کابل دریا کی چھترول

بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کر رہے ہیں۔ زیرِ نظر تحریر اس سلسلے کی تینتالیسوی کڑی ہے۔

جمعرات تیس ستمبر، نوشہرہ

بلوچستان سے خیبر پختون خوا کا رخ کرنے کا سب سے بڑا نفسیاتی فائدہ یہ ہوا ہے کہ مجھے یہ صوبہ رقبے کے اعتبار سے بلوچستان کے زیادہ سے زیادہ دو اضلاع کے برابر محسوس ہورہا ہے۔بلوچستان کی ایک تحصیل سے دوسری تحصیل تک اوسطاً پانچ سے سات گھنٹے کا سفر بھگتنے کے نتیجے میں ذہنی کیفیت یہ ہوچلی ہے کہ جب سائیکل پر کام ہوسکتا ہے تو فور وھیلر کرائے پر لینے کی کیا ضرورت ہے۔بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی کہ پشاور سے نوشہرہ پچاس منٹ اور چارسدہ پچیس منٹ کی ڈرائیو پر ہے ۔پھر بھی آپ انہیں اضلاع کہنے پر مصر ہیں۔

مجھے عادت ہوچلی ہے ایک تحصیل میں دو دن سفر کرنے کی۔اس عادت کے ساتھ اگر میں نے ایک ہی دن میں دو اضلاع کور کرلئے تو پھر شام کے بعد کیا کروں گا۔میرا حال اس فالسے والے کی طرح ہورہا ہے جس کے ٹھیلے پر ایک گاہک آیا اور کہا کہ سب تول دو۔ٹھیلے والے نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ اگر سب فالسے آپ کو دے دیے تو پھر شام تک کیا بیچوں گا۔۔۔۔

بہرحال میں پشاور سے نوشہرہ کی جانب چل پڑا۔پبی سے ذرا پہلے جی ٹی روڈ پر ایک عجیب سی تیز بو نتھنوں میں گھسنے لگی۔ڈرائیور نے کہا یہ سڑی ہوئی گندم اور پولٹری فیڈ ہے۔پانی نے گندم کے گوداموں میں گھس کر ذخیرے کو تباہ کردیا۔پبی نوشہرہ کی تین تحصلیوں میں سے ایک ہے اور ضلع کا کمرشل سینٹر بھی ہے۔

پہلی دفعہ میں انیس سو اٹھانوے میں پبی آیا تھا جب یہاں بارودی سرنگوں کا پتہ چلانے والے جرمن شیفرڈز کی تربیت کرکے انہیں افغانستان بھیجا جاتا تھا۔ان کتوں ( جرمن شیفرڈ کو کتا کہنا مجھے اچھا نہیں لگ رہا) کے انسٹرکٹرز تو پشتو بول رہے تھے مگر شاگردوں کے ساتھ جرمن اصطلاحات میں گفتگو کر رہے تھے۔کیونکہ یہ محض نسلاً ہی جرمن شیفرڈز نہیں تھے بلکہ لائے بھی جرمنی سے گئے تھے۔

میں نے ایک ڈاگ ٹرینر سے کہا تھا کہ شکر کریں آپ کو صرف ایک ہی اضافی زبان سیکھنی پڑی ہے ۔اگر پرتگال ، چین اور انگولا والے اس سینٹر کے لئے کتے عطیہ کردیتے تو سوچیے کیا لسانی منظر ہوتا۔اس ٹرینر نے بڑا مزیدار جواب دیا تھا۔۔کیا ہونا تھا پبی ڈاگ ٹریننگ سنٹر منی یونائیٹڈ نیشن بن جاتا۔جہاں بھانت بھانت کی بولیاں سنائی دیتیں لیکن پلے کسی کے کچھ نہ پڑتا۔۔۔۔۔

پبی میں میری ملاقات ایک میڈیکل سٹور اور ہوٹل کے مالک الیاس خان سے ہوئی۔یہ الیاس خان ان الیاس خان ( بی بی سی والے) کو بھی جانتے ہیں جنہیں میں پہلے سے جانتا ہوں۔انہوں نے بتایا کہ ستائیس اور اٹھائیس جولائی کی درمیانی رات پبی کے قریب داگئی گاؤں میں کچھ لوگوں نے اپنی زمینیں اور گھر بچانے کے لئے وارسک سے آنے والی نہر میں شگاف ڈال دیا اور اس پانی سے آدھا شہر زیرِ آب آگیا لیکن پبی شہر چونکہ اونچائی پر ہے اس لئے پانی ڈھلان کے سبب چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں ٹھہرا۔بعد میں لوگوں نے نہر میں شگاف ڈالنے والوں کا پتہ بھی چلا لیا۔لیکن اس علاقے میں کسی پر ہاتھ ڈالنا کبھی بھی آسان نہیں رہا۔تاہم پبی تحصیل کے نواحی علاقے دریائے کابل کی طغیانی سے ضرور متاثر ہوئے اور لگ بھگ سوا چھ ہزار ایکڑ زرعی زمین زیرِ آب آگئی۔

پبی سے میں نوشہرہ کی جانب بڑھا۔اصل نقصان نوشہرہ تحصیل میں ہی ہوا ۔بلکہ یوں کہیے کہ سیلاب دو ہزار دس کے تعلق سے نوشہرہ کی وہی اہمیت ہے جو آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کے زلزلے کے دوران اسلام آباد کے مارگلہ ٹاورز کی تباہی کو ملی۔اسکی کئی وجوہات ہیں۔ایک یہ کہ نوشہرہ جی ٹی روڈ پر واقع ہے۔دوم صوبائی دارالحکومت سے متصل ہے۔سوم اپنے سائز کے اعتبار سے خاصا گنجان ہے لہذا ایک چھوٹے علاقے میں تباہی کا حجم بہت زیادہ ہے۔چہارم دریائے کابل عین شہر کے درمیان سے گزرتا ہے اور پنجم یہاں ایک نہیں تین تین فوجی چھاؤنیاں ہیں۔چراٹ ، رسالپور اور نوشہرہ۔اور ان میں سے دو چھاؤنیاں رسالپور اور نوشہرہ کینٹ زیرِ آب بھی آ گئیں۔غالباً نوشہرہ سیلاب سے متاثرہ واحد ضلع ہے جہاں فوجی چھاؤنیاں زیرِ آب آئی ہیں۔

اس سبب میڈیا کی توجہ بھی ابتدائی دنوں میں نوشہرہ پر پوری طرح فوکس رہی۔اور یہاں کیمرے کی آنکھ نے جو مناظر فلمائے ان سے دنیا بھر کو جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ سیلاب کے روپ میں کیا بلا آرہی ہے۔لیکن صوبہ سندھ کی انتظامیہ نوشہرہ کی تباہی کے ایک ماہ بعد بھی یہ سمجھتی رہی کہ سیلاب زمین پر نہیں مریخ پر آیا ہے۔اسی سبب سب سے زیادہ تباہی بھی سندھ میں ہوئی۔لیکن میں بھلا سیلابی ریلے میں بہہ کر نوشہرہ سے اچانک سندھ کیوں پہنچ گیا ہوں۔معذرت چاہتا ہوں۔

نوشہرہ کینٹ میں میری ملاقات پیر تاج شاہ سے ہوئی۔سفید لباس، سیاہ ریش مگر روحانی کے بجائے صحافتی آستانہ چلاتے ہیں۔شاید اسی صحافتی روحانیت کے بل پر انہوں نے میرے اور ڈرائیور کے ہونق چہرے دیکھ کر اندازہ لگا لیا کہ ہمیں دوپہر کے کھانے کی سخت ضرورت ہے۔انہوں نے ہم دونوں کو ایک واقف فوٹو گرافر کی دوکان پر بٹھایا اور غائب ہوگئے۔پندرہ منٹ بعد اخبار میں لپٹے چار نان اور ایک پلیٹ گوشت لے کر آئے اور فوٹو گرافر کے شو کیس پر رکھتے ہوئے کہا۔کھائیے۔

بھوکا کیا چاہے دو روٹیاں ۔۔۔

کھانے کے بعد پیر صاحب نے پوچھا کیسے آنا ہوا؟

عرضِ طلب سننے کے بعد پیر صاحب نے مجھ سے پوچھا۔کیا آپ کو نوشہرہ کینٹ کے اس مرکزی چوک پر کسی سیلابی تباہی کے آثار نظر آرہے ہیں۔میں نے کہا ہرگز نہیں۔ہر عمارت صحیع و سالم ہے۔ٹریفک کا اژدہام ہے اور جم کے کاروبار ہورہا ہے۔

اس کے بعد پیر صاحب ہاتھ پکڑ کر مین روڈ کی پچھلی گلی میں لے گئے۔یہ بابو محلہ ہے۔اب آپ آگے چلیے میں پیچھے چلوں گا۔

جیسے ہی میں نے دو گلیاں پار کریں سامنے تباہی کا منظر یوں کھلا جیسے تنگ پہاڑوں کے درمیان سفر کرتے ہوئے اچانک بڑی سی وادی کا منظر کھل جائے۔

پانی کہیں نہیں تھا۔بس ایک کے بعد ایک ملبے کا ڈھیر تھا۔گھروں کا ملبہ، مارکیٹوں کا ملبہ۔اس ملبے کے نیچے دبے ہوئے دروازے، شہتیر، کھڑکیاں، ٹرنک، شو کیس، کپڑے سکھانے کی الگنیاں، ٹوٹی ہوئی واشنگ مشینیں، آدھے دبے ہوئے مرتبان۔ایک دروازے کی چوکھٹ سے جھولتا ہوا پٹ اور دوسرا غائب۔۔ایک مکان کے اندر اتری سیڑھیوں پر بکھرے ہوئے کپڑے ، کٹورہ اور توا۔۔۔کیا کیا بتاؤں ۔۔۔۔

میرا پہلا ردِ عمل یہ تھا کہ یہ بمباری ہوسکتی ہے، زلزلہ ہوسکتا ہے، لشکر کشی ہوسکتی ہے کچھ بھی ہوسکتا ہے۔۔بخدا سیلاب نہیں ہوسکتا۔۔مگر انسان بہت ہی سخت جان شے ہے۔ملبے کے ڈھیروں کے بیچ اکا دکا تعمیراتی کام شروع ہوچکا ہے۔آخر زندگی کو بھی تو کہیں سے شروعات کرنی ہی ہیں۔

مگر ہائے رے سرکاری بد دماغی ۔ایک مارکیٹ کے ملبے کے اونچے ڈھیر پر سبز بورڈ لگا ہوا ہے۔

’یہ جگہ کنٹونمنٹ کی ملکیت ہے۔اگر کسی بھی شخص نے یہاں ناجائز تعمیر یا قبضے کی کوشش کی تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔بحکم ایگزیکٹو آفیسر ، کنٹونمنٹ بورڈ ، نوشہرہ کینٹ‘۔

مجھے یہ بورڈ دیکھ کر کسی دیوار پر لکھی گئی وہ تحریر یاد آگئی۔

’یہاں پیشاب کرنا منع ہے۔خلاف ورزی کرنے والے کو حوالہ پولیس کیا جاوے گا۔بحکم ایس ایچ او تھانہ مغلائی کلاں‘

ہمارے ہاں جنرل سے ایس ایچ او تک اور صدرِ مملکت سے لوئر ڈویژن کلرک تک سب ہی عہدیداروں اور اداروں کا ایک ہی قسم کا تادیبی و انتباہی رویہ کیوں ہے۔کیا اختیاراتی لوگوں کو چابک آمیز کلام ،حکمیہ اپیل یا دھمکی آمیز پیار کے سوا کچھ بھی نہیں سکھایا جاتا۔کیا کامن سنس گھاس چرنے کے علاوہ کسی کام کی بھی نہیں۔

کامن سنس سے یاد آیا کہ کل ہی یہاں نوشہرہ میں سیلاب زدگان میں وطن کارڈز کی تقسیم کے موقع پر بھگدڑ میں اٹھارہ افراد کچلے گئے جن میں سے پانچ کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ہوا یہ کہ وزیرِ اعلی امیر حیدر ہوتی کو نوشہرہ میں وطن کارڈ کے اجرا کا افتتاح کرنا تھا۔اس وطن کارڈ میں بیس ہزار روپے پوشیدہ ہوتے ہیں جنہیں اے ٹی ایم مشین سے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔انتظامیہ نے وطن کارڈ کے افتتاح کا اعلان تو کردیا۔لیکن یہ وضاحت کرنا بھول گئی کہ افتتاحی تقریب میں ایک مخصوص علاقے کے پچاس ساٹھ مستحقین کو ہی کارڈ جاری کئے جائیں گے۔

چنانچہ ایک قریبی گاؤں کی مسجد میں اعلان ہوگیا کہ آج وطن کارڈ ملنے والے ہیں۔یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور ہزاروں لوگ اس عمارت کی جانب دوڑ پڑے جہاں افتتاحی تقریب ہونی تھی۔انہوں نے گیٹ توڑ دیا۔اندر گھس گئے۔لوگ پیروں تلے آکر کچلے جانے لگے اور پھر لاٹھی چارج شروع ہوگیا۔

اس واقعے کے بعد انتظامی افسران کو یاد آیا کہ اوہو۔۔۔اگر مستحقین کے ناموں اور علاقے کا نام اس وضاحت کے ساتھ کردیاجاتا کہ باقی متاثرین زحمت نہ کریں۔انہیں اپنی باری پر بلا کر کارڈز دیے جائیں گے تو اس قدر بدنظمی نہ ہوتی۔۔۔سوری یار ۔۔غلطی ہوگئی۔

تو یہ ہے پالیسی سازوں اور عمال کی انتظامی کامن سنس یا حسنِ تدبیر کا حال۔

اک آدمی کی رہائی سے بھی تو ہوجاتا

جو شہر بھر کی گرفتاریوں کے بعد ہوا

اگر جمال احسانی کا یہ شعر انتظامیہ کی سمجھ میں آجائے تو بات ہی کیا ہے پھر۔

پیر تاج شاہ صاحب نے پوچھا کہ اگر آپ نوشہرہ کلاں دیکھنا پسند کریں تو۔۔۔

اور ہم نوشہرہ کینٹ سے نوشہرہ کلاں کی جانب روانہ ہوگئے۔دریائے کابل اتنی شرافت سے رواں تھا جیسے اس کے ہاتھوں کچھ بھی تو نہیں ہوا۔میں نے پل پر سے گذرتے ہوئے دیکھا کہ اسی دریا کے کنارے اسی کے ہاتھوں بے گھر ہونے والوں کے دس پندرہ خیمے لگے ہوئے تھے۔اور ان پناہ گزینوں کے بچے دریا سے کھیل رہے تھے۔

نوشہرہ کلاں کے محلے عثمان آباد میں فضلِ امین ویلڈر سے ملاقات ہوئی۔اس نے اپنے گھر کی دیوار پر آٹھ فٹ کی اونچائی پر وہ لکیر دکھائی جو پانی چھوڑ گیا تھا۔فضلِ امین نے پوچھا کہ آپ نے شاید کھڑا یا بہتا پانی دیکھا ہوگا لیکن کبھی غراتا اور دھاڑتا پانی دیکھا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔

فضلِ امین نے کہا کہ ہمارے پٹھانوں میں ایک رواج ہے کہ جب پانی کو قرآن دکھاتے ہیں تو وہ اپنا رخ بدل دیتا ہے۔ہم نے اسے سات دفعہ قرآن دکھایا مگر اس کا دھاڑنا کم نہ ہوا۔اندازہ کریں کہ ہم کتنے گناہ گار لوگ ہیں۔ہوسکتا ہے طوفانِ نوح بہت بڑا ہو لیکن ہم نے تو طوفانِ نوح اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔

اسی عثمان آباد میں دوست محمد سے بھی ملاقات ہوئی۔دوست محمد تین روز تک اپنی بیوی، بہو اور پندرہ بچوں اور پوتے پوتیوں کے ساتھ مکان کی چھت پر بیٹھا رہا۔کھانے کو کچھ نہیں تھا۔کبھی کبھار کوئی خربوزہ، تربوز یا سبزی کا پتہ بہتا ہوا آجاتا تھا۔ہم چھت پر بیٹھے بیٹھے ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیتے اور کھا لیتے۔تیسرے روز ایک ہیلی کاپٹر آیا اور میرے سب بچوں کو لے گیا ۔ مجھے چھوڑ گیا۔دو دن بعد جب پانی اترنے لگا تب میں چھت سے اترنے کے قابل ہوا۔محلے کی ایک دوکان کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔اس میں کریانے کا سامان دیواروں سے چپکا ہوا تھا۔اس میں سے دال کے دانے دیوار سے اتار اتار کر میں نے کھائے اور خدا کا شکر ادا کیا۔

جس وقت دوست محمد مجھ سے گفتگو کررہا تھا اس کا بیٹا دیوار پر سفیدی کررہا تھا۔دوست محمد نے بتایا کہ سیلاب کا پانی عجیب سا تھا۔ایک تو اس میں مٹی بہت تھی۔ پھر یہ مٹی دیواروں سے ایسے چپک گئی جیسے موبل آئل چپک جاتا ہے۔چنانچہ اب تک اس دیوار پر ہم سفیدی کے دو کوٹ کرچکے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ تین چار کوٹ اور کرنے ہوں گے۔

گاڑی کا رخ ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن آفیسر علی عنان قمر کے دفتر کی جانب ہوگیا۔راستے میں تباہی کے کئی نشانات پڑے ہوئے ہیں لیکن ایک منظر کمال کا ہے۔جولائی کے تیسرے ہفتے تک انگریزی دور کی ایک محرابی عمارت اس باغ میں کھڑی ہوگی۔اب محرابیں باقی ہیں عمارت کہیں چلی گئی۔

ڈی سی او کے کمرے میں ایک بڑے بورڈ پر یہ تفصیل درج ہے۔

’نوشہرہ ضلع کی تین تحصیلیں ہیں۔پبی، خیر آباد ، نوشہرہ۔آبادی دس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔سیلاب کے سبب بیالیس ہزار چھ سو ایکڑ اراضی زیرِ آب آئی۔جس میں صرف تحصیل نوشہرہ کی اراضی ساڑھے تینتیس ہزار ایکڑ کے لگ بھگ ہے۔چھہتر ہزار سے زائد مکانات ، باسٹھ ہزار سے زائد دوکانیں اور ستر سرکاری عمارات، ستاون کلومیٹر سڑکیں جزوی یا کلی طور پر تباہ ہوگئیں۔چھتیس افراد ہلاک، ایک سو اڑتیس لاپتہ اور ایک ہزار کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔جبکہ سوا سات ہزار مویشی ختم ہوگئے یا بہہ گئے۔ضلعی انتظامیہ ، فوج اور چھیالیس کے لگ بھگ این جی اوز بچاؤ کے مرحلے کے بعد اب بحالی کے عمل میں مصروف ہیں‘۔

میں ڈی سی او کے کمرے میں ایک کونے میں بیٹھا از قسمِ تحریکِ آبادکاری برائے متاثرین سیلاب کے وفد اور ڈی سی او کی گفتگو سنتا رہا۔وفد نے متاثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے کچھ ایسے مطالبات کئے جو غریب ڈی سی او کے بس سے باہر تھے لیکن وہ یہ شکایات/مطالبات نوٹ کرتے رہے۔مثلاً

متاثرین کے املاکی نقصانات کا سروے کرنے والی تین رکنی ٹیم جو ایک ٹیچر، پٹواری اور مقامی ایم پی اے کے نمائندے پر مشتمل ہوتی ہے وہ صرف من پسند لوگوں کے نقصانات کا اندراج کررہی ہے اور اصل متاثرین کو نظرانداز کررہی ہے۔

اور یہ کہ جن منہدم مکانات میں ایک سے زائد خاندان آباد تھے یعنی ماں باپ اور انکے بیٹے ، بہو ، بچے وغیرہ انہیں الگ الگ خاندان تصور کرنے کے بجائے ایک ہی فیملی یونٹ سمجھ کر معاوضے کا تعین کیا جارہا ہے۔

اور یہ کہ جن جن علاقوں میں ایک ایک ہفتے آٹھ آٹھ فٹ پانی کھڑا رہا۔جیسے نوشہرہ کلاں کا علاقہ ۔تو اس پورے علاقے کے تمام مکینوں کو معاوضہ دینے کے بجائے صرف ان چند سو مکانات کو چنا گیا ہے جن کی دیواریں منہدم ہوچکی ہیں۔حالانکہ جن کی دیواریں منہدم نہیں ہوئیں انکی بنیادیں اتنی کمزور ہو گئی ہیں کہ انہیں دوبارہ ڈھا کر تعمیر کرنا ہوگا۔

اور یہ کہ معاوضے کے تعین میں گدھے گھوڑے کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جارہا ہے۔یعنی جس کا پورا گھر گرگیا اسے بھی بیس ہزار روپے اور جس کی ایک دیوار گری اسے بھی بیس ہزار روپے۔

اور یہ کہ وفد کے خیال میں متاثرہ گھروں کی تعریف میں ایسے تمام گھروں کو شامل کیا جائے جن میں بچھی ہوئی چارپائیاں پانی میں ڈوب گئی ہوں۔

اور یہ کہ متاثرین کی حتمی فہرستیں انتخابی فہرستوں کی طرح مشتہر کی جائیں تاکہ ہرکوئی جان سکے کہ کون واقعی متاثر ہے اور کون نہیں اور کس حقیقی متاثر کا نام فہرست میں شامل نہیں ہوسکا۔

ڈی سی او نے یہ تمام گذارشات دھیان سے سنیں اور کہا کہ ان میں سے کچھ مطالبات کا تعلق قومی یا صوبائی حکومت سے ہے اور کچھ کا تعلق نیشنل ڈز آسٹر مینجمنٹ سیل سے ہے۔میں زیادہ سے زیادہ یہ کرسکتا ہوں کہ آپ کے مطالبات اوپر تک پہنچا دوں۔۔۔اور کوئی خدمت میرے لائق۔۔۔تھینک یو ویری مچ ۔۔۔۔۔

نوشہرہ کو تو دریائے کابل نے لٹا لٹا کر مارا لیکن پختون خوا کے سب سے زرخیز ضلع چار سدہ کی تین دریاؤں اور ایک نہر نے مل کر دھنائی کی ہے ۔اور رہی سہی کسر بارشوں نے پوری کردی۔باقی احوال وہیں پہنچ کر بتاؤں گا۔نوشہرہ سے کچھ زیادہ دور نہیں۔بس اگلی گلی ہی میں تو ہے چارسدہ۔۔۔۔

اسی بارے میں