مردان میں اغوا کاروں کے خلاف کارروائی

Image caption پختون خواہ میں حالیہ مہینوں میں اغوا اور قتل کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں فوج اور پولیس نے کالعدم تنظیموں اور اغواء کار گروہوں کے خلاف وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن کا اغاز کیا ہے جس کا دائرہ شدت پسندی سے متاثرہ اضلاع بونیر اور مالاکنڈ ایجنسی تک پھیلایا جارہا ہے۔

اعلٰی سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے یہ اطلاعات مل رہی تھیں کہ مالاکنڈ ڈویژن سے فرار ہونے والے عسکریت پسند مردان کے علاقے کاٹلنگ اور آس پاس کے پہاڑی علاقوں میں جمع ہورہے ہیں۔

ان کے مطابق ان شدت پسندوں نے پورے علاقے میں ایک خفیہ نیٹ ورک قائم کیا ہوا ہے جہاں سے وہ ٹارگٹ کلنگ ، اغواء برائے تاؤان اور دیگر سنگین نوعیت کے کے وارداتیں کرتے تھے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ چند دن قبل مردان میں ایک حملے میں ہلاک ہونے والے سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فاروق خان کے قتل میں ملوث شدت پسند بھی انہی پہاڑی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

مردان میں حالیہ دنوں میں مذہبی عبادت گاہوں پر بھی حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور پچھلے چند ہفتوں کے دوران احمدیوں کی عبادت گاہ اور ایک گرجا گھر پر ہونے والے حملوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

صوبہ خیبر پختون خوا کی دیگر اضلاع کی طرح مردان میں بھی طالبان کا وجود اس وقت سامنے آیا جب دسمبر دو ہزار سات میں بیت اللہ محسود کی قیادت میں نئی تنظیم ’ تحریک طالبان پاکستان’ کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ ان دنوں مردان میں کامران نامی ایک شخص خود کو تحریک طالبان پاکستان کاامیر ظاہر کرتے تھے۔ تاہم بعد وہ ضلع بونیر کے علاقے شل بانڈئی میں مقامی لشکر کے ہاتھوں اپنے ساتھیوں سمیت مارے گئے ۔ طالبان نے چند ماہ بعد اس ہلاکت کا بدلہ لینے کےلیے شل بانڈئی میں ایک انتخابی مرکز پر خودکش حملہ کیا جس میں سینتیس کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مردان میں پچھلے تین سالوں سے فوج اور پولیس اہلکاروں پر خودکش اور بم حملے ہورہے ہیں۔ علاقے میں دو مرتبہ فوج کے تربیتی مرکز پنجاب ریجنمنٹ سنٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ پولیس موبائل، سی ڈیز سنٹرز اور سکولوں پر اس قسم کے متعدد حملے ہوچکے ہیں۔ ان واقعات کی ذمہ داری وقتاً فوقتاً مردان اور سوات کے طالبان قبول بھی کرتے رہے ہیں۔

مردان کا شمار صوبہ خیبر پختون خوا کے سب سے بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ اس کی سرحدیں ملاکنڈ ایجنسی، نوشہرہ اور بونیر کے اضلاع سے ملتی ہیں۔ یہ ضلع تین تحصیلوں پر مشتمل ہے جن میں مردان، تخت بھائی اور کاٹلنگ شامل ہیں۔

کاٹلنگ کو حال ہی میں تحصیل کا درجہ دیا گیا ہے جبکہ حالیہ آپریشن کا اغاز بھی کاٹلنگ ہی کے علاقے سے کیا گیا ہے۔ یہ علاقہ مردان شہر سے کوئی پندرہ بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کاٹلنگ سے آگے شموزئی، بابوزئی اور غنڈو کے دیہات واقع ہیں جو ضلع بونیر کے سرحدی مقامات تک پھیلے ہوئے ہیں۔

مردان کا علاقہ شیر گڑھ مالاکنڈ ایجنسی سے متصل ہے جس سے ملحقہ سخاکوٹ کا علاقہ واقع ہے۔ سخاکوٹ کا علاقہ پورے صوبے میں جرائم پیشہ افراد اور اغواء برائے تاؤان کے وارداتوں کےلیے بدنام سمجھا جاتا ہے۔ یہ چھوٹا سا شہر مقامی طورپر تیار ہونے والے اسلحہ کا ایک مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ صوبہ میں بڑھتے ہوئے حالیہ اغواء برائے تاؤان اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث افراد بھی ان ہی قریبی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ مردان ضلع کو آج کل اس لیے بھی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ صوبہ خیبر پختون خوا کا موجود وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی کا آبائی علاقہ ہے۔ حالیہ آپریشن جس علاقے میں جاری ہے وہ حلقہ پی ایف اٹھائیس کی حدود میں آتا ہے جہاں سے گزشتہ انتخابات میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیدوار حافظ اختر علی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

پچھلے سال مالاکنڈ ڈویژن میں فوج نے جب فیصلہ کن کاروائی کا اغاز کیا تو دیگر اضلاع کی طرح مردان اور قریبی مقامات پر بھی اس کے اثرات پڑے اور یہاں بھی عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں کم ہوگئی۔

سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ آپریشن کا دائرہ مردان سے لیکر دیگر قریبی اضلاع کی پہاڑی سلسلوں تک پھیل سکتا ہے تاکہ اس پورے علاقے کو شدت پسندوں سے صاف کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے سارے علاقے کو سیل کیا ہوا ہے اور منظم انداز میں کاروائی کی جارہی ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل ہے۔

اسی بارے میں