فرینڈز آف پاکستان کا اجلاس

فرینڈز آف پاکستان کا اجلاس
Image caption فرینڈز آف پاکستان کے اجلاس پاکستان کے لیے کسی نئی امداد کا اعلان نہیں کیا جائے گا

چھبیس ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے گروہ فرینڈز آف پاکستان کا ایک اجلاس آج یعنی جمعہ سے برسلز میں ہو رہا ہے جس میں پاکستان کی اقتصادی اصلاحات پر غور کیا جائے گا۔

اجلاس میں یہ اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ حالیہ سیلاب کے تناظر میں کس طرح بنیادی ڈھانچے کی ازسرِ نو تعمیر کی کوششیں کی جائیں۔

اس اجلاس میں اس پاکستان کے لیے کوئی نئی امداد اکٹھی نہیں کی جائے گی بلکہ یہ دیکھا جائے گا جو امداد پہلے ہی دی گئی ہے پاکستان اسے کس طرح استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

جمعرات کو امریکی وزیرِ حارجہ ہلیری کلنٹن نے پاکستان کے متوسط شہریوں پر تنقید کی تھی کہ وہ اپنے ملک کے عوام کے لیے کچھ زیادہ نہیں کر رہے۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے برسلز میں یورپی یونین کے اراکینِ پارلیمان سے پاکستانی مصنوعات کی یورپی ممالک میں درآمدی ڈیوٹی کو معطل کرنے کی درخواست کی تھی۔

یورپی پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر ایک پریس ریلیز کے مطابق، شاہ محمود قرشی نے کہا کہ یورپی یونین کے پارلیمانی اراکین کو یونین کی جانب سے یکطرفہ طور پر پاکستانی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی معطل کیے جانے کے فیصلے کے حق میں اپنا ووٹ دینا چاہیے۔

اگر پاکستانی مصنوعات پر سے درآمدی ڈیوٹی معطل کی جاتی ہے تو پاکستان کی کم سے کم پچھتر مصنوعات کو اس سے فائدہ حاصل ہوگا۔ اس وقت پاکستان کی کل برآمدات میں سے یورپی ممالک کو ستائیس فیصد مصنوعات برآمد کی جاتیں ہیں۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین کے اِس اقدام کو پاکستان میں بہت زیادہ پذیرائی ملے گی اور اس کے ذریعے پاکستانیوں کو مثبت پیغام جائے گا جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یورپ کی مدد کر رہے ہیں۔

یورپی ممالک کے لیے پاکستانی مصنوعات کی درآمد پر ڈیوٹی معطل کرنے کا اقدام، پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے بعد معیشت کی بحالی کے لیے تجویز کیا گیا ہے، جسے یورپی یونین کی پارلیمان اور ورلڈ ٹریڈ آرڈر سے منظوری ملنا باقی ہے۔

تاہم یورپی پارلیمان کے اراکین نے پاکستان میں سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک پاکستان کی مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن پاکستان کو اپنے سیاسی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یقیناً اس میں وقت لگے گا اور پاکستان کو صبر سے کام لینا ہوگا۔

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان میں جمہوری حکومت آنے کے بعد عدلیہ کی آزادی کے لیے بھرپور کوششیں کی گئیں ہیں، آئین میں ترامیم کی گئیں ہیں، میڈیا کو مزید آزادی دی گئی ہے، اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے، جبکہ یورپی یونین کے ساتھ پاکستان دیرپا پارٹنر شپ کی بنیاد ڈالنا چاہتا ہے۔

یورپی پارلیمان کے اراکین نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا تاہم وزیرِخارجہ سے کہا کہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر کو حل کرنے اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ استحکام کے لیے مزید اقدامات کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں۔

اسی بارے میں