’سندھ کو ڈوبنے سے بچانا ممکن تھا‘

Image caption سکھر کے قریب ڈوبا ہوا گاؤں سجاول

پاکستان میں آنے والے تاریخی سیلاب میں صوبہ سندھ کے ایک بڑے علاقے کے متاثر ہونے کی کئی وجوہات پیش کی جا تی ہیں۔ کچھ لوگ اسے ایک قدرتی آفت مانتے ہیں تو کچھ اس تباہی کا ذمہ دار پاکستان آرمی کو ٹھراتے ہیں۔ صوبہ پنجاب کی حکومت اور سندھی وڈیروں پر بھی اس تباہی کے ذمہ دار ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ ان الزامات میں کتنی حقیقت ہے یہ جاننے کے لیے نامہ نگار اعجاز مہر نے کشمور سے کیٹی بندر تک دریائے سندھ کے دونوں جانب سفر کیا ہے۔ اس سفر نامے کی آخری قسط ہے۔

بدھ، بائیس ستمبر

سب سے پہلے تو ڈیمز انتظامیہ طے کرتی کہ کتنا پانی ہے اور کتنی مقدار میں ڈیم میں پانی جمع کیا جائے اور کتنا پانی دریا میں چھوڑا جائے۔ یہاں غلطی یہ ہوئی کہ سب سے پہلے خالی ڈیم بھرنے کی کوشش کی گئی اور جب ڈیم بھر گئے تو جتنا پانی آ رہا تھا وہ دریا میں چھوڑا گیا۔ اگر ابتدا سے ہی کچھ پانی ڈیم میں جمع ہوتا اور کچھ دریا میں جاتا تو ایک دم سے پانی کے بڑے ریلے کو کنٹرول کیا جاسکتا تھا۔

دوسرا یہ کہ اگر تونسہ بیراج کے نیچے لغاری، کھوسہ، ہنجراہ اور دیگر قبائل کی ’پانڈ ایریا‘ میں کھڑی فصلوں کو بچانے کے بجائے پانی اس میں چھوڑا جاتا تو بھی پانی کا زور ٹوٹ جاتا اور دریا کے نارمل پیٹ اور پانڈ ایریا کا پانی آگے چل کر بھی مل نہ پاتے اور یوں تھوڑا تھوڑا ہو کر گزر جاتا۔ تیسرا یہ کہ پنجند سے پانی پہلے گزارا جاتا اور وہ دریائے سندھ کی بائیں کنارے چاچڑاں کے پاس آتا اور گڈو سے گزر جاتا اور تونسہ بیراج سے آنے والا پانی اس کے ساتھ نہ ملتا تو یہ بڑا ریلا نہ بنتا۔

کسی غلطی یا کوتاہی کی وجہ سے اگر ایسا بر وقت ممکن نہیں ہوسکا تو پھر سندھ حکومت کو دریا کے اندر قبضہ کردہ زمینوں کو بچانے کے لیے اگر گھوٹکی ضلع میں قائم کردہ نجی زمینداری بند توڑے جاتے تو بھی ٹوری بند کو ٹوٹنے سے بچایا جاسکتا تھا۔ گھوٹکی شگر ملز کے مالکان نے جو مختلف لوگوں سے ہزاروں ایکڑ زمین پٹے پر لے کر گنے کی کاشت کی ہے، اُسے بچانے کے لیے بارہ کلومیٹر طویل نجی زمینداری بند اگر توڑا جاتا تو بھی پانی کا دباؤ کم ہوجاتا اور کشمور کا ٹوڑی بند نہ ٹوٹتا۔

جب ٹوڑی بند پر پانی کا دباؤ بڑھا تو ’اولڈ ٹوڑی لوپ بند‘، جو نیو ٹوڑی،گھوڑا گھٹ اور ہیبت بندوں کے جنکشن کو غوث پور بند سے ملاتا ہے، اس کے اوپر سے جام سونھاروں گاؤں کے پاس سے پانی بہنے لگا تو اس وقت ضلعی انتظامیہ اگر دو پانی نکالنے کی مشینیں لگاتی تو بھی اس بند کو اونچا کرکے پانی کو روکا جاسکتا تھا۔ فوجی اہلکاروں کا وہاں سے مقامی رضا کاروں کو کام سے مبینہ طور پر روکنا اور بھگانا، محکمہ آبپاشی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی اقدامات نہ کرنا، جان بوجھ کر غفلت برتنے کے زمرے میں آتے ہیں اور یہ واضح ہوتا کہ یہاں سے بند کو اگر توڑا نہیں بھی گیا تو ٹوٹنے ضرور دیا گیا۔ جس کی بڑی وجہ دریائے سندھ کے بائیں کنارے پاکستان کا سب سے بڑا گیس فیلڈ قادر پور اور پنو عاقل فوجی چھاؤنی کے ڈوبنے کا خطرہ بتایا جاتا ہے۔

سات اگست کو ٹوڑی بند ٹوٹا اور انتیس اگست کو فرنٹیئر ورکس آرگنائیزیشن یا ایف ڈبلیو او نے شگاف پُر کرنے کا کام شروع کیا۔ یعنی تن ہفتے تک یہاں سے پانی بڑی مقدار میں خارج ہوتا رہا۔ ایف ڈبلیو او کے کرنل محمد بابر کے مطابق ٹوڑی بند ٹوٹنے کے ایک ہفتے بعد جب دریا میں پانی کی مقدار کم ہونا شروع ہوئی تو اس وقت بھی کوئی کوشش ہوتی تو اس شگاف کو بند کیا جاسکتا تھا۔ ان کے بقول شنوک ہیلی کاپٹرز کے ذریعے پتھر یا مٹی سے بھرے کنٹینر اگر شگاف میں رکھے جاتے تو سندھ اور بلوچستان میں اتنی تباہی نہیں ہوتی اور کم از کم شہداد کوٹ اور دادو اضلاع کو تو یقینی طور پر بچایا جاسکتا تھا۔ اگر ایف ڈبلیو او والے ٹوڑی کے ’نان ایکٹو شگاف‘ کے بجائے غوث پور بند کے ’ایکٹو شگاف‘ کو بند کرنے پر توجہ دیتے تو بھی کم از کم دادو ضلعے کو بچایا جاسکتا تھا۔

اس طرح دریائے سندھ میں ٹھٹہ ضلعے میں پڑنے والے شگاف پر بھی کنٹینر رکھ کر قابو پایا جاسکتا تھا۔ جس طرح دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر پڑنے والے شگاف، جس سے ٹھٹہ شہر کے ڈوبنے کا اندیشہ تھا، اُسے پر کرنے کی فوری کوششیں ہوئیں، ویسے ہی اگر بائیں کنارے کوٹ عالمو میں پڑنے والے شگاف کو بند کرنے کی کوشش ہوتی تو ٹھٹہ ضلعے کے متعدد دیہات ڈوبنے سے بچائے جاسکتے تھے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ صوبہ سندھ کی سیاسی قیادت اور متعلقہ حکام نے کوئی منصوبہ بندی کی اور نہ کوئی ٹھوس اقدامات۔

فوری انتظامی اقدامات کی ضرورت

Image caption صوبہ سندھ میں سیلاب سے متاثر لوگ

سب سے پہلا کام تو سندھ حکومت کو یہ کرنا چاہیے کہ دریا کے پیٹ میں جسے کچے کا علاقہ کہتے ہیں وہاں سے نجی زمینداری بند توڑے جائیں اور کچے میں کسی کو بھی زمین الاٹ نہ کی جائے۔ اب تک جو بھی زمین الاٹ کی گئی ہے وہ منسوخ کی جائے اور پٹے پر مقامی لوگوں کو دی جائے۔

جس طرح سندھ میں ’گھوسٹ‘ سکول او اساتذہ ہیں بالکل اسی طرح محکمہ آبپاشی میں بھی سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ’گھوسٹ‘ ملازمین ہیں۔ کشمور کے مختلف بندوں کی نگرانی کرنے والے محمکہ آبپاشی کے افسران سے لے کر ٹھٹہ کے سپرنٹنڈنٹ انجنیئر احمد جنید تک جتنے بھی افسران سے ملا، انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ صوبے بھر میں دریائے سندھ اور اس سے نکلنے والی تمام نہروں کے پشتوں اور حفاظتی بندوں پر ہر فرلانگ پر ایک بیلدار تعینات ہے۔ ہزاروں کی تعدا میں سندھ بھر میں بیلدار مقامی سیاسی با اثر لوگوں کے ‘ملازم‘ بتائے جاتے ہیں جن پر الزام ہے کہ وہ تنخواہ لینے کے علاوہ کوئی سرکاری کام نہیں کرتے۔

سینکڑوں کی تعداد میں بیلدار محکمہ آبپاشی کے دستاویزات میں بھرتی کیے جاتے ہیں اور ان کی تنخواہیں بھی لی جاتی ہیں لیکن اصل میں یہ خانہ پوری ہے کیونکہ پیسہ مبینہ طور پر افسران کھا جاتے ہیں۔ ایک طرف مستقل ملازمین ہیں تو دوسری جانب عارضی اور موسمی بنیاد پر بھرتیاں بھی کی جاتی ہیں، جن کا کام پشتوں کی نگہداشت کرنا اور پانی چھڑکنا ہے۔ لیکن انہوں نے محمکے کے افسران اور مقامی با اثر لوگوں کی ملی بھگت سے پشتوں پر لگے شیشم اور کیکر کے ہزاروں درخت بیچ دیے ہیں۔

ہر سال حفاظتی بندوں اور نہروں کے پشتوں کی مرمت کے لیے خرچ ہونے والی رقم کا حساب کتاب لیا جانا چاہئیے اور آئندہ اس کا استعمال شفاف بنایا جانا ضروری ہے۔

لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ عالمی بینک کے بقول پاکستان کے چاروں صوبوں میں سندھ کرپشن اور اقربا پروری کے اعتبار سے سرِفہرست ہے۔ جہاں وزیروں اور مشیروں کو محکمے اور افسران کے اہم عہدے نیلام ہوتے ہیں اور ریٹائرڈ اعلیٰ افسران کو منافع بخش عہدوں پر تعینات کرنے کے لیے بولیاں لگتی ہوں، کیا وہاں کچھ بہتری آسکتی ہے؟

اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ کسی معجزے یا انقلاب سے کم نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں