’میری بات کا احترام کریں‘

Image caption وزیر اعظم نے کہا کہ اسی طرح سے اگر وہ کسی خبر کی تردید کرتا ہے تو اس منصب کا تقاضا ہے کہ اس بات کو ہر فورم پر تسلیم کیا جائے۔

پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اتوار کی شام کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی بحالی کا حکم نامہ واپس لینے کی غیر مصدقہ خبر کی تردید کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم کوئی بات زبان سے کہے یا قلم سے اس کا احترام ہوتا ہے۔

’اگر وہ زبان سے کہے ججوں کی نظر بندی ختم کی جائے تو پھر انھیں پابند نہیں رکھا جاسکتا۔ اگر وہ معزز جج صاحبان کی بحالی کا اعلان کرے تو اس سے تسلیم کیا جاتا ہے۔‘

وزیر اعظم نے کہا کہ اسی طرح سے اگر وہ کسی خبر کی تردید کرتا ہے تو اس منصب کا تقاضا ہے کہ اس بات کو ہر فورم پر تسلیم کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ اگر کسی ایک ذریعے سے پھیلائی گئی جھوٹی خبر کو وزیر اعظم کے قول پر ترجیح دی جائے گی تو یہ وزیر اعظم کی توہین ہوگی۔

سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ انھوں نے ججوں کی بحالی کا حکم نامہ واپس لینے کی خبر کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے اور اس سے قوم کو معلوم ہوجائے گا کہ کس نے عدلیہ اور حکومت کے تعلقات پر شب خون مارنے کی کوشش کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جب یہ خبر سامنے آئی کہ ایگزیکٹیو آرڈر واپس لیا جارہا ہے تو انہوں نے اسی وقت اس کی تردید کی تھی اور صدر مملکت نے بھی اسے غلط قرار دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر اس کے باجود اس سے تسلیم نہ کیا جائے تو پھر مجھے یاد دلانا پڑے گا کہ ہم باہمی احترام کے اس اصول کو نظر انداز کررہے ہیں جو آئین پاکستان کی روح ہے جو پارلیمانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم آئین کی اس روح کو کبھی نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں اسلیے کسی کو ہم سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ ہماری موجودگی میں ادارے کے مابین کسی تصادم کا امکان ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ملک میں افواہوں کی اتنی حکمرانی ہو اور ان کے مقابلے میں وزیر اعظم کی بات بھی بے وزن ہوجائے تو قوم کو سوچنا چاہیے کہ ہم کس طرف جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر چند میڈیا کے لوگ یہ گواہی دیں کہ تبدیلی کی خبروں کی آڑ میں جوا، سٹا اور دوسرے سماجی جرائم ہورہے ہیں تو پھر سوچنا پڑے گا کے ہم کہاں جارہے ہیں اور یہ کہ ان |خبروں کی آڑ میں سٹاک ایکسچینج اور کاروبار میں عام آدمی کی جمع پونجی ڈبو دی جائے تو قوم کو سوچنا چاہیے کہ اس کا دوست کون ہے اور دشمن کون۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس آئین کا ہم سے تقاضا ہے کہ ہم عوام کی فلاح و بہبود کو ہرکام پر ترجیح دیں۔

سید یوسف رضا گیلانی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت اور عدلیہ مل کر اقدام کریں تو ہم اس ملک کے غریب لوگوں کو انصاف دلاسکتے ہیں، ہم عوام کی غاصب قوتوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں، عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچا سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’ہم اگر فوج کے ساتھ مل کر کام کرسکتے ہیں اگر سیاسی قوتوں کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرسکتے ہیں تو یقیناً عدلیہ کے ساتھ بھی مل کر چل سکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے صورت کوئی بھی ہو ہمیں سوچنا ہوگا کہ حکومت اور عدلیہ مل کر کیسے اس ملک کے عوام کو انصاف کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں عوام کا نمائندہ ہوں اور میں جانتا ہوں کہ آج معاشرہ میں انصاف کی طلب کتنی شدید ہے۔

مسٹر گیلانی نے کہا ہم انتظامی اور عدالتی نظام میں بہتری لاکر عوام کی توقعات پر پورا اتر سکتے ہیں اور عدلیہ اور حکومت کو مل کر قانونی، سماجی اور معاشی انصاف کے لئے کمر بستہ ہونا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’میں اس مقصد کے لئے عدالت کے معزز جج صاحبان کے ساتھ مل بیٹھنے کے لیے تیار ہوں، میں اس کے لیے فورم بنانے کے لیے بھی تیار ہوں۔ اس کے لیے جو تجویز بھی سامنے آئی گی حکومت اس کا خیر مقدم کرے گی۔‘

’بقا کی اس بے معنی جنگ میں ہم مزید اپنی صلاحیتیں اور وقت ضٰائع نہیں کرسکتے۔آئین و دستور، ریاستی اداروں اور ملکی حالات پر ہمارا موقف واضح اور دو ٹوک ہے۔‘

اسی بارے میں