’یورپ ڈیوٹی معطل کرے‘

Image caption اس وقت پاکستان کی کل برآمدات میں سے یورپی ممالک کو ستائیس فیصد مصنوعات برآمد کی جاتیں ہیں

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے برسلز میں یورپی یونین کے اراکینِ پارلیمان سے پاکستانی مصنوعات کی یورپی ممالک میں درآمدی ڈیوٹی کو معطل کرنے کی درخواست کی ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر ایک پریس ریلیز کے مطابق، شاہ محمود قرشی نے کہا کہ یورپی یونین کے پارلیمانی اراکین کو یونین کی جانب سے یکطرفہ طور پر پاکستانی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی معطل کیے جانے کے فیصلے کے حق میں اپنا ووٹ دینا چاہیے۔

اگر پاکستانی مصنوعات پر سے درآمدی ڈیوٹی معطل کی جاتی ہے تو پاکستان کی کم سے کم پچھتر مصنوعات کو اس سے فائدہ حاصل ہوگا۔ اس وقت پاکستان کی کل برآمدات میں سے یورپی ممالک کو ستائیس فیصد مصنوعات برآمد کی جاتیں ہیں۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین کے اِس اقدام کو پاکستان میں بہت زیادہ پذیرائی ملے گی اور اس کے ذریعے پاکستانیوں کو مثبت پیغام جائے گا جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یورپ کی مدد کررہے ہیں۔

یورپی ممالک کے لیے پاکستانی مصنوعات کی درآمد پر ڈیوٹی معطل کرنے کا اقدام، پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے بعد معیشت کی بحالی کے لیے تجویز کیا گیا ہے، جسے یورپی یونین کی پارلیمان اور ورلڈ ٹریڈ آرڈر سے منظوری ملنا باقی ہے۔

تاہم یورپی پارلیمان کے اراکین نے پاکستان میں سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک پاکستان کی مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن پاکستان کو اپنے سیاسی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یقینا اس میں وقت لگے گا اور پاکستان کو صبر سے کام لینا ہوگا۔

یورپی یونین کے پارلیمانی اراکین کی جانب سیلاب زدگان کے لیے دی جانے والی عالمی امداد کو خرچ پر نگاہ رکھنے کا سوال بھی کیا اٹھایا گیا جس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان میں ایک ایسا طریقہ وضع کیا گیا ہے جس سے یہ سارا معاملہ زیرِ نگاہ رہے گا اور اس معاملے پر دنیا کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

یورپی پارلیمان کے اراکین نے بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے اور دہشت گردی کے خلاف مزید اقدامات کرنے پر بھی زور دیا۔

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان میں جمہوری حکومت آنے کے بعد عدلیہ کی آزادی کے لیے بھرپور کوششیں کی گئیں ہیں، آئین میں ترامیم کی گئیں ہیں، میڈیا کو مزید آزادی دی گئی ہے، اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے، جبکہ یورپی یونین کے ساتھ پاکستان دیرپا پارٹنر شپ کی بنیاد ڈالنا چاہتا ہے۔

یورپی پارلیمان کے اراکین نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا تاہم وزیرِخارجہ سے کہا کہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر کو حل کرنے اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ استحکام کے لیے مزید اقدامات کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں۔

اسی بارے میں