’ججوں کو ایسا پریشان پہلے نہیں دیکھا‘

Image caption سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر لوگ پریشانی کے عالم میں نظر آ رہے تھے

جمعہ کو سپریم کورٹ کے اندر اور باہر رینجرز کے اہلکار تعینات کیے گئے اور وہاں غیر معمولی چہل پہل نظر آئی۔ اس کی وجہ نجی ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی وہ تاحال غیر مصدقہ خبر ہے جس میں کہا گیا کہ حکومت ججوں کی بحالی کا حکم واپس لینے پر غور کر رہی ہے۔

آئینی ماہرین اس پر کیا کہتے ہیں

’چند افراد عدلیہ پارلیمان تناؤ کے پیچھے‘

ججوں کی طویل مشاورت اور پھر پریس ریلیز

’اداروں کو حدود میں رکھنا ہماری ذمہ داری‘

وزیر اعظم پہلے ہی تردید کر چکے ہیں: کائرہ

عدالتی احاطے کے اندر اور باہر پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز کے خصوصی دستے تعینات رہے اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی چہل پہل بھی رہی۔ وکیل اور صحافی بھی بڑی تعداد میں موجود رہے اور عدالتی کارروائی کی لمحہ بہ لمحہ کوریج براہ راست پیش کرتے رہے۔

ججوں کی بحالی کی تحریک کے سرکردہ رہنما علی احمد کرد کو دیکھ کر کچھ نوجوان وکیلوں نے نعرے لگائے کہ ‘عدلیہ کے غداروں کو ایک دھکہ اور دو’۔ بعد میں کچھ وکلا نے اس پر علی احمد کرد سے معذرت بھی کر لی۔

کرد کہتے رہے ہیں کہ ’جس عدلیہ کی بحالی کے لیے انہوں نے قربانی دی تھی یہ وہ عدلیہ نہیں ہے کیونکہ غریب لوگوں کو انصاف آج بھی نہیں مل رہا ہے۔ یہ عدلیہ اور حکومت کی لڑائی کی بات نہیں ہے بلکہ صدر آصف علی زرداری اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی انا کا معاملہ ہے۔‘

جمعہ کو ججوں کی بحالی کا نوٹیفکیشن واپس لینے کی خبروں کے بعد عدالت اعظمیٰ کے تمام تر جج جس پریشانی، اضطراب اور خوف کا شکار نظر آئے ماضی میں شاید ہی کبھی اس کی مثال ملتی ہو۔ ایسی ہی اضطرابی کی کیفیت میں ججوں کے دلچسپ مکالمے بھی سننے کو ملے۔

سینئر وکیل اور سابق وزیر قانون افتخار حسین گیلانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی سپریم کورٹ کے ججوں کو اتنا پریشان، خوف یا اضطراب میں مبتلا نہیں دیکھا جیسا کہ آج نظر آیا ہے۔

ججوں کی پریشانی اور خوف کی جھلک سترہ رکنی بینچ کے کچھ ججوں کے ریمارکس سے بھی عیاں ہوتی ہے۔ جناب جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے دوران سماعت کہا کہ ‘بشمول ہمارے پوری قوم ساری رات جاگتی رہی ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے قوم کو مشکل میں ڈالا ہے۔‘

جب اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق سے عدالت نے کہا کہ وہ وزیراعظم سے تحریری بیان لے آئیں کہ حکومت ججوں کی بحالی کا حکم واپس لینے کا ارادہ نہیں رکھتی اور آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے علاوہ ججوں کو نہیں ہٹایا جائے گا تو اٹارنی جنرل نے کچھ دیر بعد عدالت کو بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم کے سیکریٹری کو فون پر عدالت کی ہدایت سے آگاہ کیا ہے اور انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ایک ملاقات میں ہیں اور جیسے ہی فارغ ہوں گے تو انہیں مطلع کر دیا جائے گا۔

اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ’ہمیں شدید خدشہ ہے کہ ملک میں آئینی طرز حکمرانی کو خطرہ لاحق ہے اور آپ کا ججوں کی بحالی کا حکم واپس نہ لینے کے بارے میں کوئی بیان نہ دینا جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے۔‘

جس پر جناب جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے کہا کہ ’آگ تو وہاں بھڑکتی ہے جہاں سے دھواں اٹھتا ہے۔‘

اپنے لمبے بالوں کی پونی باندھنے والے جناب جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ’میں ٹی وی کے سامنے بیٹھا تھا، چار کلپ دیکھ کر آیا ہوں جس میں ایک میں وزیراعظم پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ایگزیکٹو آرڈر کی پارلیمان نے توثیق نہیں کی ہے۔ میں تو کہتا ہوں ایگزیکٹو آرڈر کی کوئی وقعت ہی نہیں ہے اور یہ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔‘

دنیا کے بیشتر ممالک میں ججز مقدمے سے متعلق مواد پر مبنی خبریں سننے یا پڑھنے تک گریز کرتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ وکیل رہنما علی احمد کرد نے کچھ وقت پہلے کہا تھا کہ ہماری عدلیہ ٹی وی دیکھ کر فیصلے کرتی ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

عدالت میں باری باری جج صاحبان اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے ریمارکس دیتے رہے اور جناب جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ’اگر عدلیہ کو برطرف کیا گیا تو آئین توڑنے کے مترادف ہوگا اور یہ آئین کی شق چھ کے زمرے میں آتا ہے اور اٹارنی جنرل صاحب یہ بات آپ نے ہی وزیراعظم کو بتانی ہے۔‘

عدالت کے طلب کیے جانے پر ’آج نیوز‘، ’جیو‘ اور ’ایکسپریس‘ کے نمائندے اپنی گزشتہ شب نشر کردہ خبروں اور تبصروں کی سی ڈیز لے کر آئے تھے اور بعض پریشاں تھے کہ پتہ نہیں عدالت کیا کہے گی۔ لیکن آخر میں جب نامعلوم سرکاری ذرائع سے ججوں کو ہٹانے اور نوٹیفکیشن واپس لینے کی خبریں نشر کرنے پر جناب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ایک شخص سے رابطہ نہیں کر سکتے۔ یہ خبر جھوٹی نہیں ہے۔ تھینکس ٹو میڈیا۔ انہوں نے بر وقت یہ خبر دی ہے اور ہمیں کیوں میڈیا والے خراب کریں گے ہمیں آپ کریں گے۔‘ ان الفاظ کے بعد چیف جسٹس اپنے ساتھی ججوں کے ہمراہ پیر کی صبح تک سماعت ملتوی کر کے اٹھ گئے۔

بعد میں تین درجن کے قریب وکلا نے ٹی وی کیمروں کے سامنے عمارت کے صدر دروازے پر کھڑے ہوکر چیف جسٹس اور عدلیہ کے حق میں اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔

اسی بارے میں