’ججوں کو ہٹانے کا اقدام آئین توڑنے کے مترادف‘

سپریم کورٹ نے آرڈر پاس کیا ہے کہ ججوں کو اُن کے عہدے سے ہٹانے کا اقدام آئین توڑنے کے مترادف ہو گا اور اس ضمن میں آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کی سترہ رکنی بینچ نے یہ حکم ان خبروں کے حوالے سے سماعت کرتے ہوئے جاری کیا جن کے مطابق حکومت ججوں کی بحالی کا نوٹیفیکیشن واپس لینے پر غور کر رہی ہے جو سولہ مارچ سنہ دو ہزار نو کو جاری کیا گیا تھا۔

آئینی ماہرین اس پر کیا کہتے ہیں

رد عمل ذرا زیادہ تھا: عاصمہ جہانگیر

’چند افراد عدلیہ پارلیمان تناؤ کے پیچھے‘

ججوں کی طویل مشاورت اور پھر پریس ریلیز

’اداروں کو حدود میں رکھنا ہماری ذمہ داری‘

وزیر اعظم پہلے ہی تردید کر چکے ہیں: کائرہ

اس سے قبل جمعہ کو سماعت شروع ہونے پر سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق سے ان خبروں کے حوالے سے حکومت کا موقف طلب کیا جس پر حکومتی انتظامیہ کی اعلیٰ ترین شخصیت کے دستخط ہوں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سترہ رکنی بینچ نے آرڈر میں کہا کہ حکومت کی جانب سے ان خبروں کے حوالے سے کوئی جواب یا وضاحت تحریری طور پر نہیں دی گئی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اٹارنی جنرل سے کہا ہے کہ وہ تمام آئینی اداروں بشمول سربراہ مملکت اور ملک کا چیف ایگزیکٹیو کو عدالت کہ اس حکم سے آگاہ کریں کہ وہ آئین توڑنے کے کسی بھی اقدام کا حصہ نہ بنیں۔

عدالت نے اپنے آرڈر میں وزیر اعظم سے کہا ہے کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقیات کروائیں کہ کون سی شخصیت ایسی خبریں پھیلا رہی ہے اور ایسے عناصر کو منظر عام پر لایا جائے۔

واضح رہے کہ پاکستانی میڈیا میں جمعرات کی شب خبریں آئی تھیں جن کے مطابق حکومت ججوں کی بحالی کا نوٹیفیکیشن واپس لینے پر غور کر رہی ہے۔

ان خبروں کے بعد چیف جسٹس نے دیگر ججوں کے ساتھ سپریم کورٹ میں طویل مشاورت کے بعداس معاملے کی فوری سماعت اعلان کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو جمعہ کی صبح عدالت کےسامنے پیش ہونے کا حکم جاری کیا تھا۔

عدالت نے اپنے آرڈر میں کہا ہے کہ ججوں کی بحالی کے نوٹیفکیشن کا معاملہ سپریم کورٹ کے 31 جولائی 2009 کے فیصلے میں طے کیا جاچکا ہے جس میں 3 نومبر سنہ دوزار سات کے اُس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا اور اس اقدام میں ججوں کو ہٹانے سے متعلق فیصلہ دیا ہے کہ جیسے اعلیٰ کے ججوں کو اُن کے عہدوں سے ہٹایا ہی نہیں گیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ جب بھی عدالت عظمیٰ میں کوئی اہم مقدمہ ہوتا ہے تو اس قسم کی افواہیں گردش کرنا شروع کر دیتی ہیں کہ ججوں کو ہٹایا جارہا ہے۔ عدالت نے اکتوبر سنہ 2007 کا بھی حوالہ دیا جب اُس وقت کے صدر پرویز مشرف کی وردی میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا اور اُس دوران بھی جب اُس وقت کے اٹارنی جنرل ملک قیوم سے پوچھا گیا کہ کیا ملک میں ایمرجنسی نافذ ہور ہی ہے تو انہوں نے ان خبروں کی تردید کی تھی اور پھر بعدازاں 3 نومبر 2007 کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے ججوں کو گھر بھیج دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ نے تین نومبر کے اقدام کی توثیق نہیں کی ہے۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے کہا کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ ججوں کی بحالی کا ایگزیکٹیو آرڈر واپس لیا جارہا ہے اور یہ خبریں میڈیا نے غلط چلائی ہیں۔

سماعت کے دوران بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا اُن کی و زیر اعظم سے ملاقات ہوئی ہے اور اُنہیں سپریم کورٹ کے اس سترہ رکنی بینچ کے تحفظات سے آگاہ کیا ہے جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اُن کی وزیر اعظم سے ملاقات تو نہیں ہوئی البتہ انہوں نے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری سے بات کی ہے اور پرنسپل سیکرٹری نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم اجلاس میں ہیں اور جب وہ فارغ ہوں گے تو اُنہیں بتایا جائے گا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کی طرف سے عدلیہ کے احترام اور اس کی مضبوطی کے لیے باتیں تو بہت ہو رہی ہیں لیکن اُن کے پاس دو منٹ بھی نہیں ہیں کہ وہ تحریری طور پر اس خبر کی تردید کریں۔

بینچ میں شامل جسٹس جاوید اقبال نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ دو نومبر کو اس وقت کی حکومت نے انہیں (جسٹس جاوید اقبال) کو چیف جسٹس بننے کی پیشکش کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ اس قسم کی پیشکش دے سکے گی حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس بینچ میں سے کوئی بھی اس پیشکش کو قبول نہیں کرے گا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ وہ حکومت اس حوالے سے تحریری وضاحت عدالت میں پیش کریں۔ عدالت نے اس درخواست کی سماعت اٹھارہ اکتوبر تک ملتوی کردی۔

اسی بارے میں