سندھ: ملیریا کے مریضوں میں دوگنا اضافہ

Image caption ملیریا کا مچھر بھی ڈینگی کے مچھر کی طرح صاف پانی میں جنم لیتا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ میں محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں گزشتہ سال کی نسبت اس سال ملیریا کے مریضوں کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔

صوبائی ملیریا کنٹرول پروگرام کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ناہید جمالی نے بتایا کہ سیلاب اور مون سون بارشوں کے بعد سے سندھ کے دیہی علاقوں میں ملیریا کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے تاہم ابھی صورتحال خطرناک نہیں ہے۔

ڈاکٹر ناہید جمالی کا کہنا تھا کہ ملیریا ہر سال اس موسم میں پھیلتا ہے مگر اس سال معمول سے زیادہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ملیریا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد پچھلےسال کی نسبت تقریباً دوگنی ہے۔

ڈاکٹر ناہید کے مطابق گیارہ اگست سےاب تک سندھ میں تقریباً اکیس لاکھ مشتبہ مریضوں کے خون کا تجزیہ کیاگیا، جن میں سے ساڑھے بارہ ہزار افراد میں ملیریا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک تھرپارکر، عمرکوٹ اور خیر پور کے اضلاع ملیریا سے سب سے زیادہ متاثر ہیں جہاں بالترتیب تقریباً دو ہزار، چودہ سو اور سولہ سو مریضوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ تاہم کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے بیشتر اضلاع میں ملیریا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد پانچ سو سے کم ہے۔

ڈاکٹر جمالی کے مطابق خیرپور ضلع تو سیلاب سے متاثرہ ہے اس لیے یہاں ملیریا پھیلنے کا خطرہ موجود تھا مگر تھرپارکر اور عمر کوٹ کے اضلاع سیلاب سے متاثرہ نہیں ہیں یہاں مون سون بارشوں کے بعد ملیریا کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آب پاشی کا نظام ملیریا کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا سبب ہے کیونکہ عام رائے کے برخلاف ملیریا کا مچھر بھی ڈینگی کے مچھر کی طرح صاف پانی میں جنم لیتا ہے اس لیے شہروں میں اس کے پھیلاؤ کے امکانات کم ہوتے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے ملیریا کی روک تھام کے پروگرام کے ڈاکٹر قطب الدین کاکڑ نے بتایا کہ صرف سندھ میں اب تک یونیسیف اور عالمی ادارۂ صحت کے تعاون سے اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد خصوصی مچھردانیاں عوام کو فراہم کی گئی ہیں جن پہ دوا بھی لگی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ مچھر دانیاں مچھروں سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ مچھرمارنے کا کام بھی کرتی ہیں۔

ڈاکٹر کاکڑ کے مطابق ملیریا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خطرہ حاملہ خواتین کو ہوتا ہے اس لیے انہیں اپنا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ ڈاکٹر کاکڑ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو چاہیے کہ اگر انہیں ملیریا ہونے کا شبہہ ہو تو فوراَ َ کسی قریبی ہسپتال سے جاکر اس کا ٹیسٹ کروائیں کیونکہ بروقت تشخیص سے ملیریا کا علاج ممکن ہے۔ ملیریا کے علاج کے لیے ضروری ہے دوا کا مکمل اور صحیح مقدار میں استعمال کیا جائے۔

ڈاکٹر کاکڑ نے کہا کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی سہولتیں موجود نہیں اس لیے وہ پرائیویٹ کلینک میں جاتے ہیں جس سے انہیں نقصان ہوسکتا ہے کیونکہ ملیریا کی تشخیص کے لیے مخصوص کٹ سرکاری ہسپتالوں میں میسر ہے۔

اسی بارے میں