نیب چیئرمین کی تقرری چیلنج

نیب
Image caption نیب کے نئے چیئرمین کی تقرری پر پہلے ہی روز سے تنازعہ ہے

قومی احتساب بیورو کے نئے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین شاہ کی تقرری کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔

اس ضمن میں لاہور کے وکیل بیرسٹر اقبال جعفری نے ایک آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین کی قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے چیئرمین کے عہدے پر تقرری کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

صدر پاکستان آصف علی زرداری نے جسٹس دیدار حسین کی تقرری کے احکامات جاری کیے تھے جس کے بعد وزارت قانون نے ان کی تقرری کے احکامات جاری کیے تھے۔ چیئرمین کا عہدہ لگ بھگ تین ماہ سے خالی پڑا تھا اور سپریم کورٹ نے اس عہدے پر تقرری کے لیے حکومت کو جو مہلت دی تھی وہ ختم ہونے کے قریب تھی۔

لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ بیرسٹر اقبال جعفری نے اپنی درخواست میں یہ اعتراض اٹھایا ہے کہ چیئرمین نیب کی تقرری کرتے ہوئے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور بقول ان کے تقرری کے وقت چیف جسٹس پاکستان اور قومی اسمبلی میں قائد حزب مخالف سے مشاورت کرنا ضروری تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین قومی احتساب بیورو کے پہلے ایسے چیئرمین ہیں جن کا تعلق عدلیہ سے ہے ۔ نیب کا ادارہ سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور میں قائم کیا گیا تھا اور اس کے پہلے چیئرمین بھی ایک جرنیل تھے۔

درخواست گزار وکیل بیرسٹر اقبال جعفری نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین کی تقرری میرٹ سے ہٹ کر سیاسی بنیادوں پر کی گئی ہے۔

پاکستان میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت مسلم لیگ نون نے بھی نئے چیئرمین نیب کی تقرری پر اعتراض کرتے ہوئے اس تقرری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

بیرسٹر اقبال جعفری نے اپنی درخواست میں آئین کی مختلف دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے چیئرمین نیب کے عہدے پر جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین کی تقرری کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کی تقرری کے لیے حکومت کو تیس دنوں کی مہلت دی تھی اور حکومتی درخواست پر سپریم کورٹ نے اس مہلت میں دس دنوں کی توسیع کردی تھی۔

جسٹس دیدار حسین کا تعلق سندھ کے ضلع لاڑکانہ سے ہے اور وہ ہائی کورٹ کے جج بننے سے قبل انیس سو اٹھاسی اور پھر انیس سو نوے میں پیپلز پارٹی کی طرف سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے۔

جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین سندھ ہائی کورٹ کے جج بھی رہے اور پھر انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کر دیا گیا۔ جسٹس دیدار حسین دو ہزار دو میں پنیسٹھ برس کے ہونے پر ریٹائر ہوگئے۔

اسی بارے میں