چیئرمین نیب تقرری سپریم کورٹ میں چیلنج

Image caption تقرری ابتداء سے ہی کالعدم قرار دی جائے: چودھری نثار

پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف چودھری نثار نے نیب کے نئے چیئرمین جسٹس (ر) دیدار حسین کی تقرری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

ان کی جانب سے اکرم شیخ ایڈوکیٹ نے سنیچر کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کا عہدہ تین ماہ سے خالی تھا تاہم جب اس پر جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین کا تقرر کیا گیا تو پاکستان مسلم لیگ ن اور دیگر حلقوں کی جانب سے اس پر شدید تنقید کی گئی اور اب مسلم لیگ ن کے رہنما نے اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما اور اور قائد حزب اختلاف چوہدری نثار نے اپنی رٹ پٹیشن میں جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین شاہ کو قومی احتساب بیورو کا چیئرمین مقرر کرنے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس عہدے کے اہل نہیں ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ دیدار حسین حکمران جماعت پیپلز پارٹی میں سرگرمی سے سیاست کرتے رہے ہیں اور وہ دو مرتبہ سندھ کی صوبائی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں لہذا ان کی غیر جانبداری مشکوک ہے۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق چوہدری نثار نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ریٹائرڈ جسٹس دیدار حسین کی تقرری پر ان کے تحفظات دور کرنے کے لیے وزیراعظم یا صدر کی طرف سے ان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس مسئلے پر تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے غور و خوص اور بحث مباحثہ کیا گیا تاکہ موثر اور بامعنی مشاورت کے عمل کی شرط پوری کی جا سکے۔

انہوں نے اپنی درخواست میں مزید کہا ہے کہ اس معاملے پر کسی متفقہ فیصلے پر پہنچنے کے لیے کوئی کوشش بھی نہیں کی گئی۔ درخواست گزار نے کہا ہے کہ دیدار حسین کی نیب کے چیئرمین کے عہدے پر تقرری غیر قانونی، غیر آئینی اور قومی احتساب بیورو کے سنہ انیس ننانوے کے آرڈیننس کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست گذرار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کی تقرری ابتداء سے ہی کالعدم قرار دی جائے۔

خیال رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین کی بطور نیب چیئرمین تقرری کو لاہور اور سندھ ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کیا گیا ہے اور جمعہ کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز احمد نے اس سلسلے میں دائر شدہ رٹ پیٹیشن پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ میں یہ رٹ بیرسٹر اقبال جعفری نے جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین کی بطور چئرمین نیب تقرری کے اگلے ہی روز دائر کر دی تھی۔انہوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ اس تقرری کو کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ بقول ان کے اس تقرری میں میرٹ کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔

اسی بارے میں