بدھ کی صبح سول جج کھپرو محمد سہیل کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں مسمات زینب نے ان کی شناخت کی۔

مسمات زینب بھیو نے عدالت میں اپنا بیان بھی ریکارڈ کرایا جس میں انہوں نے اپنے موقف کو دہرایا۔

کھپرو تھانے میں ڈاکٹر امین بھیو نے مسمات زینب سے اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کرایا ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ ان کی بھتیجی زینب کھپرو ہائی سکول کے آٹھویں جماعت کی طالبہ ہیں۔ ان کی دوستی فراحت قائم خانی سے ہوئی اور زینب کا ان کے گھر آنا جانا تھا۔

بقول ان کے اٹھائیس ستمبر کو زینب سکول گئی مگر واپس لوٹ کر نہیں آئی انہوں نے اس کی پوچھ گچھ کی مگر اس کا کوئی پتہ نہیں چلا۔ دو روز بعد رات کو تقریباً ڈھائی بجے ان کے دروازے پر آہٹ ہوئی انہوں نے باہر نکل کر دیکھا تو ان کی بھتیجی زینب بے ہوش حالت میں موجود تھیں۔

ڈاکٹر امین نے ایف آئی آر میں بتایا ہے کہ ہوش میں آنے کے بعد زینب نے اپنے والد کو بتایا کہ وہ سکول سے چھٹی کے بعد اپنی سہیلی کے ساتھ اس کے گھر چلی گئی جہاں فراحت کی دو بہنوں نے اسے کچھ کھانے کو دیا اسی دوران فراحت کا بھائی دانش اور اس کے دوست جہانزیب، وسیم اور سہیل وہیں موجود تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد اس کی سہیلی اپنی بہنوں کے ساتھ کمرے سے نکل گئی۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ زینب بھیو کے بیان کے مطابق اس نے خود کو نشے میں محسوس کیا۔ اس وقت دانش، جھانزیب، وسیم اور سہیل جن کے ہاتھ میں خنجر اور پسٹل تھے اسے گھیرے میں لے لیا۔

ان میں سے دانش نے اسے برہنہ کیا اور چاروں نے باری باری اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اسی دوران انہوں نے موبائل فون سے ویڈیو بھی بنائی اور خاموش رہنے کی دھمکی دی اور بعد میں ایک کار میں ڈال کر گھر کے باہر پھینک کر چلے گئے۔

ڈاکٹر امین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس ملزمان کو بچا رہی ہے۔ اس مقدمے میں اہم کردار ملزم کی بہنوں کا ہے جنہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔

ڈاکٹر امین کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ سکول سے زینب کا ریکارڈ بھی غائب کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس الزام کو مسترد کیا کہ اپنی بھتیجی کا بدلہ لینے کے لیے وہ ملزمان کی بہنوں کو اس مقدمے میں گھسیٹنا چاہ رہے ہیں۔

کھپرو کے ٹاؤن پولیس افسر عباس گل نے بتایا کہ پولیس نے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جب کہ تین لڑکیوں نے عدالت سے ضمانت حاصل کر لی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تفتیش میں یہ ثابت ہوا ہے کہ ان لڑکوں نے یہ گھناؤنی حرکت کی ہے۔ لڑکیوں کے بارے میں یہ تفتیش کی جا رہی ہے کہ وہ ملوث ہیں یا نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لڑکوں نے تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ انہوں نے ویڈیو کمپیوٹر پر لوڈ کی تھی۔ انہیں پتہ نہیں تھا کہ یہ انٹرنیٹ پر اپ لوڈ ہوجائے گی۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ اسے ہم کمپیوٹر میں محفوظ کریں اور اس کے بعد تفریح کے لیے اس دیکھا کریں گے۔

اس واقعے کے بعد سرکاری اور نجی سکولوں میں طالبات کی حاضری میں نمایاں کمی آئی ہے۔

ایک نجی سکول روشن تارا کے پرنسپل بھوج راج کے مطابق ان کے سکول میں لڑکیوں کی حاضری پچاس فیصد تک کم ہوگئی ہے۔ ان کے سکول میں آٹھویں سے لے کر بارہویں جماعت تک دو سو طالبات زیر تعلیم ہیں۔

بھوج راج نے بی بی سی کو بتایا کہ والدین لڑکیوں کو سکول یا کالج نہ بھیجنے کی بظاہر کوئی وجہ نہیں بتاتے۔ ان کا صرف یہ کہنا ہے کہ کھپرو میں آئے دن ہڑتال ہو رہی ہے۔ جب حالات بہتر ہوں گے تو وہ بچیوں کو بھیجیں گے۔

تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ایک طالبہ کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا ہے اس لیے والدین بچیوں کو سکول جانے سے روک رہے ہیں۔

اسی بارے میں